Published by: Department of Islamic Studies ISSN-2071-8683 Frequency: Biannually Al Qalam April,21-S1

Hits: 247

وقوفِ قرآنی اور تفسیری تنوع

ڈاکٹر محمد اویس*
ڈاکٹر اصغر علی خان**
Quran e karim is prior to all scriptures cause of its verbal and miracle.scripture fo Allah has a quality that if its one word is connected affiliated with before or after, it generates two differint meanings in all two conditions.its meaning enhances by stopping over in every location from both fo them. Nabi akram peace be upon him himself thought his companions (sahabah) knowledge fo waqoof e Quran ( to stop over in different locations of Quran) and forbade some people from stopping owr wrong places and warned them.it depicts thw significans of knowledge of Waqf o Ibtada,the other thing that this knowledge is one of the kinds of uloom e Quran. This article descripws multi dimentional meanings fo Quran e Karim by stopping over different places of Quran.
قرآن کریم کے کلام اللہ ہونے میں کوئی شک اور تردد کی گنجائش نہیں اس لیے کہ اس جیسا کلام نہ کوئی لا سکا ہے اور نہ لا سکے گا۔جتنے بھی انبیاء علیہم السلام تشریف لائے سب کو وہی معجزات دیئے گئے جن میں اُن کی قوم حدِ کمال تک پہنچی ہوئی تھی مثلاً حضرت موسیٰؑ کی قوم سحر اور جادوگری میں یدِطولیٰ رکھتی تھی چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کواسی قسم کے دو معجزے عطا فرمائے۔ایک یہ کہ بغل مبارک میں ہاتھ ڈال کر نکالتے تو وہ چمک اُٹھتا اور دوسرا عصا زمین پر پھینکتے تو وہ سانپ بن جاتا ۔اسی طرح حضرت عیسٰی ؑ کی قوم میں طبّ مقامِ عروج پر تھی تو آپ ؑ کومردہ زندہ کردینے اور بیمار کو تندرست کردینے کا معجزہ عطا کیا گیا ۔اس طرح حضرت محمدصلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم جس ارض مقدسہ پر تشریف لائے وہاں کے رہنے والے زبان دانی میں معروف تھے اور اپنے علاوہ دوسرے لوگوں کو عجمی یعنی گونگے کہتے تھے ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم پر قرآن کریم نازل فرما کر تمام فصحاء وبلغائے عرب کو اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز کردیا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس تحدی کو یوں بیان فرمایا:
قُل لَّءِنِ اجْتَمَعَتِ الإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَی أَن یَأْتُواْ بِمِثْلِ ہَذَا الْقُرْآنِ لاَ یَأْتُونَ بِمِثْلِہِ وَلَوْ کَانَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ ظَہِیْراً۔۱؂
* لیکچرار،شعبۂ علومِ اسلامیہ، گورنمنٹ اسلامیہ کالج، سول لائنز،لاہور۔
** اسسٹنٹ پروفیسر،شعبۂ علومِ اسلامیہ،میر پور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، آزاد کشمیر۔
کہہ دو اگر سب انسان اور جن اس کام کے لیے جمع ہوجائیں کہ اس قرآن کی مثال لے آئیں تو پھر بھی اس جیسا قرآن نہیں لاسکیں گے اگرچہ ایک دوسرے کے مدد گار بن جائیں۔
اس کے بعد پوری کتاب کی جگہ دس سورتیں پیش کرنے کا چیلنج کیا۔
أَمْ یَقُولُونَ افْتَرَاہُ قُلْ فَأْتُواْ بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِہِ مُفْتَرَیَاتٍ وَادْعُواْ مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللّہِ إِن کُنتُمْ صَادِقِیْنَ۔۲؂
کیا یہ کہتے ہیں کہ بنا لیا ہے اس نے اپنی طرف سے یہ قرآن ۔کہہ دیجیے کہ پھر تم بھی لے آؤ دس سورتیں اس جیسی جو بنائی گئی ہوں اور بلالو مدد کے لیے جس کو بھی بلا سکتے ہو اگر تم سچے ہو۔
پھر فرمایا چلو دس سورتیں نہ سہی ایک ہی سورت بنا کر لے آؤ۔
أَمْ یَقُولُونَ افْتَرَاہُ قُلْ فَأْتُواْ بِسُورَۃٍ مِّثْلِہِ وَادْعُواْ مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللّہِ إِن کُنتُمْ صَادِقِیْن۔۳؂
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس قرآن کو اپنی طرف سے بنایا ہے ۔کہو کہ تم بھی بنا لاؤ اس جیسی ایک سورت اور اللہ کے سوا جس کو بھی بلا سکتے ہو بلا لو اگرتم سچے ہو۔
تمام فصحاء و بلغائے عرب کہ جن کو اپنی زبان دانی پر ناز تھا وہ قرآن کریم کی ایک سورت جیسی سورت بھی پیش نہ کرسکے۔اس وجہ سے کہ قرآن اپنے الفاظ اور معانی کے اعتبار سے معجزہ ہے۔یعنی قرآن کریم اپنے کلمات کی فصاحت،اپنے نظم کلام کی بلاغت اور اپنے معانی ومفاہیم کے گہرائی کے لحاظ سے بے نظیر اور بے مثال ہے۔ 
اسی طرح قرآن کریم کا ایک معنوی اعجاز یہ بھی ہے کہ اس میں متعدد مقامات ایسے ہیں کہ جہاں وقف کرنے سے معنی میں تنوع پیدا ہوتا ہے۔یہ کلام اللہ کا خصوصی امتیاز ہے کہ اس کے ایک لفظ کو خواہ آخرِ کلام سے ملا لو یا اول سے ہر حال میں عجیب اور متنوع معنی پیدا ہوتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر ایک مقام پر وقف کرنے سے معنی میں حسن پیدا ہوتا ہے۔اس سے قرآن کے الفاظ اور معنی کی بلاغت کا اندازہ ہوتا ہے جو اس چیز کی واضح دلیل ہے کہ یہ کسی بشر کا کلام نہیں ۔
ذیل میں قرآن کریم کے چندایسے مقامات کی تفصیل بیان کی جاتی ہے جہاں وقف کرنے سے معانی میں تنوع پیدا ہوتا ہے۔ 
(۱)ذَلِکَ الْکِتَابُ لاَ رَیْْبَ فِیْہِ ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْن۔ ۴؂
یہ کتاب ایسی ہے جس میں کوئی شبہ نہیں راہ بتلانے والی ہے خدا سے ڈرنے والوں کو۔ 
اس آیت میں دو کلموں (لاَ رَیْْبَ)اور(فِیْہِ) پروقف ہے۔ان میں سے ہر ایک پر وقف درست ہے۔
(لاَ رَیْْبَ) پر وقف اس صورت میں ہوگا کہ اگر(ہُدًی) ( فِیْہِ) کی وجہ سے مرفوع ہویا پھر (ہُدًی)مبتداء مؤخر ہو اور (فِیْہ) اس کی خبرمقدم ہو۔اس صورت میں تقدیر عبارت یوں ہوگی (ذالک الکتاب لا ریب فیہ فیہ ھدًی للمتقین)اور (لاَرَیْْبَ) پر وقف تام ہوگا۔اور اگر (لا) کی خبر مخذوف ہوجیسے (لا ضَیْر) میں اور ( فِیْہِ) (ہُدًی) کی خبر ہوجو کہ (ہُدًی) کے نکرہ ہونے کی وجہ سے اس پر مقدم ہو۔اس توجیہہ کی صورت میں (لاَ رَیْْبَ) پر وقف کافی ہوگا۔ اور معنی یہ ہوں گے یہ کتاب اس میں کوئی شک نہیں اس میں متقیوں کے لیے ہدایت ہے۔۵؂ 
اور( فِیْہ) پر وقف اس صورت میں ہوگاکہ اگر (ہُدًی) (ھو )مضمر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہو۔علامہ ابن انباری ؒ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں ( فِیْہِ) پروقف بہت عمدہ ہوگا۔لیکن تام نہیں ہوگا اس لیے کہ (ہُدًی) مرفوع ہونے کی وجہ سے ماقبل سے متعلق ہے۔علامہ اشمؤنی ؒ فرماتے ہیں کہ اگر (ہُدًی)کو مبتداء اور اس کی خبر کو مخذوف خیال کیا جائے تو پھر ( فِیْہِ) پر وقف تام ہوگا۔ ۶؂
( فِیْہِ)پر وقف کی صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ اس کتاب میں کوئی شک وشبہ نہیں یہ ڈرنے والوں کے لیے ہدایت ہے۔یہاں ہر دو مقام پر وقف کرنے سے دو مختلف معنی پیدا ہوتے ہیں۔
(۲)وَلَتَجِدَنَّہُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَی حَیَاۃٍ وَمِنَ الَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ یَوَدُّ أَحَدُہُمْ لَوْ یُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَۃٍ وَمَا ہُوَ بِمُزَحْزِحِہِ مِنَ الْعَذَابِ أَن یُعَمَّرَ وَاللّہُ بَصِیْرٌ بِمَا یَعْمَلُون۔۷؂
اور آپ انہیں زندگی پر حریص سب لوگوں سے بڑھ کر پائیں گے (یہاں تک کہ) مشرکوں سے بھی بڑھ کر۔ ان میں سے ایک ایک یہ چاہتا ہے کہ ہزار (ہزار) برس کی عمر پائے حالانکہ اتنی عمر وہ پا بھی جائے تو یہ( امر) ا سے عذاب سے تو نہیں بچا سکتا ۔اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔ 
امام نافع مدنی ؒ کے نزدیک (وَلَتَجِدَنَّہُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَی حَیَاۃٍ ) پر وقف تام ہے اس لیے کہ ان کے نزدیک ( یَوَدُّ أَحَدُہُم) جملہ (وَمِنَ الَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ) سے حال بن رہا ہے اور یہ بھی درست ہے کہ (وَمِنَ الَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ) خبر مقدم مرفوع کی جگہ پر ہو تو پھر تقدیر عبارت یوں ہوگی (ومن الذین اشرکوا قوم یود أحدھم لو یعمر الف سنۃ)اس صورت میں (وَلَتَجِدَنَّہُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَی حَیَاۃٍ) پر وقف تام ہوگا۔۸؂ 
چنانچہ (وَلَتَجِدَنَّہُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَی حَیَاۃٍ) پر وقف کرنے کی صورت میں معنی یہ ہوگاکہ آپ لوگوں میں سب سے زیادہ انہیں زندگی پر حریص پائیں گے اور مشرکوں کی حالت تو یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک ہزار سال جینے کی تمنا کرتا ہے۔
حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ،ابو العالیہ اور جمہور مفسرین کے نزدیک یہاں (وَلَتَجِدَنَّہُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَی حَیَاۃٍ) سے مراد یہود ہیں۔اور (وَمِنَ الَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ) سے مراد مجوس ہیں جن کا سلام ہی زی ہزار سال یعنی جیو ہزار سال ہے جب یہ لوگ اپنے بادشاہوں سے مصافحہ کرتے یا ان میں سے کسی کو چھینک آتی تو بطور تحیہ و سلا م (زی ہزار سال )کہتے ۔ ۹؂ 
مگر اکثر اہل علم کی رائے یہ ہے کہ (ٍ وَمِنَ الَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ) پر وقف ہوگا ۔اخفش اور فرّاء کے ہاں یہاں وقف تام اور امام ابو حاتم کے نزدیک وقف کافی ہے۔ ۱۰؂ 
اس صور ت میں ترکیب یہ ہوگی کہ (وَمِنَ الَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ) کا عطف (لنَّاسِ) پر ہوگااور تقدیر عبارت یوں ہوگی (احرص الناس وحرص من الذین اشرکوا)اس ترکیب کے اعتبار سے اللہ تعالی کے قول (یَوَدُّ أَحَدُہُمْ) کے مصداق صرف یہودہوں گے۔یہ لوگ زندگی پر اس قدر حریص ہیں کہ مشرکوں سے بھی زیادہ جن کا سلام ہی جیو ہزارسال ہے۔۱۱؂ 
اس صورت میں معنی یہ ہوگا ۔اورآپ ان(یہود )کو زندگی پر سب لوگوں سے بڑھ کر حریص پائیں گے یہاں تک کہ مشرکوں سے بھی بڑھ کر ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ ہزار برس کی عمر پائے۔ 
پہلی صورت میں (یَوَدُّ أَحَدُہُمْ) کا تعلق مجوس کے ساتھ تھا اور دوسری صورت میں اس کا تعلق یہود کے ساتھ ہوگیا۔جس کی وجہ سے دو متنوع معنی صادر ہوئے۔
(۳)یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْْرٍ مُّحْضَراً وَمَا عَمِلَتْ مِن سُوَءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَیْْنَہَا وَبَیْْنَہُ أَمَداً بَعِیْداً وَیُحَذِّرُکُمُ اللّہُ نَفْسَہُ وَاللّہُ رَؤُوفُ بِالْعِبَاد۔۱۲؂ 
جس روز ہر شخص اپنے ہر نیک عمل کو سامنے لایا ہوا پائے گا اور( اسی طرح)ہر برُے کام کو بھی،(اس روز)وہ تمنا کرے گا کہ کاش اس شخص اور اس دن کے درمیان مسافت بعید ہوتی اور اللہ تم کو اپنی ذات سے ڈراتا ہے اور اللہ اپنے بندوں پر بڑا شفقت کرنے والا ہے۔
امام نافع کے نزدیک (مُّحْضَراً) پروقف تام اور امام دانی ؒ کے نزدیک وقف کافی ہے اگر (وَمَا عَمِلَتْ مِن سُوَء) کے (َما) موصولہ کو مبتداء اور (تَوَدُّ) کو اس کی خبر بنایا جائے ۔۱۳؂ 
اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہوں گے کہ جس روز ہر شخص اپنے ہر نیک عمل کو سامنے لایا ہو پائے گا۔جس شخص نے برے کام کئے ہوں گے وہ تمنا کرے گا کہ کاش اس کے اور اس دن کے درمیان مسافت بعید ہوتی ۔ 
اس آیت میں(وَمَا عَمِلَتْ مِن سُوَء) کے (مَا) کو شرطیہ اور (تَوَدُّ)کو جواب شرط بنانا جائز نہیں اس کو کسی نے بھی رفع کے علاوہ نہیں پڑھا اگر (مَا)شرطیہ ہوتا تو (تَوَدُّ) پر جزم ہوتی اور اگر کسی مخذوف کو مقدر تسلیم کرنے کا خیال کیا جائے یعنی( فھی تودّ) یا بصورت مرفوع تقدیم کی نیت ہو تو یہ جواب کے لیے دلیل ہو گی نہ کہ نفس جواب ہو گا۔تو اس صورت میں مضمر اپنے ظاہر پر مستثنیات کے علاوہ میں مقدم ہوجائے گا جو کہ جائز نہیں۔۱۴؂ 
اگر (وَمَا عَمِلَتْ مِن سُوَء) کا(مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْْر) پر عطف ہو تو (مُّحْضَرا)پر وقف نہیں کیا جائے گا بلکہ ( وَمَا عَمِلَتْ مِن سُوَء) پر وقف ہوگا۔اور (تَوَدُّ)جملہ مستأنفہ ہوگا۔۱۵؂ 
اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ جس دن ہر شخص اپنے نیک عمل کو سامنے لایا ہوا پائے گا اور جو براعمل کیا ہے اس کو بھی اپنے سامنے موجود پائے گاتو وہ تمنا کرے گا کہ کاش اس کے شخص اور اس دن کے درمیان مسافت بعید ہوتی۔ 
(۴)یَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَۃٍ مِّنَ اللّہِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللّہَ لاَ یُضِیْعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ۔الَّذِیْنَ اسْتَجَابُواْ لِلّہِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَا أَصَابَہُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِیْنَ أَحْسَنُواْ مِنْہُمْ وَاتَّقَواْ أَجْرٌ عَظِیْم۔۱۶؂
وہ لوگ خوش ہو رہے ہیں اللہ کے انعام اور اس پرکہ اللہ ایمان والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا جن لوگوں نے اللہ اور رسول کے کہنے کو مان لیا بعد اس کے کہ انہیں زخم لگ چکا تھا ان میں سے جو جو نیک اور متقی ہیں ان کے لیے اجر عظیم ہے۔
یہاں(أَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ)پر وقف تام ہے اگر (الَّذِیْنَ ) کو مبتداء کی وجہ سے مرفوع پڑھا جائے اور مابعد کو اس کی خبر بنا دیا جائے یا اس کو مبتداء مخذوف کی خبر بنا دیا جائے تو اس صورت میں تقدیر عبارت یوں ہوگی (ھم الذین استجابوا)۱۷؂ 
اس ترکیب پر مطلب یہ ہو گا کہ وہ لوگ اللہ تعالی کے انعام اور فضل پر خوش ہو رہے ہیں اور اس پر بھی کہ اللہ تعالی ایمان والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔۱۸؂
اگر جملہ (الَّذِیْنَ اسْتَجَابُواْ) کو مومنین کی صفت بنایا جائے تو (الْقَرْحُ) پر وقف ہوگا ۔
امام بغوی ؒ فرماتے ہیں کہ جملہ (الَّذِیْنَ اسْتَجَابُواْ لِلّہ) مومنین کی صفت ہے لہذا (الْقَرْحُ) پر کلام تام ہوگا اور پھر (لِلَّذِیْنَ أَحْسَنُوا) سے ابتداء ہوگی ۔۹ ۱؂
اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ وہ لوگ اللہ تعالی کے انعام اور فضل پر خوش ہو رہے ہیں اور اس پر بھی کہ اللہ ایمان والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا(نیز)جن لوگوں نے اللہ اور رسول کی بات کو مان لیا زخم لگ چکنے کے بعد ۔ان میں سے جو جو نیک اور متقی ہیں ان کے لیے اجر عظیم ہے۔ 
(۵)فَبَعَثَ اللّہُ غُرَاباً یَبْحَثُ فِیْ الأَرْضِ لِیُرِیَہُ کَیْْفَ یُوَارِیْ سَوْء ۃَ أَخِیْہِ قَالَ یَا وَیْْلَتَا أَعَجَزْتُ أَنْ أَکُونَ مِثْلَ ہَذَا الْغُرَابِ فَأُوَارِیَ سَوْء ۃَ أَخِیْ فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِیْن۔مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ کَتَبْنَا عَلَی بَنِیْ إِسْرَاءِیْلَ أَنَّہُ مَن قَتَلَ نَفْساً بِغَیْْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِیْ الأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعاً وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعاً۔۲۰؂
اس پر اللہ نے ایک کوّے کو بھیجا جو زمین کو کھودتا تھا تاکہ اسے دکھا دے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کس طرح چھپائے (یہ دیکھ کر)وہ بولا ہائے میری کمبختی کہ میں اس سے بھی گیا گزرا ہوا کہ اس کوّے ہی کے برابر ہوتا اور اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا غرض وہ (بہت ہی)شرمندہ ہوا۔اسی باعث ہم نے بنی اسرئیل پر یہ مقرر کر دیا کہ جو کوئی کسی کو کسی جان کے (عوض کے )یا زمین پر فساد کے (عوض کے )بغیر مار ڈالے تو گویا، اس نے سارے آدمیوں کو مار ڈالا اور جس نے ایک کو بچالیا ، تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو بچالیا ۔
اللہ تعالی کے اس قول میں (مِنَ النَّادِمِیْن)پر جمہور علماء کے نزدیک وقف تام ہے اور امام نافعؒ سے (مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ) پر وقف مروی ہے۔۲۱؂
علامہ ابن انباری ؒ فرماتے ہیں کہ (مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ)پر وقف بہتر نہیں کیونکہ (مِنْ) (کَتَبْنَا)کا صلہ ہے گویا کہ فرمایا گیا (من أجل قتل قابیل ھابیل کتبنا علی بنی اسرائیل )یعنی قابیل کے ہابیل کو قتل کرنے کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر مقرر کیا۔لہذا صلہ پر موصول کے بغیروقف کرنا درست نہیں۔اور اگر کوئی شخص (مِنْ) کو (النَّادِمِیْن) کا صلہ قرار دے یا پھر (مِنْ)کو(فَأَصْبَحَ) کا صلہ بنائے اس تقدیر پر( فأصبح من أجل قتلہ أخاہ من النّادمین )یعنی و ہ اپنے بھائی کو قتل کرنے کی وجہ سے شرمندہ ہوا ۔تو(مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ)پر وقف جائزہے۔۲۲؂ 
(مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ)پر وقف کرنے کی صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ وہ اپنے بھائی کو قتل کرنے کی وجہ سے نادم ہوا۔
مفسرین نے (فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِیْن) کی تفسیر میں چار اقوال ذکر کئے ہیں۔
(۱)حسین بن فضل فرماتے ہیں کہ وہ اپنے بھائی کے قتل پر شرمندہ نہیں ہواتھا ۔اگر وہ اس کے قتل پرشرمندہ ہوا ہوتا تو یہ اُس کی توبہ ہوتی اور حدیث یہ ہے کہ (التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ)یعنی توبہ کرنے والا ایسے ہے گویا کہ اس نے کوئی گناہ نہیں کیا ۔لہذا اس کی شرمندگی اس فعل پر ہوگی نہ کہ بھائی کے قتل پر ہوگی ۔ ۲۳؂ 
(۲)وہ اپنے بھائی کو طویل مدت تک اٹھائے رکھنے پر شرمندہ ہوا۔۲۴؂ 
(۳)وہ اس وجہ سے شرمندہ ہوا کہ بھائی کو قتل کرنے کے بعد چھپا نہ سکا۔۲۵؂
(۴)وہ بھائی کے جداہوجانے اور کھو جانے پر شرمندہ ہوا۔ ۲۶؂ 
علامہ اشمؤنی نے لکھا ہے کہ دونوں مقامات پر وقف کرنا جائز ہے مگر (مِنَ النَّادِمِیْن)پر وقف عمدہ اور احسن ہے۔کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ جب دو وقف اکٹھے آجائیں تو پھر ان میں سے احسن پر وقف کیا جاتا ہے اور دونوں کو جمع نہیں کیا جا تا۔ ۲۷؂ 
(۶)یَا أَیُّہَا الرَّسُولُ لاَ یَحْزُنکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُونَ فِیْ الْکُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُواْ آمَنَّا بِأَفْوَاہِہِمْ وَلَمْ تُؤْمِن قُلُوبُہُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ ہِادُواْ سَمَّاعُونَ لِلْکَذِبِ سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آخَرِیْنَ لَمْ یَأْتُوکَ یُحَرِّفُونَ الْکَلِمَ مِن بَعْدِ مَوَاضِعِہِ یَقُولُونَ إِنْ أُوتِیْتُمْ ہَذَا فَخُذُوہُ وَإِن لَّمْ تُؤْتَوْہُ فَاحْذَرُواْ وَمَن یُرِدِ اللّہُ فِتْنَتَہُ فَلَن تَمْلِکَ لَہُ مِنَ اللّہِ شَیْْئاً أُوْلَءِکَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّہُ أَن یُطَہِّرَ قُلُوبَہُمْ لَہُمْ فِیْ الدُّنْیَا خِزْیٌ وَلَہُمْ فِیْ الآخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْم۔۲۸؂
اے نبی آپ کو وہ لوگ رنج میں نہ ڈالیں جو دوڑ دوڑ کر کفر میں پڑتے ہیں (خواہ)ان میں سے ہوں جو اپنے منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے حالانکہ ان کے دل ایمان نہیں لائے (خواہ)ان میں سے ہوں جو یہودی ہیں جھوٹ کے بڑے سننے والے دوسرے لوگوں کی خاطر جو آپ کے پاس نہیں آتے۔کلام کو اس کے صحیح موقعوں سے بدلتے رہتے ہیں کہتے رہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ ملے تو قبول کر لینا اور اگر یہ نہ ملے تو اس سے احتیاط رکھنااور جس کے لیے اللہ ہی کو گمراہی منظور ہو تو اس پر تیرا زور اللہ کے مقابلے میں کچھ نہیں چل سکتا یہی لوگ وہ ہیں جن کے لیے اللہ کو منظورنہ ہوا کہ ان کے دلوں کو پاک کرے ان کے لیے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں بھی عذاب ہے۔ 
امام دانیؒ کے نزدیک(وَلَمْ تُؤْمِن قُلُوبُہُمْ) پروقف کافی ہے اگر (سَمَّاعُون) مبتداء ہونے کی وجہ سے مرفوع ہو اور اس کا ماقبل اس کی خبر بن جائے یعنی (من الذین ھادوا قوم سمّعون )یہ موصوف کو حذف کرکے صفت کو اس کے قائم مقام لانے کے قبیل سے ہے اس صورت میں (وَمِنَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا) پر وقف نہیں ہوگا۔۲۹؂
امام فرّاء کے ایک قول کے مطابق اس صورت میں یہاں وقف تام ہے۳۰؂جبکہ علامہ اشمؤنی ؒ نے اس مقام پر وقف حسن قرار دیا ہے۔ ۳۱؂ 
اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ اے نبی آپ کو وہ لوگ رنج میں نہ ڈالیں جو دوڑ دوڑ کر کفر میں پڑتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے حالانکہ ان کے دل ایمان نہیں لائے ۔اور یہودیوں میں سے کچھ لوگ جھوٹ کے بڑے سننے والے ہیں۔
اوراگر (وَمِنَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا) (مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوا) پر معطوف ہو تو (وَمِنَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا)پر وقف ہوگااور (سَمَّاعُونَ) سے ابتداء کی جائے ۔ابن النحاس کے نزدیک اس صورت میں یہاں وقف تام ہے جبکہ امام دانی کے نزدیک وقف کافی ہے۔ ۳۲؂ 
(وَمِنَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا) پر وقف کرنے کی صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ منافقین اور یہود میں سے جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں وہ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کو غمگین نہ کریں ۔پھر اس کے بعد دونوں گروہوں کی یہ صفت بیان ہوئی( سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آخَرِیْن)دونوں صورتوں میں وقف جائز ہے۔
علامہ اشمؤنی ؒ فرماتے ہیں کہ پہلی صورت میں وقف احسن اور عمدہ ہے۔کیونکہ تحریف یہود کے ساتھ خاص ہے۔۳۳؂ 
(۷)واَسْأَلْہُمْ عَنِ الْقَرْیَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ حَاضِرَۃَ الْبَحْرِ إِذْ یَعْدُونَ فِیْ السَّبْتِ إِذْ تَأْتِیْہِمْ حِیْتَانُہُمْ یَوْمَ سَبْتِہِمْ شُرَّعاً وَیَوْمَ لاَ یَسْبِتُونَ لاَ تَأْتِیْہِمْ کَذَلِکَ نَبْلُوہُم بِمَا کَانُوا یَفْسُقُون۔۳۴؂
اور آپ ان سے اس بستی (والوں)کی بابت دریافت کیجیے جوسمندر کے کنارے تھی جبکہ وہ سبت کے بارہ میں (احکام سے) تجاوزکررہے تھے (اور )جبکہ ان کے سبت کے روز تو ان کی مچھلیاں ظاہر ہوتی تھیں اور جب سبت نہ ہوتا تو نہ آتیں ہم نے ان کی آزمائش اس طرح دی ،اس لیے کہ وہ نافرمانی کررہے تھے۔ 
امام اخفشؒ ،امام نافع ؒ اور ابوعبد اللہ کے نزدیک(لاَ تَأْتِیْہِم) پر وقف تام ہے۔جبکہ امام دانی ؒ کے نزدیک وقف کافی ہے۔اور (کَذَلِکَ) جملہ مستأنفہ ہے۔ ۳۵؂ 
اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ اور آپ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم ان سے اس سے بستی کے بارے میں دریافت کیجیے۔جبکہ وہ سبت کے بارے میں احکام سے تجاوز کررہے تھے اور جبکہ ان کے سبت کے روز مچھلیاں ظاہر ہوتی تھیں اور جب سبت نہ ہوتا تو نہ آتیں ہم نے ان کی آزمائش اسی طرح کی ،اس لیے کہ وہ نافرمانی کررہے تھے۔
اور(کَذَلِکَ)پر وقف اس لیے ہوگاکہ ہفتہ والے دن کی بہ نسبت دیگر ایام میں مچھلیاں بہت کم نمودارہوتی تھیں ۔ چونکہ تشبیہ پورے کلام سے ہوتی ہے لہذا (کَذَلِکَ) پر وقف کیا جائے گا۔ ابن مجاہد فرماتے ہیں کہ ان پر ہفتے کے دن شکار کرناحرام تھا۔اس دن مچھلیاں سر نکال نکال کر سطح آب پر نمودار ہوجاتی تھیں۔جبکہ دیگر ایام میں لوگ انہیں تلاش کرتے تھے۔لہذا اللہ تعالی فرمان (کَذَلِکَ)کا مطلب یہی ہے کہ مچھلیاں ہفتہ کے دن کی طرح ظاہر نہیں ہوتی تھیں۔چنانچہ (کَذَلِکَ) پرکلام تام ہوجاتا ہے۔(نَبْلُوہُم) سے جملہ مستأنفہ شروع ہوتا ہے۔ ۳۶؂ 
(۸)قُل لاَّ أَمْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفْعاً وَلاَ ضَرّاً إِلاَّ مَا شَاء اللّہُ وَلَوْ کُنتُ أَعْلَمُ الْغَیْْبَ لاَسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْْرِ وَمَا مَسَّنِیَ السُّوءُ إِنْ أَنَاْ إِلاَّ نَذِیْرٌ وَبَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُؤْمِنُون۔۳۷؂ 
آپصلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کہہ دیجئے کہ میں اپنی ہی ذات کے لیے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھنا اور نہ کسی ضرر کا مگر اتنا جتنا اللہ چاہے اور اگر میں غیب کو جانتا رہتا تو (اپنے لیے)بہت سانفع حاصل کر لیتا اور کوئی مضرت مجھ پرواقع نہ ہوتی۔ میں تو محض ڈرانے ولا اور بشارت دینے والاہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں۔ 
یہاں دو احتمال ہیں ۔ایک یہ کہ جملہ (وَمَا مَسَّنِیَ السُّوء ) (لاَسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْْر)پر معطوف ہے۔جس کی وجہ سے (الْخَیْْرِ)پر وقف تام ہے۔اور اگر(لَوْ) شرطیہ کا جواب صرف (لاَسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْْر) کو بنایا جائے تو (الْخَیْْر)پر وقف تام ہوگا۔اور (وَمَا مَسَّنِیَ السُّوء) جملہ مستأنفہ ہوگا۔۳۸؂ 
مؤرج السدوسی فرماتے ہیں کہ دوسری تاویل اللہ تعالی کے اس قول (أَوَلَمْ یَتَفَکَّرُواْ مَا بِصَاحِبِہِم مِّن جِنَّۃٍ إِنْ ہُوَ إِلاَّ نَذِیْرٌ مُّبِیْن)(الاعراف۷:۱۸۴)(کیا ان لوگوں نے اس بات پر غورنہ کیا کہ ان کے ساتھی کو ذرا بھی جنون نہیں وہ تو صرف ایک صاف صاف ڈرانے والے ہیں)کی وجہ سے راجح ہے۔ ۳۹؂ 
امام حسن بصری ؒ فرماتے ہیں اللہ تعالی کے قول (وَمَا مَسَّنِیَ السُّوء) سے مراد (ما بی جنون)ہے یعنی میں دیوانہ نہیں ہوں۔ ۴۰؂ 
چنانچہ پہلی توجیہہ کے اعتبار سے وقف کرنے کی صورت میں معنی یہ ہوگاکہ آپصلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کہہ دیجئے کہ میں اپنی ہی ذات کے لیے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر کا مگر انتا جتنا اللہ چاہے اور اگر میں غیب کو جانتا ہوتا تو اپنے لیے بہت سا نفع حاصل کر لیتا۔اور کوئی نقصان مجھ کو لاحق نہ ہوتا ۔میں تو محض ڈرانے والا اوربشارت دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں۔ 
دوسری صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ اگر میں غیب کو جانتا ہوتا تو بہت سا نفع حاصل کر لیتا ۔میں دیوانہ نہیں ہوں ۔میں تو صرف ڈرانے والا اور خوشخبری سنانے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں۔
(۹) وَإِذْ أَخَذَ رَبُّکَ مِن بَنِیْ آدَمَ مِن ظُہُورِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ وَأَشْہَدَہُمْ عَلَی أَنفُسِہِمْ أَلَسْتَ بِرَبِّکُمْ قَالُواْ بَلَی شَہِدْنَا أَن تَقُولُواْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِنَّا کُنَّا عَنْ ہَذَا غَافِلِیْن۔۴۱؂
اور جبکہ آپصلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کے رب نے آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارارب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کہ کیوں نہیں ہم سب گواہ بنتے ہیں تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہنے لگو کہ ہم تو ان سے محض نے خبر تھے۔
اس آیت مبارکہ میں(بَلَی)اور (شَہِدْنَا) میں مراقبہ ہے۔دونوں کلمات پر وقف نہیں کیا جائے گاتاکہ کلام کا بعض حصہ بے معنی نہ ہوجائے۔
یہاں لفظ (شَہِدْنَا) کی تاویل میں اختلاف ہے ۔اس کے بارے میں دو اقوال ہیں ۔پہلا قول یہ ہے کہ یہ فرشتوں کا کلام ہے ۔اس صورت میں (قَالُواْ بَلَی) پر وقف ہوگا۔اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ اولاد آدم کا کلام ہے۔اس صورت میں (شَہِدْنَا) پر وقف ہوگا۔ ۴۲؂ 
ابو عبد اللہ فرماتے ہیں کہ (قَالُواْ بَلَی) پر وقف تام ہے ۔جبکہ ا خفش ،ابو حاتم اور احمد بن موسٰی کے نزدیک (شَہِدْنَا) پر وقف تام ہے۔
امام حسنؒ ،مجاہد ،ابن کثیر ،اعرج ،نافع ،عاصم ،اعمش،حمزہ،اور کسائی نے (أَن تَقُولُوا) کو (تاء) کے ساتھ پڑھاہے ان کی قراء ت میں(قَالُواْ بَلَی) پر وقف ہوگا۔اس لیے کہ (أَنْ)اپنے ماقبل لفظ(شَہِدْنَا) سے متعلق ہے۔ اسی طرح اہل تاویل نے بھی (قَالُواْ بَلَی)پر وقف کرنے کی صراحت کی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اس کے بعد فرشتوں سے فرمایا تم گواہی دو تو انہوں نے کہا ہم گواہی دیتے ہیں۔جبکہ ابو مالکؒ فرماتے ہیں کہ اللہ نے خود اس کے جواب میں فرمایا(شَہِدْنَا)۔لہذااہل تاویل کے ان اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ (شَہِدْنَا)کاتعلق (قَالُواْ بَلَی)کے ساتھ نہیں بلکہ یہ جملہ مستأنفہ ہے۔ ۴۳؂ 
اسی طرح ابن عباسؓ ،سعید بن جبیرؓ ،عاصم جحدری ،ابن محیصن ،ابو عمرو اور عیسٰی کی قراء ت میں (أن یقولوا) ہے یعنی (یاء)کے ساتھ پڑھا جاتا ہے ۔اس صورت میں (شَہِدْنَا) پر وقف ہوگا۔اس لیے کہ (أَنْ)کا متعلق مخذوف ہے ۔اور تقدیر عبارت یوں ہو گی۔(اشھدھم علی انفسھم أن یقولوا)۔۴۴؂ 
چنانچہ (قَالُواْ بَلَی)پر وقف کرنے کی صورت میں معنی یہ ہوگا۔اور جبکہ آپصلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کے رب نے آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارارب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کہ کیوں نہیں تو فرشتوں نے کہا :
کہ ہم سب گواہ بنتے ہیں تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہنے لگو کہ ہم تو ان سے محض نے خبر تھے۔اور (شَہِدْنَا) پر وقف کرنے کی صورت میں معنی یہ ہوگاکہ اولاد آدم نے اللہ تعالی کے سوال کے جواب میں فرمایا کیوں آپ ہمارے رب ہیں ہم گواہ بنتے ہیں۔ابو العالیہ حضرت ابی بن کعبؓ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے انسانوں کو اکٹھا کیا اور ان کے جوڑے بنائے پھر ان کی صورتیں بنائیں اور پھر فرمایا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟تو سب نے کہا کیوں نہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ہمارے رب ہیں ہمارے معبود ہیں اور آپ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ۴۵؂ 
(۱۰)وَمِمَّنْ حَوْلَکُم مِّنَ الأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ مَرَدُواْ عَلَی النِّفَاقِ لاَ تَعْلَمُہُمْ نَحْنُ نَعْلَمُہُمْ سَنُعَذِّبُہُم مَّرَّتَیْْنِ ثُمَّ یُرَدُّونَ إِلَی عَذَابٍ عَظِیْم۔۴۶؂
اور کچھ تمہارے گردو پیش والوں میں اور کچھ مدینے والوں میں ۔ایسے منافق ہیں کہ نفاق کی حد کمال پر پہنچے ہوئے ہیں آپصلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم ان کو نہیں جانتے ہیں۔ہم ان کو دوہری سزا دیں گے پھر وہ بڑے بھاری عذاب کی طرف بھیجے جائیں گے۔
اس آیت مبارکہ میں (مُنَافِقُون) پر وقف کافی ہے اگر (مِمَّنْ حَوْلَکُم) کوخبر مقدم بنایا جائے اور (مُنَافِقُون)مبتداء کو مؤخرتسلیم کیا جائے۔یا (وَمِنْ أَہْل الْمَدِیْنَۃ)کوخبر مقدم بنایا جائے ہو اور اس کے مابعد مبتداء مخذوف کو اس کی قائم مقام صفت بنایا جائے۔اس صورت میں تقدیر عبارت یوں ہوگی (ومن أھل المدینۃ قوم مردوا علی النفاق)۔ 
چنانچہ (مُنَافِقُون) پر وقف کی صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ تمہارے گردو پیش کے بعض دیہاتی منافق ہیں ۔مدینہ والوں میں سے تو بعض لوگ نفاق کی حدکمال تک پہنچے ہوئے ہیں۔
اس آیت میں دوسرا محل وقف (وَمِنْ أَہْلِ الْمَدِیْنَۃ) ہے ۔علامہ اشمؤنی ؒ فرماتے ہیں کہ یہاں وقف جائز ہے مگر وصل اولی ہے۔ ۴۷؂
اس آیت میں دوسرا محل وقف(وَمِنْ أَہْلِ الْمَدِیْنَۃ)ہے۔اگر(وَمِنْ أَہْلِ الْمَدِیْنَۃ)کاعطف(مِمَّنْ حَوْلَکُم) پر ہو۔اس صورت میں (مُنَافِقُون) مبتداء ہوگااور گذشتہ دونوں جملے اس کی خبر ہوں گے۔ ۴۸؂ 
اس ترکیب کے اعتبار سے معنی یہ ہوگا۔اور بعض تمہارے گردو پیش والوں میں اوربعض مدینہ والوں میں ۔ایسے منافق ہیں کہ نفاق کی حد کمال تک پہنچے ہوئے ہیں۔
(۱۱) وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَیْْہِ الْقُرْآنُ جُمْلَۃً وَاحِدَۃً کَذَلِکَ لِنُثَبِّتَ بِہِ فُؤَادَکَ وَرَتَّلْنَاہ تَرْتِیْلاً۔۴۹؂
اور کافر لوگ یوں کہتے ہیں کہ ان پر یہ قرآن دفعتًا واحدۃ کیوں نہیں نازل کیا گیا ۔اس طرح اس لیے ہے تاکہ ہم اُس کے ذریعہ سے آپ کے دل کو قوی رکھیں اور ہم نے اس کو بہت ٹھہر ٹھہر کر اُتارا ہے۔
(کَذَلِکَ) پر وقف تام ہے۔جبکہ امام دانیؒ کے ہاں وقف کافی ہے ۔اور(جُمْلَۃً وَاحِدَۃ) پر بھی وقف جائز ہے۔۵۰؂
(کَذَلِکَ)پر وقف کرنے کی صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ کافر لوگ یوں کہتے ہیں کہ محمدصلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم پر قرآن دفعتًا نازل کیوں نہیں ہوا جس طرح دیگر آسمانی کتب دفعتًا نازل ہوئیں۔اور (جُمْلَۃً وَاحِدَۃ)پر وقف کرنے کی صورت میں مطلب یہ ہوگاکہ کافر لوگ یوں کہتے ہیں کہ محمد صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم پر قرآن دفعتًا واحدۃ کیوں نہیں نازل کیا گیا۔تو اللہ تعالی اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ بتدریج اس وجہ سے نازل کیا گیا تاکہ اس کے ذریعہ سے ہم آپصلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کے دل کو قوی رکھیں۔پہلے قول کے اعتبار سے (کَذَلِکَ) مشرکین کا کلام ہے اور دوسرے قول کے اعتبار سے اللہ تعالی کا کلام ہے۔۵۱؂ 
علامہ ابن انباری ؒ فرماتے ہیں کہ (کَذَلِکَ) پر وقف کرنا احسن اور عمدہ ہے۔۵۲؂ 
(۱۲)وَتَوَکَّلْ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِہِ وَکَفَی بِہِ بِذُنُوبِ عِبَادِہِ خَبِیْرا۔الَّذِیْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَیْْنَہُمَا فِیْ سِتَّۃِ أَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ الرَّحْمَنُ فَاسْأَلْ بِہِ خَبِیْرا۔۵۳؂ 
اورآپ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم بھروسہ اسی زندہ پر رکھئے جسے کبھی موت نہیں اور اسی کی حمد میں تسبیح کرتے رہئے اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے ۔
(خوب)خبردار ہے۔ وہ وہی ہے۔ جس نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے سب چھ روز میں پیدا کیا،پھر عرش پر قائم ہوا۔وہ بڑا مہربان ہے سو اس کی شان کسی جاننے والے پوچھنا چاہیے ۔
یہاں (خَبِیْرا) پر وقف کافی ہے جبکہ بعض کی رائے میں وقف تام ہے ۔اگر اس کے مابعد کو مبتداء اور (الرَّحْمَن) کو اس کی خبر بنایا جائے ۔لیکن اگر (الَّذِیْ) کو خبرتسلیم کرتے ہوئے اس کا مبتداء مخذوف مانا جائے یا محل نصب پر (أعنی) کو مقدر خیال کیا جائے تو اس صورت میں (خَبِیْرا) پر وقف کافی ہوگا۔ اور (الَّذِی)جملہ مستأنفہ ہوگا۔ ۵۴؂
اس توجیہہ پر معنی یہ ہوں گے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم اسی زندہ پر جسے کبھی موت نہیں بھروسہ رکھئے اور اس کی تعریف میں تسبیح کرتے رہئے اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبردار ہے وہ گناہوں کی سزا دے گا۔وہ ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیانی کائنات کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر قائم ہوگیا۔وہی رحمان ہے سو کسی باخبر سے پوچھ لو۔
اور اگر (الَّذِی)کو (وَکَفَی بِہ) کی (ھاء)ضمیر سے بدل مجرور محلًا بنایا جائے تو پھر (خَبِیْراً۔) پر وقف نہیں ہوگا۔بلکہ (الْعَرْشِ)پر وقف ہوگا۔وہ اس طرح کہ (الرَّحْمَن) کو مبتداء ہونے کی وجہ سے مرفوع پڑھا جائے اور اس کا مابعد جملہ اس کی خبر ہو ۔تو اس توجیہہ پر (الْعَرْشِ) پر وقف تام ہوگا۔لیکن اگر (ھو)کو مقدر مخذوف خیال کرتے ہوئے (الرَّحْمَن) کومرفوع پڑھا جائے تو (الْعَرْش) پر وقف کافی ہوگا۔ ۵۵؂
اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ اس کی تسبیح و تمحید میں لگے رہئے اللہ تعالی اپنے بندوں کے گناہوں سے پورے طور پر باخبر اور باعلم ہے وہ گناہوں کی سزا دے گاوہ ایسا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ اس کے درمیان ہے اس کو چھ دن میں پیدا کیا پھر تحت پر قائم ہوگیا ۔وہ بڑا مہربان ہے اس کی شان کسی جاننے والے سے پوچھنی چاہیے ۔
(۱۳)وَمَا أَہْلَکْنَا مِن قَرْیَۃٍ إِلَّا لَہَا مُنذِرُونَ۔ذِکْرَی وَمَا کُنَّا ظَالِمِیْن۔۵۶؂
اور جتنی بستیاں ہم نے غارت کی ہیں سب میں نصیحت کے واسطے ڈرانے والے اور ہم ظالم نہیں ہیں۔
اللہ تعالی کے اس فرمان میں (مُنذِرُون)پر وقف تام ہے ۔جبکہ ابن انباری ؒ کے نزدیک اس جگہ وقف حسن ہے۔ (مُنذِرُون) پر وقف اس صورت میں ہوگا کہ اگر (ذِکْرَی) محل رفع میں بمعنی (تلک الذکری أوھی الذکری أو انذارنا ذکری ) کے ہو یعنی یہ نصیحت ہے یا ہمارے ڈرانا نصیحت ہے۔ ۵۷؂
اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ جتنی بستیاں ہم نے ہلاک کی ہیں ان سب میں ڈرانے والے آئے ہیں یہ قرآن نصیحت ہے یا ہمارا ڈرانا نصیحت ہے ۔ہم ظلم کرنے والے نہیں ہیں۔
اگر (مُنذِرُون) پر وقف نہیں کیا تو پھر (ذِکْرَی)پر وقف کیا جائے گا۔اس مقام پر (مُنذِرُونَ)کی بہ نسبت (ذِکْرَی)پروقف کرنا احسن اور عمدہ ہے۔ یہاں وقف تام ہے۔ مگر بعض کا خیال کہ یہاں وقف کافی ہے۔ وقف تام اس صورت میں ہوگاکہ اگریہ محل نصب میں بمعنی (ینذرونھم تذکرۃ)یعنی وہ ا نہیں نصیحت کے واسطے کے ڈراتے ہیں۔اور اگر (ذِکْرَی) کو (ذکر)کا مفعول بنایا جائے یعنی (ذکرناھم ذکری)تو پھر یہاں وقف کافی ہوگا کیونکہ (ذِکْرَی) ( انذار) سے متعلق ہوجاتا ہے۔ ۵۸؂
چنانچہ(ذِکْرَی) پر وقف کی صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ اور جتنی بستیاں ہم نے تباہ کی ہیں سب میں نصیحت کے واسطے ڈرانے والے اور ہم ظالم نہیں ہیں۔
(۱۴)قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَکَ بِأَخِیْکَ وَنَجْعَلُ لَکُمَا سُلْطَاناً فَلَا یَصِلُونَ إِلَیْْکُمَا بِآیَاتِنَا أَنتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَکُمَا الْغَالِبُونَ۔۵۹؂
ارشاد ہوا کہ ہم ابھی تمہارے بھائی کو تمہارا قوت بازو بنا دیتے ہیں اور ہم تم دونوں کو ایک خاص شوکت عطا کرتے ہیں جس سے ان لوگوں کو تم پر دسترس نہیں ہوگی ۔ہمارے معجزے لے کر جاؤ دونوں اور جو تمہارا پیرو ہوگا غالب رہوگے۔ 
امام اخفش اور محمد بن جریر کے نزدیک (فَلَا یَصِلُونَ إِلَیْْکُمَا) پر وقف تام ہے۔کیونکہ وہ (بِآیَاتِنَا) کو (الْغَالِبُون) کے ساتھ متعلق کرتے ہیں۔یعنی تم دونوں اور تمہارے متبعین ہمارے معجزا ت کی وجہ سے غالب رہیں گے۔۶۰؂ امام نافع ؒ اور ابو حاتم ؒ کے نزدیک (بِآیَاتِنَا) پر وقف تام ہے۔اس وجہ سے یہ لوگ(بِآیَاتِنَا) کو (فَلَا یَصِلُونَ) کے ساتھ متعلق کرتے ہیں۔یعنی ہماری آیت کے سبب سے فرعون اور اس کی قوم والے تم دونوں تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ ۶۱؂ 
(۱۵)لَءِن لَّمْ یَنتَہِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوبِہِم مَّرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِیْ الْمَدِیْنَۃِ لَنُغْرِیَنَّکَ بِہِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُونَکَ فِیْہَا إِلَّا قَلِیْلاً ۔مَلْعُونِیْنَ أَیْْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِیْلا۔۲؂۶
یہ منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے اور وہ لوگ جو مدینہ میں افواہیں اڑایا کرتے ہیں اگر باز نہ آئے تو ضرور ہم آپ کوان پر مسلط کریں گے پھر یہ لوگ آپ کے پاس مدینہ میں بہت ہی کم رہنے پائیں گے۔ وہ بھی پھٹکارے ہوئے جہاں ملیں گے پکڑ دھکڑ اور مار دھاڑ کی جائے گی ۔
اس آیت مبارکہ میں (إِلَّاقَلِیْلاً )پر وقف ہے اس صورت میں کہ اگر(مَلْعُونِیْن)کو(أعنی) مقدر مانتے ہوئے نصب علی الذم دیا جائے۔احمد بن جعفر فرماتے ہیں اس توجیہہ پر یہاں وقف تام ہوگا۔۶۳؂ 
اور معنی یہ ہوں گے کہ اگریہ منافقین اور وہ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور وہ لوگ جو مدینہ میں غلط افواہیں اڑانے والے ہیں باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان پر مسلط کر دیں گے پھر تو وہ چند دن ہی آپ کے ساتھ اس شہر میں رہ سکیں گے۔ان پر پھٹکار برسائی گئی ،جہاں بھی ملیں گے پکڑے جائیں گے اور خوب ماردھاڑ کی جائے گی۔
اور(مَلْعُونِیْن)پر وقف اس صورت میں ہوگا کہ اگر یہ ( یُجَاوِرُونَکَ)کی ضمیر سے حال واقع ہو۔ابو حاتمؒ کے نزدیک یہاں وقف کافی ہے اور ابن انباری ؒ نے اسے مختار کہاہے۔جبکہ اخفشؒ اورمحمد بن یزیدؒ نے اسے وقف تام کہاہے۔۴؂ ۶ 
اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہوگاکہ یہ منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے اور وہ لوگ جو مدینہ میں افواہیں اڑایا کرتے ہیں اگر باز نہ آئے تو ضرور ہم آپ کوان کی تباہی پر مسلط کریں گے پھر یہ لوگ آپ کی ہمسائیگی میں بہت ہی کم رہنے پائیں گے ۔وہ بھی پھٹکارے ہوئے جہاں ملیں گے پکڑ ے جائیں گے اورخوب مار دھاڑ کی جائے گی ۔
(۱۶)أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِیْنَ یُجَادِلُونَ فِیْ آیَاتِ اللَّہِ أَنَّی یُصْرَفُونَ۔الَّذِیْنَ کَذَّبُوا بِالْکِتَابِ وَبِمَا أَرْسَلْنَا بِہِ رُسُلَنَا فَسَوْفَ یَعْلَمُون۔۵؂۶
کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ تعالی کی آیتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں کہاں پھرے چلے جارہے ہیں ۔جن لوگوں نے اس کتاب کو جھٹلایا اور اس چیز کو بھی جو ہم نے اپنے پیغمبروں کو دے کر بھیجا تھا،سو اُن کو ابھی معلوم ہواجاتا ہے۔
ان آیات میں(أَنَّی یُصْرَفُونَ) پر وقف اس توجیہہ پر ہوگا کہ اگر (الَّذِیْن) کو مبتداء ہونے کی وجہ سے مرفوع قرار دیا جائے ۔اکثر مفسرین کی یہی رائے ہے اس ترکیب پر یہاں وقف تام ہوگا۔اور اگر (الَّذِیْن) کو مبتداء مخذوف کی خبر بنایا جائے یا (أعنی)کو مقدر مانتے ہوئے منصوب قرار دیا جائے تو پھر (أَنَّی یُصْرَفُونَ) پر وقف کافی ہوگا۔۶۶؂ 
اور معنی یہ ہوں گے کہ کیا تو نے انہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں وہ کہاں پھیر دئیے جاتے ہیں ۔جن لوگوں نے کتاب کو جھٹلایا اور اسے بھی جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجا انہیں ابھی ابھی حقیقت حال معلوم ہو جائے گی ۔
اوراگر (الَّذِیْنَ کَذَّبُوا) کو (الَّذِیْنَ یُجَادِلُون) سے بدل بنایا جائے تو اس صورت میں (الَّذِیْنَ کَذَّبُوا) کا تعلق ماقبل سے ہوگااور (أَنَّی یُصْرَفُونَ) کا تعلق مابعد سے ہوگا۔لہذا (رُسُلَنَا) پر وقف ہوگایہ ابن زید کو مذہب ہے۔۶۷؂ 
اور معنی یہ ہوں گے کہ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ تعالی کی آیتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں کہاں پھرے چلے جارہے ہیں۔یہی لوگ ہیں جنہوں نے اس کتاب کو جھٹلایا اور اس کو بھی جھٹلایا جو ہم نے اپنے پیغمبروں کو دے کر بھیجا تھا،سو عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔
(۱۷)فَإِذا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّی إِذَا أَثْخَنتُمُوہُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّی تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَہَا ذَلِکَ وَلَوْ یَشَاءُ اللَّہُ لَانتَصَرَ مِنْہُمْ وَلَکِن لِّیَبْلُوَ بَعْضَکُم بِبَعْضٍ وَالَّذِیْنَ قُتِلُوا فِیْ سَبِیْلِ اللَّہِ فَلَن یُضِلَّ أَعْمَالَہُمْ ۔۶۸؂
سو تمہارا جب کفار سے مقابلہ ہو جائے تو ان کی گردنیں مارو،یہاں تک کہ جب تم ان کی خب خونریزی کر چکو تو خوب مضبوط باندھ لو پھر اس کے بعد یا تو بلا معاوضہ چھوڑ دینا اور یا معاوضہ لے کر چھوڑ دینا جب جب تک کہ لڑنے والے اپنے ہتھیار نہ رکھ دیں یہ حکم بجا لانا ،اور اگر اللہ تعالی چاہتا تو ان سے انتقام لے لیتا لیکن تاکہ تم میں ایک کا دوسرے کے ذریعے سے امتحان کرے ۔اور جو اللہ تعالی کی راہ میں مارے جاتے ہیں،اللہ تعالی اُن کے اعمال کو ضائع نہیں کرے گا ۔
اس آیت کریمہ میں (أَوْزَارَہَا) پر وقف کافی ہے۔اور مابعد جملہ (ذَلِکَ)مستأنفہ ہے۔جو کہ مبتداء مخذوف کی خبر ہے۔اور تقدیر عبارت یوں ہوگی (أی الامر ذالک )یعنی ان کے متعلق یہی حکم ہے۔یا فعل مخذوف ہے (أی فعلوا بھم ذالک)یعنی مشرکوں کے ساتھ یہی کرو۔۶۹؂
دوسری صورت یہ ہے کہ (ذَلِکَ) پر وقف ہو۔اور مابعد جملہ(وَلَوْ یَشَاءُ اللَّہ) مستأنفہ ہو۔علامہ اشمؤنی لکھتے ہیں کہ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ (ذَلِکَ) پر وقف کرنے میں ماقبل کے لیے زیادہ وضاحت اور صراحت ہے۔کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان (فَإِذا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا) تو جب کافروں سے تمہاری لڑائی ہو توگردنوں پر وار مارو ۔اورخوب خون ریزی کی جنگ کرواور اگر تم ایسے شخص کو پکڑلو جس نے لڑائی نہیں کی تو اس صورت میں مضبوط قید وبند سے گرفتار کرو۔پھرتم کوا ختیار ہے کہ احسان کرکے چھوڑ دو یا فدیہ لے لو۔پس (ذَلِکَ) پر وقف اس بات کو زیادہ واضح کرتا ہے۔(أی الامر ذالک کما فعلنا وقلنا)یعنی یہ معاملہ ایسے ہی جیسے ہم نے کیا اور کہا۔ تو یہ مبتداء مخذوف کی خبر ہوگی یا ایسا مبتداء ہوگا جس کی خبر مخذوف ہے۔(أی ذالک کذالک)اس کو خبر سے الگ نہیں کیا جائے گا۔اس لیے کہ اس کا ماقبل سے متصل ہونا زیادہ واضح ہے۔۷۰؂ 
(۱۸)مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ أَشِدَّاء عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاء بَیْْنَہُمْ تَرَاہُمْ رُکَّعاً سُجَّداً یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّنَ اللَّہِ وَرِضْوَاناً سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوہِہِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِکَ مَثَلُہُمْ فِیْ التَّوْرَاۃِ وَمَثَلُہُمْ فِیْ الْإِنجِیْلِ کَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَہُ فَآزَرَہُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَی عَلَی سُوقِہِ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِہِمُ الْکُفَّارَ وَعَدَ اللَّہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْہُم مَّغْفِرَۃً وَأَجْراً عَظِیْماً۔۷۱؂
محمد صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کی صحبت یافتہ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں تیز ہیں آپس میں مہربان ہیں اے مخاطب تو ان کو دیکھے گاکہ کبھی رکوع کر رہے ہیں کبھی سجدے کررہے ہیں،اللہ تعالی کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں لگے ہیں اُن کے آثار بوجہ تاثیر سجدہ کے اُن کے چہروں پر نمایاں ہیں۔یہ اُن کے اوصاف توریت میں ہیں،اور انجیل میں ان کا یہ وصف ہے کہ جیسے کھیتی کہ اس نے اپنی سوئی نکالی پھر اُن نے اس کو قوی کیا ،پھر وہ کھیتی اور موٹی ہوئی پھر اپنے تنہ پر سیدھی کھڑی ہو گئی کہ کسانوں کو بھلی معلوم ہونے لگی تاکہ اُن سے کافروں کو جلا دے۔اللہ تعالی نے اُن صاحبوں سے جو کہ ایمان لائے ہیں اور نیک کام کررہے ہیں مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کر رکھاہے۔
اس آیت مبارکہ میں (مَثَلُہُمْ فِیْ التَّوْرَاۃِ)اور (وَمَثَلُہُمْ فِیْ الْإِنجِیْل) میں وقف معانقہ ہے۔اور دونوں جگہ وقف کرنے مناسب نہیں اس لیے کہ کلام بے معنی نہ ہو جائے۔
امام ضحاکؒ اور قتادہؒ ،عبدالرحمان بن زید،ابو جعفر الرؤسی ،نافع ؒ ،کسائی ؒ ،احمد بن جعفراور یعقوب ؒ کا قول ہے کہ(مَثَلُہُمْ فِیْ التَّوْرَاۃِ) پر وقف تام ہے اس لیے کہ مابعد جملہ مبتداء اور خبر واقع ہورہاہے۔جبکہ امام مجاہدؒ فرماتے ہیں کہ (وَمَثَلُہُمْ فِیْ الْإِنجِیْل) پر وقف تام ہے کیونکہ یہ (ذَلِکَ) پر معطوف ہے۔اور (کَزَرْع)سے اس تقدیر پر ابتداء ہوگی (ھم کزرع)۔۷۲؂
(مَثَلُہُمْ فِیْ التَّوْرَاۃِ)پر وقف کرنے کی صورت میں معنی نہ ہوں گے کہ محمد صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحمدل ہیں ،تو ان کو دیکھے گاکہ کبھی رکوع کر رہے ہیں کبھی سجدے کررہے ہیں،اللہ تعالی کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں لگے ہیں ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے ہے۔یہ اُن کے اوصاف توریت میں ہیں،اور انجیل میں ان کا یہ وصف ہے کہ جیسے کھیتی کہ اس نے اپنی سوئی نکالی۔
اور (وَمَثَلُہُمْ فِیْ الْإِنجِیْل) پر وقف کی صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کی جو خوبیاں قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں ان کی یہی توریت و انجیل میں بھی مذکور ہیں۔
(۱۹)لَن تَنفَعَکُمْ أَرْحَامُکُمْ وَلَا أَوْلَادُکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَفْصِلُ بَیْْنَکُمْ وَاللَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیْرٌ۔۷۳؂
تمہارے رشتہ دار اور اولاد قیامت کے دن کام نہ آئیں گے ،خدا تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا۔اور اللہ تعالی تمام اعمال کو خوب دیکھتا ہے۔
اس آیت کریمہ میں اگر(وَلَا أَوْلَادُکُمْ)اور(یَوْمَ الْقِیَامَۃِ) پروقف کیا جائے تو دو مختلف معنی پید ا ہوتے ہیں۔ (وَلَا أَوْلَادُکُمْ) پروقف اس صورت میں ہوگاکہ جب (یَوْمَ الْقِیَامَۃِ) کو (یَفْصِلُ) کا ظرف بنایا جائے گا ۔ ابو حاتم ؒ اور احمدبن موسیٰ کے نزدیک یہاں وقف تام ہے۔۷۴؂
اس مقام پر وقف کی صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ تمہارے رشتہ دار اور اولادتمہیں کچھ فائدہ نہیں دے گی ۔اللہ تعالی قیامت کے دن تمہارے درمیان فیصلہ فرما دیں گے۔اور اللہ تعالی تمام اعمال کو خوب دیکھتا ہے۔
اور اگر (یَوْمَ الْقِیَامَۃِ) (تَنفَعَکُمْ) کے ساتھ متعلق ہو تو (یَوْمَ الْقِیَامَۃ) پر وقف ہوگا۔کیونکہ یہ ماقبل کے لیے ظرف واقع ہورہا ہے۔اور معنی یہ ہوں گے کہ (لن تنفعکم ارحاکم ولا او لادکم فی ھذا لیوم)یعنی اس دن تمہیں تمہارے رشتہ دار اور اولاد ہر گز فائدہ نہیں دیں گے۔پس اس صورت میں (وَلَا أَوْلَادُکُم) پر وقف نہیں ہوگا۔ ۷۵؂ 
(۲۰)أَعَدَّ اللَّہُ لَہُمْ عَذَاباً شَدِیْداً فَاتَّقُوا اللَّہَ یَا أُوْلِیْ الْأَلْبَابِ الَّذِیْنَ آمَنُوا قَدْ أَنزَلَ اللَّہُ إِلَیْْکُمْ ذِکْراً۔۷۶؂
اللہ تعالی نے اُن کے لیے ایک سخت عذاب تیار کر رکھا ہے ،تو اے سمجھ دارو جو کہ ایمان لائے ہو تم خدا سے ڈرو، خدا نے تمہارے پاس ایک نصیحت نامہ بھیجا ۔
قرآن کریم کے اس آیت میں (أُوْلِیْ الْأَلْبَابِ)اور (الَّذِیْنَ آمَنُوا) پر وقف کرنے سے معنی میں تنوع پیدا ہوتا ہے۔اگر (أُوْلِیْ الْأَلْبَابِ ) پر وقف کیا ہے تو (الَّذِیْنَ آمَنُوا) پر وقف نہیں ہوگا اور اگر (الَّذِیْنَ آمَنُوا) پر وقف کیا ہے تو(الَّذِیْنَ آمَنُوا)پر وقف نہیں ہوگا۔اس لیے کہ اگر دونوں مقامات پر وقف کیا جائے گاتو درمیان والا جملہ دونوں طرف سے منقطع ہو کر بے ربط ہوجائے گا۔
اس آیت میں (أُوْلِیْ الْأَلْبَابِ) پر وقف حسن ہے ۔اور معنی یہ ہوں گے کہ ان کے لیے اللہ تعالی نے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔،پس اے عقل مندوں اللہ سے ڈرو۔جولوگ ایمان لائے ہیں ان کے لیے یقینًا اللہ تعالی نے نصیحت اتاردی ہے۔ ۷۷؂
مگر اکثر اہل علم نے (الَّذِیْنَ آمَنُوا) پر وقف کو پسند کیا ہے امام ابو حاتم ؒ اور امام نافع ؒ کے نزدیک (الَّذِیْنَ آمَنُوا) پر وقف تام ہے۔امام دانی ؒ نے اسے وقف کافی کہا ہے جبکہ ابن انباری ؒ نے اسے وقف حسن قرار دیا ہے۔علامہ اشمؤنی ؒ فرماتے ہیں کہ 
اس مقام پر وقف کرنا ہی زیادہ مناسب ہے کیونکہ (الَّذِیْنَ آمَنُوا)(أُوْلِیْ الْأَلْبَابِ) کے ساتھ متصل ہے۔۷۸؂
اس توجہیہ پروہی معنی ہوں گے جو آیت کے ترجمہ میں بیان کئے گئے ہیں۔
(۲۱)إِلَّا أَصْحَابَ الْیَمِیْنِ۔ فِیْ جَنَّاتٍ یَتَسَاء لُونَ۔عَنِ الْمُجْرِمِیْن۔۷۹؂
مگر داہنے ہاتھ والے کہ وہ بہشتوں میں ہوں گے مجرموں کا حال پوچھتے ہوں گے۔
اللہ تعالی کے قول میں ( أَصْحَابَ الْیَمِیْن) اور(فِیْ جَنَّاتٍ) پر وقف کرنے سے معنی میں تنوع پیدا ہوتا ہے۔دونوں مقامات پر وقف کرنا درست نہیں اس لیے کہ کلام کہیں بے معنی اور بے ربط نہ ہوجائے ۔
(أَصْحَابَ الْیَمِیْنِ) پر وقف تام ہے جبکہ امام دانیؒ فرماتے ہیں کہ یہاں وقف کافی ہے۔اور(فِیْ جَنَّات) سے ابتداء ہوگی یہ مبتداء مخذوف کی خبر ہے ۔اورتقدیر عبارت یوں ہوگی (أی ھم فی جنّٰت)یعنی وہ جنت میں ہوں گی ۔۸۰؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂ 
اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں محبوس ہوگا سوائے دائیں ہاتھ والوں کے ۔وہ بہشتوں میں مجرموں کو حال پوچھتے ہوں گے۔
اگر(فِیْ جَنَّات)(أَصْحَابَ الْیَمِیْن)سے حال واقع ہو تو پھر (فِیْ جَنَّات) پر وقف ہوگا۔اور معنی یہ ہوں گے کہ دائیں ہاتھ والوں کی حالت یہ ہوگی کہ وہ جنتوں میں ہوں گے۔۸۱؂ 
(۲۲)تَنَزَّلُ الْمَلَاءِکَۃُ وَالرُّوحُ فِیْہَا بِإِذْنِ رَبِّہِم مِّن کُلِّ أَمْرٍ۔سَلَامٌ ہِیَ حَتَّی مَطْلَعِ الْفَجْرِ۔۸۲؂
اس رات میں فرشتے اور روح القدس اپنے پروردگار کے حکم سے ہر امر خیر کو لے کر اترتے ہیں سراپا سلام ہے وہ شب طلوع فجر تک رہتی ہے۔
اللہ کے اس قول میں(کُلِّ أَمْر) اور (سَلَام)پر وقف کرنے سے دو مختلف معنی بنتے ہیں ۔
یہاں (أَمْر) پر امام فرّاء ،نافع ،ابن انباری ،ابو جعفر النحاس اور امام قرطبی ؒ کے نزدیک وقف تام ہے جبکہ امام دانی ؒ نے اسے وقف کافی لکھا ہے۔ پھر (سَلَام) سے ابتداء کی جائے گی جو کہ مبتداء مخذوف کی خبر ہے۔یا (ھِی)مبتداء ہے اور (سَلَام)خبر مقدم ہے اور یہ تقدیم مفید حصر کے لیے ہے۔یعنی رات میں اللہ تعالی شر نازل نہیں کرتا صرف سلامتی کے احکام جاری کرتا ہے۔ بعض علماء نے سلام کہنے کی وجہ یہ بھی بیان کی ہے کہ اس رات فرشتے ایمان والوں کو بکثرت سلام کرتے ہیں اس مطلب پر (حَتَّی مَطْلَعِ الْفَجْر) کا تعلق سلام کے مفہوم یعنی تسلیم سے ہوگایعنی یہ رات طلوع فجر تک سلاموں سے بھری رہتی ہے۔۸۳؂ اور (سَلَام) پر وقف اس صورت میں ہوگاکہ اس کا تعلق ماقبل سے ہے اور (ہِیَ)مبتداء اور(حَتَّی) اس کی خبر 
ہے اور یہ جملہ مستأنفہ ہے۔اور معنی یہ ہوں گے کہ اس رات فرشتے اور روح القدس اترتے ہیں۔اور اللہ تعالی کی طرف سے سلامتی اورخیر و برکت بھی نازل ہوتی ہے۔یعنی ہر آفت و بلا سے یہ سلامتی کی رات ہے ۔
حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ وہ (من کل امرئ سلام ھی)پڑھا کرتے تھے ۔ابو جعفر النحاس فرماتے ہیں کہ اس قراء ت پر تقدیر عبارت یوں ہوگی(أی من کل امرئ من الملائکۃ سلام علی المؤمنین )یعنی تمام فرشتے مومن مردوں اور عورتوں میں سے ہر ایک کو سلام کہتے ہیں ۔یعنی انہیں سلامتی کی دعا دیتے ہیں۔ اس قراء ت کی رو سے (سَلَام)پر وقف تام ہے۔۸۴؂
حاصل یہ ہے کہ قرآن کریم کاجہاں لفظی اعجاز ہے وہاں معنوی اعجاز بھی ہے۔یہ وصف قرآن کریم کو تمام کلاموں سے ممتاز کرتا ہے۔انسان کی عقل ناقص کی انتہاء یہ ہے کہ یہ خود اپنے ہی نظریہ کا انکار کرتا ہے ۔اس لیے کہ اس کی سوچ میں ارتقاء ہوتاہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ ان تمام عیوب ونقائص سے منزہ اور برتر ہے۔اسی طرح اس کا کلام بھی تمام کلاموں سے اعلی و ارفع ہے یہ اسی کتاب کی خوبی ہے کہ اس کے ایک لفظ کو خواہ آخرِ کلام سے ملا یاجائے یا اول کلام سے ملالیا جائے ہر دو صورتوں میں دو مختلف معنی پیدا ہوتے ہیں۔اور ہر ایک مقام پر وقف کرنے سے معنی میں عجیب حسن پیدا ہوتا ہے۔ 
حوالہ جات وحواشی
۱۔ اسراء ۱۷:۸۸ ۲۔ ھود ۱۱:۱۳
۳۔ یونس ۱۰:۳۸ ۴۔ البقرہ ۲:۲
۵۔ ایضاح الوقف والابتداء ۱؍۴۸۷۔۴۸۸،الانباری ،محمد بن القاسم ،النحوی ،تحقیق،محی الدین عبد الرحمٰن ،مجمع اللغۃ العربیۃ،دمشق ،۱۳۹۰ھ؍۱۹۷۱ء؛المکتفی فی الوقف والابتداء:۱۵۹،الدانی، عثمان بن سعید، ابو عمرو، ،تحقیق،یوسف عبدالرحمن المرعسلي، مؤسسۃ الرسالۃ،بیروت، ۱۹۸۷ء؛منار الھدی فی بیان الوقف والابتداء:۷۶،الشمؤنی، احمد بن محمد،دار الکتب العلمیہ، بیروت، ۲۰۰۲ء۔
۶۔ ایضاً۱؍۴۸۷؛ایضاً:۱۵۹؛ایضاً:۷۵ ۷۔ البقرہ ۲:۹۶
۸۔ القطع والائتناف الوقف والابتداء:۷۶،ابن النّحاس، احمد بن محمد، ابو جعفر ،تحقیق ،احمدفریدالمزیدی،دار الکتب العلمیۃ، بیروت، ۲۰۰۳ء؛المکتفی :۱۶۹؛منار الھدی :۱۰۵
۹۔ جامع البیان عن تاویل ای القرآن المشہورتفسیر طبری ۱؍۴۲۸،الطبری،ا بو جعفر محمد بن جریر،، دار الفکر ،بیروت، ۱۴۰۵ھ؛الجامع لاحکام القرآن ۲؍۳۴،القرطبی، ابو عبداللہ محمد بن احمد ابی بکر، دار الشاب قاہرہ، ۱۳۷۲ھ، طبعہ ثانیہ؛تفسیرالقرآن العظیم ۱؍۲۲۱،ابن کثیر، ابو الفداء ،اسماعیل بن عمر الدمشقی، تفسیر القرآن العظیم، دار الفکر،بیروت، ۱۴۰۱ھ؛روح المعانی ۱؍۳۲۹ ،آلوسی، ابو الفضل سید محمود، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی، دار احیاء التراث العربی،س۔ن؛ایضاح الوقف والابتداء ۱؍۵۲۴۔۵۲۵؛منار الھدی :۱۰۵
۱۰۔ القطع والائتناف :۷۶؛المکتفی :۱۶۹؛منار الھدی :۱۰۵
۱۱۔ فتح القدیر الجامع بین فنی الروایۃ والدرایۃ من علم التفسیر۱؍۱۱۵،الشوکانی، محمد بن علی ، دار الفکر ،بیروت، س۔ن
۱۲۔ آل عمران ۳:۳۰
۱۳۔ القطع والائتناف :۱۲۳؛المکتفی :۱۹۹؛منارالھدی :۱۶۳؛فتح القدیر۱؍۳۳۲؛تفسیر النسفی ۱؍۱۴۹،النسفی، ابو البرکات، عبداللہ بن احمد ابن محمود،دار الکتب العلمیۃ ،بیروت،س۔ن تفسیر جلالین ۱؍۶۹،المحلی،محمد بن علی،و السیوطی، عبدالرحمن، ابو بکر، جلال الدین، دار الحدیث قاہرہ،س۔ن۔
۱۴۔ روح المعانی ۳؍۱۲۸؛منار الھدی:۱۶۳
۱۵۔ الجامع الاحکام القرآن ۴؍۵۹؛جامع البیان ۳؍۲۳۰؛تفسیر الثعالبی ،الجواہر الحسان فی تفسیر القرآن،۱؍۲۵۶،الثعالبی، عبدالرحمن بن محمد بن مخلوف ،تفسیر الثعالبی، مؤسسۃ الاعلمی، للمطبوعات، بیروت،س۔ن؛القطع والائتناف:۱۲۳؛منار الھدی :۱۶۴
۱۶۔ آل عمران ۳:۱۷۱۔۱۷۲
۱۷۔ القطع والائتناف :۱۴۰؛منار الھدی :۱۹۷
۱۸۔ محولہ بالا؛انوار التنزیل واسرار التاویل،تفسیر البیضاوی ۲؍۱۱۵،البیضاوی،عبد اللہ بن عمر ، دار فراس للنشروالتوزیع،س۔ن
۱۹۔ معالم التنزیل المشہورتفسیر البغوی ۱؍۳۷۵،البغوی، محمد حسین بن مسعود الفراء ، دار المعرفۃ بیروت، ۱۴۰۷ھ
۲۰۔ المائدہ۵:۳۱۔۳۲
۲۱۔ القطع والائتناف :۱۷۵؛المکتفی :۲۳۸۔۲۳۹؛روح المعانی ۶؍۱۷۷
۲۲۔ ایضاح الوقف والابتداء۲؍ ۶۱۷۔۶۱۸
۲۳۔ منار الھدی :۲۴۷ ۲۴۔ تفسیر النسفی ۱؍۲۸۰
۲۵۔ زاد المسیرفی علم تفسیر۲؍۳۳۹،ابن جوزی،عبد الرحمٰن بن علی،محقق ،عبد الرزاق المھدی،دارالکتاب العربی،بیروت۔
۲۶۔ محولہ بالا؛الجامع لاحکام القرآن ۶؍۱۴۲؛روح المعانی ۶؍۱۱۷؛فتح القدیر ۲؍۳۲
۲۷۔ منار الھدی :۲۴۷ ۲۸۔ المائدہ ۵:۴۱
۲۹۔ المکتفی :۲۳۹ ۳۰۔ القطع والائتناف :۱۷۶
۳۱۔ منار الھدی :۲۴۹
۳۲۔ القطع والائتناف:۱۷۶؛المکتفی :۲۴۰؛منار الھدی :۲۴۹
۳۳۔ منار الھدی:۲۴۹ ۳۴۔ الاعراف ۷:۱۶۳
۳۵۔ القطع والائتناف:۲۲۲؛المکتفی:۲۷۷
۳۶۔ منارالھدی :۳۱۲ ۳۷۔ الاعراف۷:۱۸۸
۳۸۔ تفسیر الثعالبی ۲؍۷۲؛تفسیر البغوی ۲؍۲۲۰
۳۹۔ تفسیر الثعالبی ۲؍۷۲ ۴۰۔ زاد المسیر ۳؍۳۰۰
۴۱۔ الاعراف۷:۱۷۲ ۴۲۔ تفسیر الثعالبی ۲؍۶۵
۴۳۔ القطع والائتناف:۲۲۲۔۲۲۳؛المکتفی:۲۸۰؛جامع البیان ۹؍۱۱۸
۴۴۔ محولہ بالا
۴۵۔ معانی القرآن ۲؍۱۰۲،الفرّاء،یحی بن زیاد،ابو زکریا،تحقیق،عبد الفتاح اسماعیل ،دار السرور،س ۔ن
۴۶۔ التوبہ۹:۱۰۱ ۴۷۔ منارالھدی :۳۴۵
۴۸۔ تفسیر النسفی ۲؍۱۰۷؛فتح القدیر ۲؍۳۹۹؛روح المعانی ۱۱؍۱۱
۴۹۔ الفرقان۲۵:۳۲
۵۰۔ ایضاح الوقف والابتداء ۲؍۸۰۵؛القطع والائتناف:۳۶۷۔۳۶۸؛المکتفی :۴۱۷
۵۱۔ محولہ بالا؛الجامع لاحکام القرآن ۱۳؍۲۸
۵۲۔ ایضاح الوقف والابتداء ۲؍۸۰۵
۵۳۔ الفرقان۲۵:۵۸۔۵۹
۵۴۔ القطع والائتناف :۳۶۹؛المکتفی :۴۱۹؛منار الھدی :۵۵۲
۵۵۔ محولہ بالا ۵۶۔ الشعراء۲۶:۲۰۸۔۲۰۹
۵۷۔ ایضاح الوقف والابتدا ۲؍۸۱۴؛القطع والائتناف:۳۷۶؛المکتفی :۴۲۴؛منار الھدی:۵۶۵
۵۸۔ محولہ بالا ۵۹۔ القصص:۳۵
۶۰۔ القطع والائتناف :۳۸۷۔۳۸۸؛منار الھدی :۵۸۲
۶۱۔ ایضاح الوقف والابتداء ۲؍۸۲۳؛القطع والائتناف :۳۸۸؛المکتفی:۴۳۷؛منار الھدی :۵۸۲
۶۲۔ الاحزاب ۳۳:۶۰۔۶۱
۶۳۔ القطع والائتناف:۴۱۶؛المکتفی :۴۶۱؛منار الھدی:۶۲۱
۶۴۔ محولہ بالا ؛ایضاح الوقف والابتداء۲؍۸۴۳
۶۵۔ المؤمن ۴۰:۶۹۔۷۰ ۶۶۔ القطع والائتناف:۴۵۵؛منار الھدی:۶۸۰
۶۷۔ محولہ بالا ۶۸۔ القتال ۴۷:۴
۶۹۔ ایضاح الوقف والابتداء ۲؍۸۹۶؛القطع والائتناف :۴۸۴؛المکتفی :۵۲۳؛تفسیر النسفی ۴؍۱۴۶
۷۰۔ منار الھدی:۷۲۰ ۷۱۔ الفتح۴۸:۲۹
۷۲۔ القطع والائتناف :۴۸۹المکتفی:۵۳۱؛منار الھدی :
۷۳۔ الممتحنہ۶۰:۳
۷۴۔ القطع والائتناف :۵۲۷؛المکتفی :۵۶۴؛منار الھدی :۷۷۸
۷۵۔ المکتفی :۵۶۴؛منار الھدی :۷۷۸؛فتح القدیر ۵؍۲۱۰۔۲۱۱
۷۶۔ الطلاق۶۵:۱۰ ۷۷۔ منارالھدی:۷۹۰
۷۸۔ ایضاح الوقف والابتداء ۲؍۹۳۹؛القطع :۵۳۶؛المکتفی:۵۷۴؛منار الھدی:۷۹۰
۷۹۔ المدثر۷۴:۳۹۔۴۱
۸۰۔ ایضاح الوقف والابتداء۲؍۹۵۶؛المکتفی :۵۹۵؛منار الھدی :۸۱۵تفسیر الثعالبی ۶؍۳۶۳
۸۱۔ تفسیر بیضاوی ۵؍۴۷۱؛تفسیر الثعالبی ۶؍۳۶۳
۸۲۔ القدر۹۷:۴۔۵
۸۳۔ ایضاح الوقف والابتداء ۲؍۹۸۱۔۹۸۲؛القطع والائتناف :۵۸۶؛المکتفی :۶۲۵؛الجامع لاحکام القرآن ۲۰؍۱۳۴؛تفسیر مظہری ۱۰؍۳۱۶ ،پانی پتی ،ثناء اللہ ،قاضی ،مکتبہ رشیدیہ ،کوئٹہ ،س۔ن 
۸۴۔ القطع والائتناف:۵۷۶
******

Administrator
Hits: 1015

علم حدیث میں خانوادۂ ولی اللٰہ کی خدمات کا جائزہ

حبیب الرحمن*
The muslim history in the sub-continent has seen many scholars but none can be compared with Shah Waliullah in terms of intellect, reform ability and objectivity. The era of Shah Waliullah was marked with countless crises to the general muslim public and the ulema and scholars at that time perfomed their duties for the betterment of muslim people. Shah Wlaiullah led the group and for the first time translated the holy Quran text in to persian language . He was criticised by the muslim scholars of the time at large but this later paved the way for many contributions in the islamic history, jurisprudence and islamic thoughts. His family contributed a lot in the islamic fiqh and further elaborated by his family Shah Abdul Aziz, Shah Abdul Qadir, Shah Rafi u Din and Shah Abul Gani,Shah Ismail (shaheed) and Shah Muhammad Ishaq and Shah Muhammad Makhsoosullah. They learned the islamic teachings from their great parents and then educated the muslim world in the sub continent and the Hijaz e Muqadaas (the Harmain). Shah Waliullah 's contribution in Quran and Tafseer were remarkable and this was not the end of contribution by Waliullah family but they did contribute in the Hadiths-sayings of the Prophet Muhammad (peace be upon him) and gained world recognition. Shah Waliullah travelled to the holy cities of Makkah and Madina and met with the Ulema and scholars of those sacred places and then came back and started teachings at his famous Madrasa e Rahimeya. There he concentated on the teachings of prophet's sayings (peace be upon him). This was due to the fact that the Hijaz travelling has marked great impact on his idealogy and he was convinced that the ulema and scholars need to be expert in this field. His famous school Madrasa Rahimeya then transformed into College of Hadith. This was the begining of Hadith teaching school in the sub-continent. Later his son, Shah Abdul Aziz contributed a lot with his utmost efforts.
پہلی صدی ہجری کی آخری دہائی میں سندھ میں مسلمانوں کی خود مختار سلطنت کا دارالخلافہ قائم ہوا۔۳۹ھ؍۷۱۲ء میں محمد بن قاسم نے سندھ فتح کیا۔اس اعتبار سے اسلامی علوم کے آغازواشاعت کے حوالے سے پہلا تحریری ثبوت محمد بن قاسم کی فتح سندھ سے ملتا ہے۔اسی طرح سندھ کے علاوہ شمالی مغربی 
* لیکچرار، شعبۂ علومِ اسلامیہ، پوسٹ گریجوایٹ کالج سمن آباد، فیصل آباد۔
سرحدی صوبہ کی طرف سے سلطان محمود غزنوی نے ۳۹۲ھ؍۱۰۰۲ء میں داخل ہو کر اسلام کی اشاعت میں کردار ادا کیا۔ابتدائی چار صدیوں میں بر صغیر میں عوام و خواص کا رجحان علم حدیث کی طرف تھا۔اس لیے کہ جب برصغیر میں اسلام کی آمد ہوئی تو قرآن و سنت کے علاوہ اور کسی علم کا وجود نہ تھا۔لوگ علماء و محدثین کا انتہائی احترام کرتے تھے۔چو تھی صدی ہجری کے دوسرے نصف میں سندھ پر اسماعیلیوں کی حکمرانی سے لے کر آٹھویں صدی ہجری کے وسط تک زیریں سندھ میں اسماعیلیوں کا کسی نہ کسی شکل میں اثرو رسوخ رہا۔اس وجہ سے سندھ کا عرب اورحجاز مقدس سے علم حدیث کے حوالے سے رابطہ منقطع ہو گیا۔تو جنوبی ہند میں علم حدیث کے احیاء میں تاخیر ہو گئی۔سندھ میں عرب حکومت کے خاتمہ کے بعدشمالی مغربی سرحد کی طرف سے غوریوں اور غزنویوں کی حکومت قائم ہوئی تو محدثین کی آمد کم ہو گئی اور اس دور میں مذاہب اربعہ کا رواج ہوا۔لوگوں کا علم حدیث کی طرف رجحان کم ہوتا گیا۔ حتٰی کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ 
اٹھارویں صدی عیسوی میں عوام اور علماء دونوں قرآن و حدیث کی تعلیم سے بیزار تھے۔ اپنی طرف سے جو لوگ عوام کے رہنماء بن بیٹھے تھے وہ عموماًنیم خواندہ عالم تھے جن کا سارا زور قرآن و حدیث کی بجائے فلسفہ و منطق پر تھا۔ حتٰی کہ مدارس میں بھی فلسفہ اور منطق کو عروج حاصل تھا جو لوگ قرآن و حدیث کے داعی تھے ان کا موضوع بحث بھی فقہ اور فتاوٰی ہی تھے۔ عوام کو قرآن و حدیث کی تعلیم سے دور رکھا جاتا تھا۔ اس سلسلہ میں شاہ ولی اللہ ؒ ، فتح الرحمٰن کے مقدمہ میں یوں رقمطراز ہیں کہ:
’’ اب تک قرآن کے مطالب سمجھنا صرف عربی تفاسیر پر منحصر تھا جسے علماء اپنا ہی حصہ سمجھتے تھے اور عوام کلام الٰہی کا منشاء اور فطرۃاللہ کامفہوم سمجھنے سے محروم اور بے نصیب تھے، طوطے کی طرح قرآن مجید پڑھا جاتا تھا‘‘(۱)
شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی وہ شخصیت ہیں کہ جن کی خدماتِ حدیث سے ایک زمانہ مستفید ہوا جو کہ ہمہ گیر خدمات ہیں تین صدیاں گزر جانے کے باوجود ان کی فکر سے رہنمائی لی جاتی ہے ۔ شاہ ولی اللہ نے اسلامی علوم کے مختلف شعبوں ، تفسیر حدیث ، فقہ و کلام ، دعوت و ارشاد وغیرہ میں جمود کو توڑ کر انقلابی راہ دکھائی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ کے بعد آنے والے مفسرین و محدثین ، فقہاء و متکلمین آپ کی فکر سے متاثر نظر آتے ہیں۔ 
شاہ ولی اللہ ؒ نے جب قرآن مجید کا ترجمہ کیا تو اس وقت کے علماء بہت سیخ پا ہوئے، شاہ صاحب نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا:
’’ میں ان طالبعلموں سے کہتا ہوں جو اپنے آپ کو علماء کہتے ہیں کہ اللہ کے بندو! تم یونانیوں کے علوم کے طلسم اور صرف و نحو کی دلدل میں پھنس کر رہ گئے ہو ۔ تم نے سمجھ لیا ہے کہ علم اسی کا نام ہے حالانکہ علم یا تو قرآن مجید کی آیاتِ محکمہ کا نام ہے یا رسول اللہ کی سنت ثابتہ کا نام ہے‘‘۔(۲)
شاہ صاحب کے ہمہ جہتی کارہائے نمایاں میں اہم کارنامہ علم حدیث کی ترویج و اشاعت ہے۔ اپنے عہد کی دفتری اور سرکاری زبان فارسی میں علم حدیث کی کتب کے تراجم کا آغاز کیا ۔ اس لئے کہ اس دور میں علم قرآن کی طرح علم حدیث کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا تھا ۔ قرآن مجید کی طرح علم حدیث بھی محض تبرکاً حاصل کیا جاتا تھا۔ فقہ و فتاوٰی ہی علماء کا اوڑھنا بچھونا تھے۔ علم حدیث کو ایک غیر ضروری علم سمجھا جانے لگا تھا۔ زیادہ سے زیادہ اگر کوئی شخص علم حدیث میں مہارت حاصل کر لیتا تو وہ محدث سمجھا جانے لگتا تھا۔
اس دور میں علم حدیث کے مقام و مرتبہ پر تبصرہ کرتے ہوئے حکیم سید عبدالحئی حسنی ؒ لکھتے ہیں کہ 
’’ جب سندھ میں عربوں کی حکومت ختم ہو گئی اور ان کی بجائے غزنوی اور غوری سلاطین، سندھ پر قابض ہوئے اور خراسان اور ماوراء النہر سے سندھ میں علماء آئے تب علم حدیث اس علاقہ میں کم ہوتا گیا یہاں تک کہ معدوم ہو گیا اور لوگوں میں شعر و شاعری، فن نجوم ، فن ریاضی اور علوم دینیہ میں فقہ اور اصول فقہ کا رواج زیادہ ہو گیا یہ صورتحال عرصہ تک قائم رہی یہانتک کہ علمائے ہند کا خاص مشغلہ یونانی فلسفہ رہ گیا اور علم حدیث و تفسیر سے بے اعتنائی برتی گئی۔ مسائل فقہ کے سلسلے میں جو تھوڑاساتذکرہ کتاب و سنت میںآجاتاتھا بس اسی مقدار پر قانع تھے‘‘۔ (۳)
اسی طرح رشید احمد ارشد مزید رقمطراز ہیں کہ:
’’ یہاں کے علماء ،حدیث کی اعلٰی تعلیم کو غیر ضروری سمجھنے لگے بلکہ اسی فن میں ان کی انتہائی معراج مشارق الانوار اور مشکوٰۃ المصابیح کی تعلیم ہوتی تھی اور یہ تعلیم بھی محض برکت حاصل کرنے کے لیے ہوتی تھی ۔ اس کا مقصد مسائل کا استنباط اور فقہی مسائل کا اثبات نہ ہوتا تھا‘‘(۴)
شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی ہندوستان کے علماء و عوام کی حدیث سے بے اعتنائی کا شکوہ ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ
’’ تم اپنے سے پہلے کے فقہاء کے استحسانات اور ان کی تفریعات میں غوطہ لگاتے ہو اور یہ نہیں جانتے کہ حکم وہ ہے جو اللہ اور اس کا رسول دے۔ تم میں کتنے آدمی ہیں جب ان کو حدیث رسول پہنچتی ہے تو اس پر عمل نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہمارا عمل تو فلاں کے مذہب پر ہے حدیث پر نہیں ہے۔ پھر تم نے یہ خیا ل کر رکھا ہے کہ حدیث کا فہم اور اس کے مطابق فیصلہ کاملین اور ماہرین کا کام ہے ۔ حضرات آئمہ سے حدیث مخفی نہیں ہو سکتی۔ پھر انہوں نے جو اس کو چھوڑا تو کسی وجہ سے جو ان پر منکشف ہوئی مثلاً نسخ یا مرجوحیت۔ یاد رکھو کہ اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر تمہارا اپنے نبی پر ایمان ہے تو اس کی پیروی کرو۔ وہ تمہارے مذہب کے موافق ہو یا مخالف‘‘۔(۵)
بر صغیر کے علمی و دینی حلقے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی جیسی شخصیت کے ہی منتظر تھے کہ جو علم حدیث سے پختہ تعلق اور اس کی نشر و اشاعت کو اپنی زندگی کا اولین مقصد گردانتے تھے ۔ آپ نے برصغیر میں علم حدیث کی ایسی تحریک پیدا کی کہ جس کے اثرات آج بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ 
شاہ ولی اللہ ؒ اور تحریکِ علم حدیث(۱۱۷۶ھ؍۱۷۶۲ء):۔
اس مضمون میں ہم شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی اور ان کے چاروں بیٹوں کی علم حدیث میں خدمات کا جائزہ لیں گے۔
شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی کی تحریک علم حدیث کے دو پہلو نظر آتے ہیں ۔ پہلا درس نظامی کے نصاب کی اصلاح اور دوسرا عمل بالحدیث کا احیاء۔ جہاں تک درس نظامی کے نصاب کی اصلاح کا تعلق ہے اگر مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی کے دور میں ملا نظام الدین (۱۱۶۱ھ) کا مرتب کردہ نصاب مدارس میں پڑھایا جاتا تھا۔ ملا نظام الدین اگرچہ دینی و علمی حلقوں میں بلند مقام رکھتے تھے مگر ان کا نصاب دینی تقاضے پورے کرنے کے لئے ناکافی تھا۔ علاوہ ازیں اس نصاب میں کئی نقائص اور عیوب بھی پیدا ہو چکے تھے۔ اس نصاب میں اگرچہ حدیث اور اس کے متعلقات کو مکمل طور پر نظر انداز تو نہیں کیا گیا تھا مگر کوئی خاص اہمیت بھی نہیں دی گئی تھی۔(۶) ایسی صورتحال میں ایسے نصاب کے مرتب کرنے کی ضرورت تھی جو کہ ذہنی اور فکری جمود کو توڑ کر طریق تدریس میں تبدیلی پیدا کرے۔چنانچہ مشکوٰۃالمصابیح کے علاوہ صحاح ستہ کی کچھ کتب اور اصول حدیث میں حافظ ابن حجر ؒ عسقلانی کی شرح نخبۃ الفکر کو نصاب میں شامل کر کے کچھ توازن پیدا کرنے کی کوشش کی گئی مگر اس کمی کو پورا کرنے میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی سعی کا بہت عمل دخل ہے۔(۷) 
اس سلسلہ میں سید ابوالحسن علی ندوی ؒ لکھتے ہیں کہ:
’’ شاہ صاحب کی بدولت اس ملک یعنی برصغیر میں حدیث کا سکہ رائج الوقت تسلیم کیا گیا وہ نصاب درس کا ضروری جزو اور فضیلت قرار پائی۔ درس حدیث کے مستقل حلقے قائم ہوئے مدارس میں صحاح ستہ کے درس بالخصوص کتب اربعہ یعنی صحیحین ، ابو داؤدو ترمذی کو تحقیق کے ساتھ پڑھنے کا رواج ہوا ،شروح حدیث کا دور دورہ شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس پر ایک وسیع کتب خانہ تیار ہو گیا‘‘۔ (۸)
شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی کی تحریک علم حدیث کا یہ پہلو اس قدر موثر ثابت ہوا کہ ہندوستان میں صدیوں کے بعد غالباً پہلی مرتبہ برصغیر میں علم حدیث کا ایسا چرچا ہوا کہ ہندوستان یمن کا ہمسر بن گیا اور اس کے اثرات سر زمین حجاز تک پہنچنے لگے۔
اس کے بعد شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی کی تحریک علم حدیث کا دوسرا پہلو عمل بالحدیث تھا ۔ سر زمین حجاز کے قیام کے دوران حدیث کے اساتذہ کی صحبت میں رہنے کی وجہ سے عمل بالحدیث نے آپ کے دل میں گھر کر لیا تھا جس کی وجہ سے شاہ صاحب نے لوگوں کو قرآن و حدیث کی خالص دعوت دی اس لئے کہ وہ ایسا دور تھا کہ لوگ محض آئمہ کے اقوال کو ہی سند سمجھتے تھے۔
اس سلسلہ میں سید سلیمان ندوی ؒ یوں رقمطراز ہیں کہ
’’ اب تک ہندوستان میں جو فقہ حنفی مروج تھی وہ تمام فتاویٰ کی نقل در نقل کو رانہ تقلید تھی اور ہر وہ کتاب جس کو پہلے کسی حنفی عالم نے لکھ دیا ہو وہ استسناد کے قابل سمجھی جاتی تھی اور خاص کر امام ابو حنیفہ کا مسلک بن جاتی تھی ۔ شاہ صاحب نے اس کی تقلیدی فقہ کی جگہ تحقیقی فقہ کو رواج دیا ۔ ہر مسئلہ میں وہ ہر امام کی مختلف آراء اور اجتہاد اور ان کی دلیلوں سے واقف تھے ۔ وہ ان میں باہم تطبیق یا ترجیح دیتے تھے ۔ مجتھدین کے اجتہادات کے اختلاف کے اسباب بتائے ۔ اجتہاد و تقلید کی شرح کی اور کتاب و سنت کی دعوت دی ‘‘۔(۹)
قرآن و حدیث کی اس دعوت نے آپ کو تمام مسالک میں مقبول بنا دیا ۔ شاہ صاحب نے عمل بالحدیث کی اہمیت کو وسعت دینے کے لئے عقدالجید اور انصاف جیسے رسائل لکھے جن میں آپ نے معتدل انداز اپنایا۔ 
علم حدیث میں شاہ ولی اللہ ؒ کی تدریسی خدمات:۔
شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی نے پندرہ سال کی عمر میں ہی تعلیم سے فراغت حاصل کر لی تھی جب آپ سترہ سال کے ہوئے تو آپ کے والد محترم شیخ عبدالرحیم وفات پا گئے ان کے بعدہی مسند تدریس پر فائز ہو گئے اور جب آپ کی عمر تیس سال تھی وہیں درس و تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے کہ ۱۱۴۳ھ میں بیت اللہ کا سفر کیا وہاں حج کیا اور وہاں کے اساتذہ سے علم حدیث کی سند حاصل کی۔ اس سلسلہ میں شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی خود رقمطراز ہیں کہ
’’ ۱۱۴۳ھ میں سفر حرمین شریفین کی زیارت کا غلبہ ہوا ۔ ۱۱۴۳ھ کے آخر (ذی الحجہ ) میں حج سے مشرف ہوا اس دوران شیخ ابو طاہر مدنی اور دوسرے مشائخ سے حدیث کی سند حاصل کی‘‘۔ (۱۰)
حرمین شریفین سے واپسی پر شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی ،دہلی تشریف لائے اور اپنی مسند پر مدرسہ رحیمیہ میں دوبارہ فائز ہو گئے اور درس و تدریس کا سلسلہ شروع کردیا ۔ اب آپ نے اپنی تمام توجہ علم حدیث کی تدریس پر مرکوز کی کیونکہ قیام حجاز کے دوران وہاں کے اساتذہ حدیث کی صحبت میں رہ کر آپ کے دل و دماغ پر حدیث رسول کی افادیت و برتری کا بڑا اثر تھا ۔ آپ نے مدرسہ رحیمیہ میں درس حدیث کا آغاز کر کے شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی تحریک حدیث کو جلا بخشی۔ اسی حوالہ سے بختیار حسن صدیقی لکھتے ہیں کہ 
’’ انہوں نے شیخ عبدالحق ؒ محدث دہلوی (۱۰۵۲ھ)کی حدیث کی تعلیم کو عام کرنے کی کوششوں میں ایک نئی روح پھونکی۔مدرسہ رحیمیہ میں حدیث کے درس کا خصوصی اہتمام کیا اور ایسے علماء کی تربیت کی جنہوں نے ان کے بعد حدیث کے درس کا سلسلہ جاری رکھا یہاں تک کہ درس نظامی میں حدیث کو اسلامی علوم میں صحیح جگہ مل گئی‘‘۔(۱۱)
اس اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو سفر حرمین کے بعد مدرسہ رحیمیہ نے باقاعدہ دارالحدیث کی شکل اختیار کر لی تھی ۔ یوں تو آپ کے والد محترم نے بھی مدرسہ رحیمیہ میں درس حدیث کا آغاز کیا تھا مگر جزوی طور پر تھا۔ اب یہی مدرسہ دارالحدیث کہلانے لگا تھا۔
پروفیسر غلام حسین جلبانی رقمطراز ہیں کہ
’’ شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی صاحب وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہندوستان میں ایک مستقل دارالحدیث کی بنیا رکھی جس کو آگے چل کر آپ کے لائق و فائق فرزند شاہ عبدالعزیز نے کامیابی سے ہمکنار کیا ‘‘۔(۱۲)
یوں تو درس حدیث کا یہ سلسلہ شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی سے قبل کے محدثین کے تذکروں میں بھی ملتا ہے مگر شاہ صاحب کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ انہوں نے درس حدیث کا یہ جدید اسلوب اپنایا کہ جس سے طلباء میں تحقیق و تجسس کی تڑپ پیدا ہو اس سلسلہ میں پروفیسر غلام حسین جلبانی مزید لکھتے ہیں کہ
’’آپ کے پڑھانے کا طریقہ یہ تھا کہ آپ طلبہ سے خود ہی نیا سبق پڑھوایا کرتے تھے اور پھر اس کے تمام پہلوؤں اور گوشوں پر نہایت جامع اور سیر حاصل بحث کیا کرتے تھے۔ فقہی مسائل کو طلبہ کے سامنے پیش کرتے وقت آپ کی تمام تر توجہ اور کوشش اس امر کی جانب مرکوز رہتی کہ بالعموم مختلف اور بالخصوص حنفی اور شافعی مسلک کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کو حتی المقدور کم کیا جائے۔‘‘(۱۳)
اسی اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاہ صاحب اختلافی مسائل کو اچھالنے کی بجائے ان پر غور و فکر کر کے ان کے درمیان تطبیق دینے کی کوشش کرتے تھے۔ درس حدیث میں آئمہ کے فقہی اختلافات کو بیان کرنا آپ کی پہچان تھی مگر آپ نے کبھی بھی کسی ایک مسلک کو دوسرے پر ترجیح نہ دی بلکہ ترجیح حدیث کے مسئلہ کو ہی دیتے تھے۔اس طرح طلباء میں تنگ نظری کی بجائے وسعت نظری پیدا ہوئی اور تحقیق و جستجو کا جذبہ پیدا ہوا۔شاہ صاحب نے علم حدیث کے ذریعے عوام کو گروہی جماعت بندی سے نکال کر اخوت و محبت کی تعلیم دی اور آپ کے اس طریقہ تدریس سے دنیا اس قدر متاثر ہوئی کہ مدرسہ رحیمیہ میں چند ہی دنوں میں طلبہ کی تعداد میں اتنا اضافہ ہوا کہ جگہ کم پڑ گئی تو اس وقت کے مغل بادشاہ محمد شاہ نے اس مدرسہ کی وسعت کے لئے شاہ جہان آباد میں ایک حویلی دے دی جہاں درس و تدریس کا کام ہوتا تھا (۱۴)
درس و تدریس کا یہ سلسلہ ربع صدی تک جاری رہا ۔ علم حدیث میں صحاح ستہ ، موطاامام مالک ، مسند دارمی اور مشکوٰۃ المصابیح کی تعلیم دی جاتی تھی (۱۵)
آپ کے بعد اس مشن کو آپ کے خاندان اور تلامذہ جن میں شاہ محمد اسحق ؒ ، شاہ اسمعیل شہید ؒ ، شاہ محمد یعقوب ؒ ، شاہ محمد مخصوص اللہ ؒ ، شاہ محمد موسی ؒ ، مولوی رشیدالدین ؒ اور شاہ عبدالغنی ؒ نے جاری رکھا اور ایسا سلسلہ وجود میں آیا کہ اب تک محدثین و رجال علم حدیث کی خدمت کرتے چلے آرہے ہیں ان علماء کی وجہ سے برصغیر میں علم حدیث کو فروغ ملا ۔
اس سلسلہ میں مولانا محمد اسمٰعیل سلفی لکھتے ہیں کہ 
’’ یہ مدرسہ فکر بڑی سنجیدگی سے سنت اور فقہائے محدثین کی طرف ترقی کر رہا تھا ۔ اس کے نام اور تلامذہ میں صاحب دراسات اللبیب تھے ۔ شاہ عبدالعزیز ؒ ، شاہ عبدالقادر ؒ ، شاہ رفیع الدین ؒ اور شاہ عبدالغنی ؒ جیسے فحول اہل علم اس مدرسہ سے فیض یاب ہوئے پھر ہر ایک اپنی جگہ امت واحدہ تھا وہ اسی مسلک کے مبلغ تھے جو انہیں اپنے استاد محترم سے ملا تھا‘‘۔(۱۶)
اسی بناء پر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ مدرسہ رحیمیہ کا حقیقی آغاز شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی نے ہی کیا اور اس کے ذریعے حدیث کے فروغ اور علم حدیث کی اشاعت میں اہم کردار ادا کیا ۔شاہ صاحب کی انتھک کوششوں سے علم حدیث نے اس قدر ترقی کی کہ شیخ عبدالحق ؒ محدث دہلوی کی ڈالی ہوئی بنیا دیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں اس بارے میں پروفیسر محمد سلیم رقمطراز ہیں کہ 
’’ دسویں صدی ہجری میں شیخ عبدالحق ؒ محدث دہلوی نے پہلی بار اس علم کو ہندوستان میں پھیلانے کی کوشش کی لیکن یہ حقیقت ہے کہ علم حدیث کو ہندوستان میں مقبول بنانے کا شرف شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی اور ان کی اولاد و امجاد اور شاگردوں کو حاصل ہے ۔ انہوں نے تعلیم ، ترجمہ اور تشریح کے ذریعے اس علم کو ملک(ہندوستان) میں متعارف کروایا ۔ حدیث کی اہم ترین کتب صحاح ستہ کو شامل نصاب کیا‘‘،(۱۷)
مولوی رحیم بخش دہلوی اس سلسلہ میں لکھتے ہیں کہ :
’’ اس لحاظ سے اگر ہم اس اولیت کے تمغہ کا جو جناب شیخ عبدالحق ؒ محدث دہلوی کے لیے تجویز کیا گیا ہے ۔حضرت شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی کو مستحق قرار دیں تو شاید بے جا نہ ہو گا۔کیونکہ جس قدر حدیث کی اشاعت آپ کے زمانہ میں ہوئی اس کے ننانوے حصہ نے بھی سابق زمانہ میں اشاعت نہیں پائی‘‘(۱۸)
جمیل احمد نے شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی کی خدمات حدیث کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ 
,,He is an outstanding muhaddiss and links of all modern scholers of the Hadith in the subcontinent may be traced to him,,‘‘(۱۹)
آپ ایک نمایاں محدث تھے اور برصغیر میں موجودہ دور کے تمام علمائے حدیث کا سلسلہ سند انہی سے جڑتا ہے ۔
علم حدیث میں شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی کی تصنیفی خدمات:۔
شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی نے تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی خدمات سر انجام دی ہیں اس ضمن میں انہوں نے موطا امام مالک کے نسخے یحییٰ بن یحییٰ مصمودی کی عربی شرح المسوٰی کے نام سے تحریر کی ہے اس میں انہوں نے ہر حدیث کی نہایت اعلیٰ انداز میں تشریح کی ہے۔ اس کے ہر باب میں حنفی و شافعی مذہب کے اختلافی مسائل کو تطبیق دینے کی کوشش کی ہے جس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ شاہ صاحب کے نزدیک فقہ الحدیث اور درس حدیث کا جو طریقہ تھا ،یہ کتاب اس کا بہترین نمونہ ہے مثلاً باب ھل تحرم مصۃ و مصتان اولاتحرم کے تحت بیان ہونے والی حدیث کی تشریح میں فقہاء کے اختلاف کو یوں لکھتے ہیں کہ 
’’ ذھب الشافعی الی انہ لا یثبت حکم الرضاع باقل من خمس رضعات متفرقات و ذھب اکثر الفقہاء و منھم مالک وابو حنیفۃ الیٰ ان قلیل الرضاع و کثیرہُ محرم ‘‘(۲۰)
یعنی امام شافعی ؒ کے نزدیک متفرق پانچ بار سے کم دودھ پینے سے رضاعت کا حکم ثابت نہیں ہوتا جبکہ اکثر فقہاء جن میں امام مالک ؒ و امام ابو حنیفہ ؒ شامل ہیں قلیل اور کثیر دونوں سے رضاعت کا حکم ثابت ہو جاتا ہے ۔ شاہ صاحب نے حجۃاللہ البالغہ میں مسئلہ رضاعت سے متعلق دیگر احادیث کا بھی تذکرہ کیا ہے لیکن واضح طور پر اپنی رائے نہیں دی البتہ ان کی تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ پانچ بار سے کم دودھ پینے سے رضاعت کے حکم کے قائل نہیں ہیں ۔
اسی طرح شاہ صاحب نے موطاامام مالک کی مفصل شرح المصفٰی (فارسی)کے نام سے لکھی ہے جس میں اختلاف فقہا ء بالتفصیل بیان کیا گیا ہے۔
المسوٰی اور المصفٰی بلاشبہ فقہ الحدیث کا بہترین نمونہ ہیں ان کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی نے بر صغیر کے فقہی جمود کو توڑنے کی کوشش کی ہے اور راہ اعتدال اپنانے کا راستہ دکھایا ہے اسی سلسلہ میں مولوی رحیم بخش دہلوی لکھتے ہیں کہ 
’’ جو لوگ اس شرح کو ایک دفعہ بنظر غائر اول سے آخر تک پڑھ جاتے ہیں پھر انہیں احادیث کی تحقیقات پر زیادہ محنت کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف کو فقہ و حدیث پر کس درجہ عبور اور استخراج مسائل میں کتنا تبحر تھا‘‘(۲۱)
اسی طرح شاہ صاحب نے حجۃاللہ البالغہ میں بھی علم حدیث کے حوالے سے کچھ مباحث تحریر کی ہیں اس کے ساتھ ساتھ شاہ صاحب نے شرح تراجم ابواب بخاری کے نام سے ایک مفصل مضمون لکھا جو چار صفحات پر مشتمل تھا پھر اس کے بعد ۱۱۵۶ھ میں شرح تراجم ابواب بخاری کے نام سے ایک مفصل مضمون لکھا جو دا ئرۃالمعارف حیدرآباد دکن سے ۱۲۷ صفحات پر شائع ہوا ۔ اس کے بعد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے ''اربعون حدیثاً سلسلۃ بالاشراف فی غالب سندھا'' کے نام سے ایک رسالہ لکھا جو اربعین ولی اللہٰی کے نام سے شائع ہوا اس رسالے میں آغاز حفظ حدیث کی اہمیت پر چند احادیث ملتی ہیں ان کے بعد شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ 
’’ مافیھا یسیرۃ و معانیھا کثیرۃ‘‘(۲۲)
یعنی اس میں بیان کی گئی کئی احادیث چھوٹی ہیں مگر ان کے معنی بہت وسیع ہیں اس مضمون میں شاہ صاحب نے ایسی احادیث بیان کی ہیں کہ جن کی سند نبیؐ سے شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی تک شیخ ابو طاہر مدنی کی سند سے مروی ہیں شاہ صا حب نے یہ تمام اسناد اپنے رسالہ میں بیان کی ہیں وہ خود رقمطراز ہیں کہ 
’’ فھٰذا اربعون حدیثا مسندۃ بالسند الصحیح الی النبیﷺ‘‘(۲۳)
یعنی یہ چالیس احادیث صحیح سند سے روایت کی گئی ہیں اسی طرح ایک اور کتاب جو چالیس احادیث پر مشتمل ہے اس کو شاہ صاحب نے عربی زبان میں تحریر کیا ہے اس کا نام ’’ الدرالثمین فی مبشرات النبی الامین‘‘ ہے مختصر یہ کہ شاہ صاحب کا علم حدیث پر یہ کام ایسے بہت سے علوم حدیث کی مباحث کو اجاگر کرتا ہے کہ جن سے فہم حدیث کی گرہیں کھلتی ہیں ۔ بحیثیت مجموعی شاہ صاحب کا یہ کارنامہ اپنی نوعیت میں منفرد ہے ان کے اس عمل نے ان کے خاندان کے دیگر افراد کو تحریک دی ہے جس کے نتیجہ میں شاہ عبدالعزیز ؒ ، شاہ عبدالقادر ؒ ، شاہ رفیع الدین ؒ ، شاہ عبدالغنی ؒ ، شاہ محمد اسمٰعیل شہید ؒ ، شاہ محمد اسحق ؒ ، شاہ محمد یعقوب ؒ ، اور شاہ محمد مخصوص اللہ ؒ نے علم حدیث میں بہت ذیادہ خدمات سر انجام دی ہیں ذیل میں ان کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ 
شاہ عبدالعزیز ؒ محدث دہلوی (۱۸۲۴ء/۱۲۳۹ھ):۔
شاہ عبدالعزیز برصغیر کے مشہورمدرس، محدث، مفسر اور فقیہ تھے آپ نے علم حدیث میں بہت زیادہ خدمات سر انجام دی ہیں مدرسہ رحیمیہ میں اپنے والد شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی سے حدیث کی سند حاصل کرنے کے بعد اس وقت کے محدث شاہ محمد عاشق پھلتی اور خواجہ محمد امین ولی اللٰہی سے بھی روایت کی اجازت لی ہے اور اپنے والد محترم کی وفات کے وقت ان کی عمر سترہ سال تھی اس وقت ان کی مسند پر جانشین مقرر ہوئے اور ساٹھ سال تک قرآن و حدیث کی تدریس فرماتے رہے آپ نے اپنی عمر کا اکثر حصہ احادیث نبویہ کی تحقیق و تدوین اور اشاعت و تبلیغ کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ آپ نے شوال ۱۲۳۹ھ بمطابق ۳۰ مئی ۱۸۳۳ء کو دہلی میں وفات پائی۔(۲۴)
شاہ عبدالعزیز ؒ نے متعدد کتابیں تصنیف کیں جن میں تفسیر فتح العزیز ، تحفہ اثناعشریہ، العجالۃ النافعہ، التعلیقات علی المسوٰی، بستان المحدثین ہیں۔
التعلیقات علی المسوٰی:۔ شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی کی موطا امام مالک کی عربی شرح المسوٰی کے بعض مقامات پر تعلیق کی ہے۔(۲۵)
العجالۃ النافعۃ:۔ شاہ عبدالعزیز ؒ کی اصول حدیث کے موضوع پر یہ جامع اور مستند کتاب ہے جس میں مصطلحات حدیث ،اس کی اقسام و مراتب اور احادیث کی تنقید کے اصول و قواعد نہایت خوش اسلوبی سے لکھے ہیں یہ مضمون کئی بار پاکستان اور ہندوستان میں اردو اور فارسی میں شائع ہو چکا ہے۔ اس کا اردو ترجمہ مولانا عبدالحلیم چشتی نے کیا ۔
اس مضمون کا سبب تالیف شاہ عبدالعزیز ؒ نے یوں بیان کیا ہے کہ
’’ ایں رسالہ ایست رائعہ و عجالہ ایست نافعہ در فوائد متعلقہ بعلم حدیث کہ باعث بر تحریر آں شوق و خواہش برادر عالی مائثر جامع المناقب والمناخر نور حدقہ شرافت و نور حدیقہ سیادت سیدقمر الدین الحسنی است۔۔۔۔۔ دریں ایام داعیہ اشتغال بایں علم شریف و فن منیف در خاطر عاطر ایشاں تمکن ورسوخ پیدا کردہ ازیں ہیچمدان محفل افادہ ، و استفادہ بنا بر حسن ظنے کہ دارند درخواست اجازت کارو اعانت در تحمل ایں بار فرمودہ اند‘‘۔(۲۶)
یعنی یہ مضمون بہت عمدہ اور مفید ہے اور یہ علم حدیث کے فوائد سے متعلق ہے اس کی وجہ تحریر برادر عالی سید قمرالدین حسنی کی خواہش ہے۔ خوش قسمتی سے ان دونوں کے دل میں علم حدیث سے شغف کا جذبہ غالب ہے اور یہی شوق ان کے ذہن میں راسخ ہے چونکہ انہوں نے یہ مضمون مجھ سے لکھنے کو کہااور میں نے لکھ دیا۔
یہ کتاب دو فصلوں پر مشتمل ہے پہلی فصل میں علم حدیث کے فوائد، کتب حدیث کے طبقات ، راویوں کے اسماء کی تحقیق وضبط کا بیان اور کتب احادیث کی اقسام کا تذکرہ ملتا ہے۔ جبکہ دوسری فصل میں کتب حدیث کی اسناد کا ذکر ہے اور کتاب کے آخر میں وضع حدیث کے اسباب بیان کئے گئے ہیں
بستان المحدثین:۔ یہ کتاب فارسی زبان میں شاہ عبدالعزیز ؒ محدث دہلوی نے تاریخ حدیث کے فن پر تحریر کی ہے جس کا ترجمہ مولانا عبدالسمیع نے کیا ہے اس کو میر محمد کتب خانہ مرکز علم و ادب آرام باغ کراچی نے شائع کیا ہے اس کتاب میں مولفین کتب حدیث اور ان کے احوال و آثار کو بہتر انداز سے بیان کیا گیا ہے جس بناء پر یہ کتاب مقبول عام کا درجہ رکھتی ہے اس کتاب کی تالیف کا مقصد بیان کرتے ہوئے شاہ عبدالعزیز ؒ اس کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ
’’ چونکہ اکثر رسائل اور تصنیفات میں ایسی کتابوں سے حدیثیں نقل کی جاتی ہیں کہ جن پر اطلاع نہ ہونے کی وجہ سے سننے والوں کو حیرانی پیش آتی ہے۔ اس وجہ سے اصل مقصود تو انہی کتابوں کا ذکر ہے مگر تبعاً ان کے مصنفین کا بھی ذکر کیا جائے گا کیونکہ مصنف سے اس کی تصنیف کی قدر معلوم ہوتی ہے نیز ہمارا مقصود فقط متون کا ذکر ہے مگر بعض شرحوں کا بھی اس وجہ سے ذکر کیا جائے گا کہ کثرت شہرت اور کثرت نقل اور ذیادتی اعتماد کی وجہ سے اگر ان کو متون کا حکم دیا جائے تو کچھ بیجا نہ ہو گا‘‘(۲۷)
آغاز کتاب، موطا امام مالک کے تعارف سے ہے جس میں امام مالک کے احوال و آثار اور علم حدیث میں ان کی خدمات ، دیگر محدثین کی امام صاحب کے بارے آراء کا ذکر کیا گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ اس کتاب میں موطاکے مختلف نسخوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے جسمیں اس کے سولہ نسخے اور ان کے راویاں کے حالات کا تذکرہ ملتا ہے۔ ان نسخوں کے تذکرہ کے بعد مسانید کا ذکر ملتا ہے جسمیں اکثر ایسی مسانید ہیں کہ بعد والے لوگوں نے ان آئمہ کرام کے نام سے منسوب کردی ہیں مثلاً مسند امام اعظم، یہ محمد بن محمود بن محمد خوارزمی نے لکھی ہے لیکن اس کی نسبت امام اعظم کی طرف ہے ۔ اسی طرح مسند احمد بن حنبل ، امام احمد کی اپنی تالیف ہے مگر اس کی ترتیب ان کے بیٹے نے کی ہے اور حافظ ابوبکر بن محب الدین نے اسے حروف معجم پر مرتب کیا ہے اس کے بعد ابو داؤد الطیالسی، مسند عبد بن حمید ، مسند حارث بن ابی اسامہ اور مسند بزاز کا تعارف کروانے کیساتھ ساتھ مصنفین کے حالات اور مسانید کی پہلی احادیث کا ذکر کرتے ہیں۔(۲۸)
مسانید کے بعد مستخرجات مثلاً صحیح عوانہ، مستخرج علٰی صحیح مسلم لابی نعیم کا تذکرہ ملتا ہے لیکن ان کے درمیا ن صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم کا بھی ذکر موجود ہے ۔ ان کے بعد سنن، مصنف، جزء، اربعین اور جامع کے عنوان پر مشتمل کتب کا تذکرہ کیا گیا ہے اس کے علاوہ بہت سی متفرق کتب بھی شامل ہیں ان کے بعد شروحات کتب حدیث پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے اور ساتھ ساتھ ان کے مولفین کے آثار و احوال پر بھی بحث موجود ہے اور ان کے ساتھ کتب پر نقد ، ایجابیات و سلبیات کا بھی ذکر ہے اور کبھی کبھی دیگر کتب حدیث سے موازنہ بھی کر دیتے ہیں ۔ (۲۹)
بستان المحدثین کی خصوصیات:۔
تاریخ حدیث پر لکھی گئی اس کتاب کی بہت سی خصوصیات ہیں جن کا ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے۔
۱۔ اس میں ہر کتاب کا تعارف اس کی پہلی حدیث کے ساتھ کروایا گیا ہے اور اس کو اسی طرح اپنی تصنیف میں نقل کر دیا گیا ہے ۔
۲۔ جن جن علاقوں میں ان معروف محدثین کی کتب کی شہرت ہوئی ان کے نام کا ذکر بھی کر دیا گیا ہے مثلاً صحیح عوانہ کے حوالہ سے شاہ صاحب رقمطراز ہیں:۔
’’ شافعی المذہب تھے اسفرائن میں مذہب شافعی کی ابتداء انہی سے ہوئی‘‘(۳۰)
۳۔ موطاامام مالک کے دیگر نسخوں کے تذکرہ کے بعد ان احادیث کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو کہ کسی دوسرے نسخہ میں موجود نہ ہیں۔
۴۔ علم حدیث میں مصنفین کتب کے مقام و مرتبہ کی بھی وضاحت کر دیتے ہیں کہ ان کا درجہ کون سا تھا مثلاً عبد بن حمید کے حوالہ سے لکھا ہے کہ
’’ فن کے اماموں میں شمار ہوتے تھے اور بہت ثقہ و معتبر خیال کئے جاتے تھے‘‘(۳۱)
اسی طرح سوید بن سعید کے بارے میں مصنف اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ 
’’ آخری عمر میں کبر سنی ، بڑھاپا ،ضعف بصارت و حافظہ میں خلل کے سبب قابل اعتماد نہیں رہا‘‘(۳۲)
۵۔ شاہ صاحب نے اپنی اس کتاب میں ان تمام محدثین کی صفات تفصیلاً بیان کر دی ہیں جو فن معرفت علل حدیث و اسماء الرجال و دیگر فنون میں ماہر تھے۔
۶۔ شاہ صاحب کی اس کتاب کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ اس کتاب میں بیان کی گئی احادیث کی تعداد کا ذکر بھی کرتے ہیں مثلاً مشکوٰۃ المصابیح کے حوالے سے رقمطراز ہیں کہ
’’ اس کتاب میں کل ۴۴۸۴ حدیثیں ہیں ۔ صحاح میں بخاری و مسلم سے ۲۴۳۴ اور سنن ابی داؤد و ترمذی وغیرہ سے دو ہزار پچاس ‘‘(۳۴)
۸۔ شاہ صاحب نے جہاں محسوس کیا کہ فلاں فلاں مقامات قابل تنقید ہیں تو وہاں بلاتعصب تنقید بھی کی ۔
۹۔ شاہ صاحب نے محدثین پر اٹھنے والے سوالات کے جوابات بھی اپنی اس کتاب میں تحریر کئے ہیں۔
۱۰۔ کتب احادیث کے مختلف نسخوں کا ذکر کرتے ہوئے شاہ صاحب یہ بھی وضاحت کرتے ہیں کہ کس ملک میں کونسا نسخہ مروج ہے۔
بستان المحدثین کا تنقیدی جائزہ:۔
یہ کتاب اپنے موضوع کے اعتبار سے علم حدیث میں انسائیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے اس میں محدثین کی کتب کے تعارف کے علاوہ ان کے احوال و آثار اساتذہ و تلامذہ کابھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ محدث کے اپنے اشعار بطور نمونہ اور اس کی تصنیف کے حوالے سے کہے گئے اشعار بھی درج کرتے ہیں۔ پھر اس محدث کی تصنیف کے مختلف مستند نسخوں کا تذکرہ کرتے ہیں کہ وہ نسخے محدث کے کس کس شاگرد نے تیار کئے ۔ اور وہ کہاں کہاں ملتے ہیں اس کے علاوہ اس کتاب کا اسلوب سادہ و عام فہم ہے اور انداز دلنشین ہے لیکن ان تمام خصوصیات کے باوجود اس پر تنقیدی جائزہ کا لے آنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
۱۔ شاہ صاحب نے اس کتاب کو مرتب کرتے وقت اصول تصنیف کتب کا خیال نہیں رکھا اس کتاب کی نہ ہی ابواب بندی کی گئی ہے اور نہ ہی فصول بنائی گئی ہیں مضامین کاذکر بھی بغیر ترتیب کے ملتا ہے مثلاً سب سے پہلے موطا امام مالک اور اس کے سولہ نسخے بیان کرتے ہیں اس کے بعد مسانید کا ذکر، اس کے بعد مستخرجات، اس کے بعد مسند دارمی کا ذکر، اس کے بعد سنن پھر مصنفات اور معاجم کا ذکر موجود ہے اور مصنفات و معاجم کے درمیان اور بہت سی کتب کا بھی ذکر کرتے ہیں اسی طرح جزء اربعین اور صحاح کا تذکرہ کرتے ہوئے ترتیب کا خیا ل نہیں رکھا گیا۔ اگر شاہ صاحب کتاب کی ابواب بندی کے ساتھ جامع ، سنن، مسند ، معجم ، جزء، مستخرجات ، مستدرک ، اربعین ، اطراف و شروحات کتب حدیث کا تذکرہ کرتے تو کتاب کا اسلوب بھی بہتر نظر آتا اور سمجھنے میں بھی آسانی پیدا ہو جاتی اس لئے کہ ربط برقرار رہتا تھا محقق کے مطابق آج اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ کوئی طالبعلم اصول حدیث کو مدنظر رکھ کر اس کتاب کی ابواب بندی کر کے شائع کروائے تو بہت بہتر ہو گا۔
۲۔ بعض مقامات پر شاہ عبدالعزیز نے کتاب کے مصنف کا نام وضاحت کے ساتھ ذکر نہیں کیا مثلاً کتاب اقتضاء العلم والعمل کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ خطیب کی کتاب ہے(۳۵) یہ وضاحت نہیں کی کہ اس سے خطیب بغدادی یا خطیب عمری مراد ہیں اس تحریر سے قاری تذبذب کا شکار نظر آئے گا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مصنف کا نام وضاحت سے بیان کرتے جیسا کہ نوادرالاصول کے بارے تحریر کیا کہ یہ حکیم ترمذی کی کتاب ہے نہ کہ ابو عیسٰی ترمذی کی ، جن کی کتاب صحاح ستہ میں شامل ہے یہ ان کے علاوہ ہیں(۳۶)
۳۔ بہت ساری مشہور کتب حدیث کو شاہ صاحب نے اپنی اس کتاب میں نظر انداز کیا ہے جیسے امام نووی کی اربعین ، امام بخاری کی جزء رفع الیدین اور امام نسائی کی کتاب الجمعہ وغیرہ۔
۴۔ شاہ عبدالعزیز نے اس کتاب میں عام طور پر کتاب اور مصنف کا تعارف تفصیلاً کرایا ہے مگر بعض مقامات پر اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا مثلاً مسندا لعدنی اور احادیث الحنفاء کی کتاب اور مصنف کا تعارف نہیں ملتا ۔(۳۷)
اسی طرح اور بہت سی مثالیں کتاب میں موجود ہیں کہ جن کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ساری کتاب میں ایک انداز برقرار نہیں رکھا گیا ۔
شاہ رفیع الدین ؒ دہلوی(ف۱۸۱۸ء/۱۲۳۳ھ):۔
شاہ رفیع الدین ؒ ، شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی کے دوسرے فرزند ہیں آپ ۱۷۴۹ء/۱۱۶۳ھ کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے گھر سے ہی کیا اور جب آپ تیرہ سال کے ہوئے تو آپ کے والد بزرگوار شاہ ولی اللہ ؒ کا انتقال ہو گیا تو باقی تعلیم اپنے برادر اکبر شاہ عبدالعزیز ؒ اور اپنے ماموں شیخ محمد عاشق پھلتی سے حاصل کی اور جلد ہی علوم دینیہ میں مہارت حاصل کرلی (۳۸)
اور پھر اپنے دادا کے مدرسہ رحیمیہ میں درس و تدریس اور افتاء و ارشاد کا سلسلہ شروع کردیا۔
اس حوالے سے شاہ عبدالعزیز ؒ اپنے ایک مکتوب بنام شاہ ابو سعید مجددی رائے بریلی کے نام تحریر فرماتے ہیں کہ 
''شاہ رفیع الدین بفضل الٰہی تحصیل علوم سے فارغ ہو گئے ہیں ایک مجلس میں علماء وفقراء کے سامنے ان کی دستار تبرک باندھ دی گئی ہے اور درس کی اجازت دی گئی ہے الحمدللہ ان سے بہت سے طالبان مستفید ہو رہے ہیں''(۳۹)
شاہ عبدالعزیز نے ضعف کی بناء پر درس و تدریس کو ترک کر دیا تو شاہ رفیع الدین ان کی جگہ درس و تدریس کے فرائض سر انجام دینے لگے اس حوالے سے ڈاکٹر محمد سعد صدیقی رقمطراز ہیں کہ 
’’ حصول علم کے بعد آپ تدریس و تالیف سے وابستہ ہو گئے علم حدیث کی خدمات میں زیادہ تر تدریسی خدمات کا حصہ ہے سلسلہ شاہ ولی اللہ کی ترویج و ترقی میں آپ نے نمایاں کردار ادا کیا‘‘(۴۰)
آپ نے اپنے برادر اکبر شاہ عبدالعزیز کی مسند پر بیٹھ کر قرآن و حدیث کا درس دینا شروع کردیا ہندوستان کے دور دراز علاقوں سے لوگ قرآن و حدیث کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے شاہ رفیع الدین کے ہاں آتے تھے اس سلسلہ میں مولانا ابراہیم سیالکوٹی لکھتے ہیں کہ 
’’ دور دراز کے شہروں سے جو زبردست فضلاء آپ کی قدم بوسی کا شرف حاصل کرتے تھے باوجود اسکے کہ فضل و کمال کی سند حاصل کئے ہوئے تھے پھر بھی آپ کا تبحر علمی دیکھ کر عش عش کر اٹھتے ۔دیار ہند کے تمام نامی اور مشہور فضلاء آپ ہی کے مستفیضوں اور خوشہ چینوں میں شمار کئے جاتے ہیں آپ کو ہر فن کے ساتھ اعلیٰ نفاست تھی‘‘(۴۱)
علم حدیث میں آپ نے صرف تدریسی خدمات سر انجام دی ہیں آپ نے مسند درس کی نہ صرف لاج رکھی بلکہ اپنے آباء و اجداد کے علمی وقار کو بلند کیا آپ نے ابتداء سے ہی درس و تدریس اور فتاویٰ و ارشاد کا ایسا انداز اختیا ر کیا جو ولی اللہٰی خاندان کے ہی شایان شان ہوسکتا تھا آپ کے برادر اکبر شاہ عبدالعزیز ؒ نے آپ کے علمی تبحر کا ان الفاظ سے اعتراف بھی کیا ہے کہ 
’’ اب برادر یگانہ اور خلیق زمانہ کا وقت ہے جو نسبتاً میرے حقیقی بھائی ہیں اور علوم و فنون و ادب میں ( جن کا لوگ مجھ سے انتساب کرتے ہیں ) میرے شریک ہیں ۔وہ عمر میں مجھ سے کچھ ہی چھوٹے ہیں مگر فن و حکمت میں میرے برابر ہیں ۔‘‘۔(۴۲)
شاہ رفیع الدین ؒ نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک تدریس کے عمل میں سرگرم رہے ۔آپ کا درس مشہور رہا مگر تلامذ ہ کی کوئی جامع تعداد کی فہرست نہیں مل سکی البتہ تذکرہ علمائے ہند کا مصنف رقم طراز ہے کہ 
’’ آپ کے شاگردوں میں شاہ احمد سعید مجددی ، شاہ عبدالغنی مجددی ، شاہ محمدمخصوص اللہ ، شاہ محمد اسحق مہاجر مکی ، مولانا محمد شکور مچھلی شہری ، سید محمد بخش ، مولانا رشیدالدین دہلوی ، مولوی آل حسن قنوجی اور مولوی حسین احمد ملیح آبادی کا شمار ہوتا ہے۔ ‘‘(۴۳)
شاہ رفیع الدین ؒ کا علمی تبحر اور فضل و کمال ہر گوشہ میں قابل توصیف ہے ۔آپ نے عمر کی ستر بہاریں دیکھنے کے بعد شاہ عبدالعزیز ؒ کی حیات میں ہی ۱۹ اگست ۱۸۱۸ء بمطابق ۶ شوال ۱۲۳۳ھ کو وفات پائی(۴۴)
شاہ عبدالقادر ؒ دہلوی(۱۸۱۴ء/ ۱۲۳۰ھ):۔
شاہ عبدالقادر ؒ دہلوی ،شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی کے تیسرے فرزند ہیں۔ آپ ۱۷۵۳ء/۱۱۶۷ھ میں پیدا ہوئے۔(۴۵)
شاہ عبدالقادر ؒ دہلوی بڑے زاہد و عابد تھے دنیا اور اہل دنیا سے کنارہ کرتے رہتے تھے آپ کے بارے میں نواب صدیق حسن خان قنوجی رقمطراز ہیں کہ ’’ کان عالماً زاھداً فاضلاً عابداً ذاورع فی الدین ولہ وجہ وای وجہ بین المتقین‘‘۔(۴۶)
آپ نے علم حدیث اپنے بھائی شاہ عبدالعزیز ؒ اور شیخ محمد عاشق سے حاصل کیا آپ علم حدیث میں یگانہ روزگار تھے آثار الضادید میں لکھا ہے کہ 
’’ آپ کے علم و فضل کو بیا ن کرنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی آفتاب کی تعریف فروغ اور فلک کی مدح بلندی کے ساتھ کرے ۔زبان کو کیا طاقت کہ ایک حرف حضرت کی صفات لکھ سکے اور قلم کو کیا مجال کہ آپ کی مدح میں ایک ذرہ لکھ سکے ‘‘(۴۷)
آپ دہلی کی جامع مسجد میں بیٹھ کر علم حدیث کے دریا بہاتے تھے حدائق حنفیہ میں لکھا ہے کہ 
’’ آپ خصوصاً حدیث و تفسیر میں یگانہ روزگار ،صاحب ورع و تقوی اور صادق الفراست تھے ۔علوم آپ نے اپنے بھائی شاہ عبدالعزیز سے حاصل کئے تمام عمر تدریس و تنشیر میں رہ کر خاص و عام کو اپنے چشمہ فیض سے سیراب کیا،،۔(۴۸)
اسی طرح ابو یحییٰ امام خان نوشہروی لکھتے ہیں کہ 
’’ تحدیث و تدریس سے جو وقت بچتا ،ذکر و فکر میں گزارتے۔ علماء و رؤساء شہر ہمہ وقت حاضر رہتے ۔جلال کا یہ عالم تھا کہ حلقہ میں کسی کو آنکھ اٹھانے کی جرات نہ ہوتی تھی۔ مزاج میں استغناء حد درجہ تک تھا‘‘(۴۹)
آ پ کی درس گاہ سے فیض یاب ہونے والوں میں ''مولانا عبدالحئی بڈھانوی ،شاہ اسمٰعیل شہید، ؒ مولانا فضل حق خیر آبادی ،مرزا حسن علی شافعی،شاہ محمد یعقوب مہاجر مکی، شاہ محمد اسحق دہلوی، مولانا محبوب علی ، مولانا صدرالدین اور سید اسحق بن فرمان رائے بریلی جیسی شخصیات شامل ہیں''۔ (۵۰)
ان تمام تلامذہ نے خاندان ولی اللٰہی کے امین بن کر پوری دنیا کو ولی اللہٰی علوم سے متعارف کروایا۔
شاہ عبدالقادر ؒ دہلوی نے علم حدیث کے میدان میں تدریسی خدمات سر انجام دی ہیں۔ علم حدیث پر آپ کی کوئی تصنیف موجود نہیں ہے البتہ علم قرآن میں قرآن مجید کا اردو ترجمہ ، موضح القرآن کے نام سے موجود ہے آپ کی سیرت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آ پ درس و تدریس میں مصروف رہنے کی وجہ سے تصنیف و تالیف کی طرف زیادہ توجہ نہیں دے سکے تھے۔
آپ ۱۲۳۰ھ/۱۸۱۴ء کو معمولی علالت کے بعد وفات پاگئے وفات کے وقت شاہ عبدالعزیز ؒ اور شاہ رفیع الدین ؒ بقید حیات تھے جب یہ دونوں برادر آپ کی قبر پہ مٹی ڈال رہے تھے تو فرمانے لگے:۔
’’ انا لاندفن الانسان بل ندفن العلم والعرفان‘‘(۵۱)
شاہ عبدالغنی ؒ (۱۲۳۰ھ):۔
شاہ عبدالغنی ، ؒ شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے ۔معروف روایات کے مطابق آپ ۱۱۷۱ھ ،دہلی میں پیدا ہوئے(۵۲) ابتدائی تعلیم کا آغاز گھر سے ہی ہوا اپنے والد بزرگوار سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور بہت جلد قرآن حفظ کر لیا اس کے بعد آپ نے شاہ عبدالعزیز ؒ اور شاہ رفیع الدین ؒ سے حدیث، تفسیر و فقہ میں مہارت تامہ حاصل کی۔ حدیث و تفسیر کے علوم میں آپ یکتا روزگار تھے۔ شکل و شباہت میں شاہ ولی اللہ ؒ سے مشابہت رکھتے تھے آپ نے بھی علم حدیث حاصل کرنے کے بعد تدریس کے شعبہ کو ہی اختیا کیا اگرچہ فقہ اور دیگر علوم نقلیہ پر بھی دسترس رکھتے تھے لیکن آپ کو کتاب و سنت کی تعلیم سے بہت زیادہ دلچسپی تھی بالخصوص آپ کو علم حدیث سے بہت شغف تھا اسی حوالے سے الواح الصنادید میں لکھا ہے کہ 
’’ شاہ عبدالغنی علم و فضل میں فخر روزگار ہونے کے ساتھ ساتھ باطنی فیض میں بھی شہرت رکھتے تھے اکثر اوقات درس و تدریس میں اور دعوت و ارشاد او ر طلبہ کی تربیت میں گزارتے تھے۔ حضرت مفتی الٰہی نے جو ہندوستان کے جلیل القد ر عالم دین اور فقیہ تھے۔ شاہ رفیع الدین ؒ اور شاہ عبدالقادر ؒ کے ہم درس تھے انہوں نے بھی شاہ عبدالغنیؒ سے حدیث مسلسل بالاولیہ حاصل کی۔اور اجازت لی تھی جیسا کہ مفتی صاحب کی بیاض میں درج ہے ’’ حدیث مسلسل بالاولیۃ و ھوا ول ما سمعتہ من الحدیث حدثنا الشیخ عبدالغنی عن ابیہ الشاہ ولی اللہ‘‘۔(۵۲)
ابو یحییٰ امام خاں نوشہروی نے لکھا ہے کہ'' مولانا قاسم نانوتوی نے آپ سے حدیث پڑھی تھی''۔(۵۴)
آپ جب تک زندہ رہے آپ کا مشغلہ درس و تدریس ہی رہاہے آپ اگرچہ اپنے بھائیوں سے سب سے چھوٹے تھے مگر وفات سب سے پہلے پائی آپ کا سن وفات ۱۲۰۳ ھ ہے۔(۵۵)
شاہ محمد اسحٰق مکی(۱۲۶۲ھ؍۱۸۲۹ء):۔
شاہ محمد اسحٰق ۱۱۹۲ھ؍۱۷۷۸ء کو پیدا ہوئے۔ان کے والد محمد افضل فاروقی تھے۔آپ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے نواسے تھے اور ان کی وفات کے بعد ان کی مسند علم و خلافت پر جا نشین بنے۔آپ نے شاہ عبدالعزیز ،شاہ عبدالقادراورشاہ رفیع الدین سے معقولات و منقولات سبقا پڑھیں۔آپ نے شیخ عمر بن عبدالعزیزمکی(۱۲۴۷ھ؍۱۸۳۱ء)سے سند و اجازہ حدیث حاصل کیا۔آپ ۱۲۵۸ھ؍۱۸۴۲ء کو شاہ محمد یعقوب کو ساتھ لے کر بیت الحرام کے ارادے سے ہجرت کی۔راستہ میں جہاں بھی قیام کرتے اس کو مستقل قیام کا نام دیا جاتا۔اسی سفر میں مفتی صدر الدین اور حضرت میاں نذیر حسین کو سند عطا کی۔آپ نے مکہ مکرمہ میں ۲۱۶۲ھ؍۱۸۲۹ء کو وفات پائی اور ان کی نماز جنازہ شیخ عبداللہ سراج مکی نے پڑھائی۔(۵۶) 
الغرض خاندان ولی اللہٰی اپنے علم و فضل کے اعتبار سے ہندوستان میں لاثانی ہے۔ برصغیر میں علم حدیث کی اشاعت کا سہرا انہی کے سر ہے۔ خاندان ولی اللہٰی نے آج تک علم حدیث کے میدان میں تدریسی و تصنیفی خدمات ہی سر انجام دی ہیں۔ عملی کام صرف شاہ اسمٰعیل شہید کے حصے میں آیا اس مرد مجاہد نے تدریسی میدان کو چھوڑ کر جہاد کی راہ اپنائی مگر تدریس کے میدان کو بھی خالی نہ چھوڑا ۔یہ خاندان ولی اللہٰی ہی ہے کہ جس نے تحریک حدیث کو سرزمین حجاز تک پہنچا دیا اللہ تعالیٰ نے شاہ عبدالعزیز کو شاہ محمد اسحق کی صورت میں ایسا نواسہ عطا کیا جو مدرسہ رحیمیہ سے حجاز مقدس جا کر وہاں کے لوگوں کو علم حدیث سے فیض یاب کرنے لگا۔خاندان ولی اللہٰی کی تحریک علم حدیث کی وجہ سے برصغیر کے کونے کونے میں یہاں کے فارغ التحصیل طلباء پھیل گئے تو اس طرح شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے جس علم کی بنیادکئی سال پہلے ڈالی تھی اب وہ آسمان سے باتیں کرنے لگی تھیں۔ برصغیر کا کوئی ایسا شہر یا بستی نہیں بچے تھے کہ جہاں علم حدیث کی شعائیں نہ پہنچی ہوں اور آج بھی برصغیر کا کوئی ایسا مدرسہ بھی نہیں ہے جہاں قرآن مجید کے ساتھ ساتھ علم حدیث کی تعلیم نہ دی جاتی ہو۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی کوششوں سے علم حدیث نے برصغیر میں جو مقام و مرتبہ حاصل کیا تھاخاندان ولی اللہٰی کی کوششوں سے عروج پر پہنچ گیا ورنہ پہلے لوگ علم حدیث حاصل کرنے کے لئے سر زمین عرب کا رخ کرتے تھے اور اب اہل عرب بھی اس خاندان کی شاگردی کو فخر تصور کرتے تھے۔
حوالہ جات وحواشی
۱۔ ولی اللہ، شاہ، مقدمہ فتح الرحمن(فارسی)، ص ۲، دہلی مطبع فاروقی، س۔ن۔
۲۔ ولی اللہ ،شاہ، التفہیمات الالٰہیہ (عربی)، حصہ اول ، ص ۲۱۴، حیدرآباد ،شاہ ولی اللہ اکیڈمی، ۱۹۷۰۔
۳۔ عبدالحئی الحسنی ،سید، نزھۃالخواطر (عربی)، حیدرآباد (دکن)، مجلس دائرۃ المعارف، س۔ن۔
۴۔ماہنامہ البلاغ ،شمارہ نمبر ۱۲ ، ۱۳۸۷ھ ،ص ۲۲۔
۵ ۔ التفہیمات الالٰہیہ (عربی) ،حصہ اول ، ص۲۱۴، ۲۱۵۔
۶۔ماہنامہ الرحیم ،حیدرآباد،اپریل ۱۹۶۵ء ، جلد دوم ص ۲۲۔ 
۷۔ گیلانی ،مناظر احسن، مولانا، پاک و ہند میں مسلمانوں کا نظام تعلیم و تربیت، لاہور، اسلامک پبلیکیشنز، ۱۹۸۰، ص ۲۴۰۔ ۲۴۴۔
۸۔ ندوی ،ابوالحسن علی ،تاریخ دعوت و عزیمت ، کراچی ، مجلس نشریات اسلام ،س۔ن حصہ پنجم ص ، ۱۸۳۔
۹۔ شاہ معین الدین، مقالات سلیمان، اسلام آباد، نیشنل فاؤنڈیشن، ۱۹۸۹،ج۲ ص ۴۴۔
۱۰۔ ولی اللہ، شاہ، انفاس العارفین ( فارسی) ملتان، اسلامی کتب خانہ ،س۔ن ص ۱۹۹۔
۱۱۔ بختیار حسین صدیقی ، مسلمانوں کی تعلیمی فکر کا ارتقاء ، لاہور ، ادارہ ثقافت اسلامیہ، ۱۹۸۳ ص ۹۸۔
۱۲۔ جلبانی، غلام حسین ، پروفیسر ، شاہ ولی اللہ کی تعلیم ، لاہور ، ادارہ مطبوعات ، ۱۹۹۹ ، ص ۸۹۔
۱۳۔ ایضاً ،ص ۶۲۔
۱۴۔ بشرالدین دہلوی ، واقعات دارالحکومت دہلی ،دہلی، اردو اکیڈمی، ۱۹۹۰، ج ۲ص ۵۸۶۔
۱۵ ۔محمد اسحق، ڈاکٹر، علم حدیث میں پاک و ہند کا حصہ، مترجم: رزاقی، شاہد حسین، لاہور،ادارہ ثقافت اسلامیہ، س۔ن۔ ص ۱۹۳۔
۱۶۔ سلفی ،اسمعیل، مولانا، تحریک آزادی فکر اور شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی، چیچہ وطنی، مکتبہ نذیریہ، ۱۹۶۹، ص ۱۱۴۔
۱۷۔ محمد سلیم ،پروفیسر، ہندو پاکستان میں مسلمانوں کا نظام تعلیم و تربیت ، لاہور ، اسلامک پبلیکیشنز، ۱۹۸۰، ص۲۵۵۔
۱۸۔ رحیم بخش دہلوی ،حیات ولی، لاہور، مکتبہ طیبہ، ۱۹۷۳، ص۳۰۵۔
۱۹۔ Jamil Ahmed, Hundred Great muslims, Lahore Feroz sons1984, p- 299
۲۰۔ ولی اللہ، شاہ، حجۃاللہ البالغہ (عربی)، قاہرہ، دارالکتب الحدیث۔ س۔ن ص ۴۳۱۔
۲۱۔ حیات ولی ، ص ۴۰۲۔
۲۲۔ ولی اللہ ،شاہ، چہل حدیث، بنارس، مطبع سلیمانی، س۔ن، ص ۲۔
۲۳۔ ایضاً۔ ۲۴۔ نزھۃ الخواطر ، ص ۲۷۰۔
۲۵۔ ولی اللہ، شاہ، المسوٰی(عربی)، مکۃ المکرمہ، المطبعۃ السلفیہ، ۱۳۵۱ھ،ج۲ ص ۵۴۔
۲۶۔ عبدالعزیز ،شاہ، عجالہ نافعہ مع فوائد جامعہ (فارسی)، کراچی، نور محمد تجارت کتب ،۱۹۶۴ء، ص ۲۔
۲۷۔ عبدالعزیز ،شاہ، بستان المحدثین، مترجم: عبدالسمیع، مولانا، کراچی، میر محمد کتب خانہ مرکز علم و ادب آرام باغ، ص ۱۱۔
۲۸۔ ایضاً ،ص۲۲۶۔ ۲۹۔ایضاً ۔
۳۰۔ایضاً ،ص۶۴۔ ۳۱۔ایضاً ،ص۵۶۔
۳۲۔ایضاً ،ص۴۶۔ ۳۳۔ایضاً ،ص۲۲۵۔
۳۴۔ایضاً ،ص۷۶۔ ۳۵۔ایضاً ،ص ۱۰۵۔
۳۶۔ ایضاً ،ص ۱۰۱۔ ۳۷۔ایضاً ،ص ۱۵۳۔
۳۸۔نزھۃ الخواطر،ج۷ص۱۸۳۔
۳۹۔ برکاتی ،محمود احمد ،شاہ ولی اللہ اور ان کا خاندان ، لاہور ،مجلس اشاعت اسلام، ۱۹۷۶ء، ص ۱۵۶۔
۴۰۔ سعد صدیقی، ڈاکٹر، علم حدیث اور پاکستان میں اس کی خدمت، لاہور، شعبہ تحقیق قائد اعظم لائبریری، ۱۹۸۸ء، ص ۳۰۸۔
۴۱۔ ابراہیم میر، سیالکوٹی، تاریخ اہل حدیث، لاہور، اسلامک پبلشنگ، ۱۹۵۳ء، ص ۴۱۸۔
۴۲۔ تاریخ دعوت و عزیمت، ص ۳۸۲۔
۴۳۔ رحمان علی، مولوی ، تذکرہ علمائے ہند (فارسی) لکھنؤ مکتبہ نولکشور، س۔ن ص ۴۔ ۶۳۔
۴۴۔ واقعات دارالحکومت دہلی ،ص ۵۸۸۔
۴۵ شاہ ولی اللہ اور ان کا خاندان ،ص ۱۶۴۔
۶۶۔ صدیق حسن خان ،ابجد العلوم (عربی) لاہور ،مکتبہ قدوسیہ،۱۹۸۳ ء ،ص ۲۴۵۔
۴۷۔ سر سید احمد خان ،آثار الضادید، دہلی، اردو اکادمی ، ۱۹۹۰، ص ۸۵۔
۴۸۔ جہلمی ، فقیر محمد ، حدائق حنفیہ ، لاہور ۔ مکتبہ سہیل حسن، ۱۹۰۶ء، ص ۴۸۸۔
۴۹۔نوشہروی ، امام خاں، ابو یحییٰ ، تراجم علمائے حدیث ہند ، لاہور ، جمیعت طلبہ اہلحدیث، ۱۹۲۲ء، ص ۸۷۔
۵۰۔ نزھۃالخواطر ،ص ۲۹۵۔
۵۱۔ایضاً ،ص ۲۹۶۔
۵۲۔ قاسمی ، عطاء الرحمن ، الواح الصنادید ، سندھ، شاہ ولی اللہ اکیڈمی، ۱۹۸۹ء، ص ۱۹۳۔
۵۳ ۔الواح الصنادید، ص ۱۹۴۔
۵۴۔ تراجم علمائے حدیث ہند ،ص ۸۶۔
۵۵۔ نزھۃ الخواطر، ص ۲۹۶۔
۵۶۔قاضی محمد اسلم سیف،تحریک اہلحدیث تاریخ کے آئینے میں،ص۲۳۷۔
*****

Hits: 473

تالیف کتبِ حدیث میں شروط کی ضرورت واہمیت۔محدثین کی آراء کا تحقیقی جائزہ 

حافظ محمد رمضان*
Scholars look at Hadith (the Prophet Muhammad's (PbAh0 narrations) or statements attributed to the Prophet (PbAh) from two angles: its chain of reporters and its text scholars have laid down five conditions for the acceptability of any Hadith. Along with these conditions, there are certain specific methods and unique styles of prominent Hadith scholars in collecting and discussing the Hadith. These unique style of each scholar is known as shurut(شروط) or Manhaj (منہج) (Methods). Sometimes author himself identifies his shurut(شروط) while others do not. In this article, some significant shurut(شروط) of prolific muhadithin has been picked out and their significance to the hadith studies has been touched upon.
شروط کا مفہوم:
شرط کے معنی کسی چیز کو لازم کرنے کے ہیں۔عربی زبان میں شرط متعددمعانی میں استعمال ہوتی ہے۔شرط واحد ہے،اس کی جمع شروط ہے ۔شرط کے لغوی معنی کے متعلق علامہ جرجانی رقمطراز ہیں:
’’الشَّرْطُ، تَعْلِیْقُ شَیْءٍ بشَیْءٍ بِحَیْثُ اِذَا وُجِدَ الأوَّلُ وُجِدَ الثانِیُ‘‘۔۱؂
یعنی شرط ،ایک چیز کا دوسری چیز کے ساتھ معلق ہونا،اس طرح کہ جب پہلی چیز پائی جائے تو دوسری چیز بھی پائی جائے گی۔ ڈاکٹر وھبہ الزحیلی کے بقول
’’الشَرْطُ ھُوَ الْوَصْفُ الظَّاہِرُ الْمُنْضَبِطُ الذی یُتَوَقَّفُ عَلَیْہِ وُجُوْدُ الْحُکْمِ مِنْ غَیْرِافْضَاءِ اِلیہ ، وَمعنیٰ من غَیْرِ افضاءٍ ، من غَیْرِتَاْثِیْرٍلَّہٗ ‘‘۔۲؂
شرط ایسا ظاہری منضبط و صف ہے جس پر حکم کے وجود کا انحصار ہوتاہے، لیکن وہ اس کی حقیقت میں مؤثر نہیں ہوتاہے۔نیز دوسرے الفاظ میں شرط کے وجود سے مشروط کا حکم وجود ملتزم نہیں اور نہ ہی اس کاعدم مستلزم ہے،مثلاََ: وضوء نمازکے لیے شرط ہے لیکن وضوء کے وجود سے نماز کا وجود یاعدم وجود لازم نہیں آتا۔
ہمارا مقصود بحث یہ ہے کہ تالیف کتب میں مؤلفین کا خاص امور یا خاص نظم و نسق کا خیال رکھنا،خواہ اس 
* پی ایچ ڈی سکالر،شعبۂ علومِ اسلامیہ،جامعہ پنجاب،لاہور۔
کی وضاحت وہ اپنی کتب میں کریںیا بعدکے علماء ذاتی اسقراء اور تلاش کے ذریعے سے اس نظم و نسق کو اخذ کریں، شروط کہلاتاہے،علماء نے شروط اور منہج کااپنی کتب میں خاص اہتمام کیا ہے۔علامہ رفعت فوزی لکھتے ہیں:
والْمُرَادُ بِالمَناھِج:الطُّرُقُ الذی اسْتَعْمَلُوْھا فی جَمْع الحدیث تَدْویْنِہ وَالاُصُوْلُ الَّتِیْ وَضَعُوْھَالذٰلِک،والا سَالِیْبُ المستخدمہ فی التصانیف والتالیف‘‘۔ ۳؂
علماء کے مناہج سے مراد ایسے راستے اور طریقے جن کو انھوں نے حدیث اور اس کے متعلقات کے لیے بطور اصول وضع کیااور وہ خاص قسم کے اسلوب جو ان کی تصانیف کے تتبع اور استقراء کے بعد حاصل ہوں۔اس عبارت سے یہ واضح ہوا کہ مؤلفین تالیف کتب میں جن خاص امور اور اسالیب کو مدنظر رکھ کر کتب تالیف کریں ان کو شروط یا منھج الکتاب کہتے ہیں۔۴؂ مذکور صدر گفتگو سے ظاہر ہوا کہ شروط سے مراد وہ مخصوص امور کو پیشِ نظر رکھنا جنہیں مصنفین نے تالیف کتب کے دوران ملحوظ رکھا۔
شروط کا مطلب یہ ہوتاہے کہ مصنفین تالیف کتب کے وقت بعض امور کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ انہی کے مطابق مضامین لاتے ہیں ان سے ہٹ کر اور کچھ نہیں ذکر کرتے ہیں ۔بعض ائمہ تو اپنا منہج یا شروط کی وضاحت کردیتے ہیں جیسا کہ امام ابو داؤد نے الرسالہ میں اپنی شرائط کی وضاحت کردی ہے۔ ۵؂ اور بعض ائمہ کے منھج اور شروط کو بعد کے علماء اور محققین نے اخذ کرکے بیان کیا۔جیسا کہ ائمہ ستہ کی شروط کو بعد کے علماء نے اخذ کر کے بیان کیا اور اس پر باقاعدہ کتب لکھیں۔
شروط کی اہمیت و افادیت:
استفادہ کتب میں جو علوم معاون ثابت ہوتے ہیں،ان میں سے ایک علم جو بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے وہ شروط کا علم ہے۔شروط تالیف کتب کے وقت مؤلفین کا خاص امور اور نظم و نسق کا خیال رکھنا کہلاتاہے۔اس فن کی اہمیت کو علماء نے نہایت عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔ اس سلسلے میں متقد مین اور متاخرین علماء کے تالیفی انداز میں فرق ہے۔متاخرین علماء میں، خواہ وہ محدثین ہوں یا اہل سیرو تاریخ ہوں، انھوں نے شروط کا اہتمام بنسبت متقد مین کے زیادہ کیا ہے۔ اگرچہ متقدمین کے ہاں بھی یہ چیز مسلمہ تھی،اور اس کی اہمیت تسلیم شدہ تھی۔ جب ہم ان کی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں تو خصوصاًان سے مطالبہ کیا جاتاہے کہ فلاں کتاب میں آپ کا کیا انداز ہے،اس کی کیا شروط ہیں،آپ کی اصطلاحات کا مفہوم کیا ہے؟تاکہ اس کتاب کا فہم آسان ہوسکے۔ عموماً متقدمین میں کوئی شخص کتاب تالیف کرتا تو اس کا مطمع نظر اس فن کی تمام جنرئیات کا احاطہ کرنا تھااور اس پر تنقیدی نگاہ ڈالتے ہوئے نقد اور صحت کا خاص اہتمام کرنا۔ بعض اوقات ان کی کتب میں ضعیف اور غیر مستند روایات اور واقعات بھی مل جاتے ہیں۔لیکن اس پر یہ لازم نہیں آتاہے کہ وہ صحیح اورضعیف کی تمیز نہیں کرتے تھے۔ان کے ہاں اصل غرض یہ ہوتی کہ اس فن کی تمام جنرئیات کا احاطہ سند کے ساتھ کردیا جائے۔ اکثر اوقات اس پر نقد بھی کردیتے ہیں۔ اس لیے علماء کے نزدیک اس سلسلے میں ایک قاعدہ مشہور ہے،مَنْ اَسْنَدکَ فَقَدْ اَحَالَکَ۔۶؂
جو عالم یامؤلف جب کسی واقعہ یا روایت کی سند بیان کر ے یا اپنی کتاب میں درج کردے تو اس نے اب اس قصے اور روایت کی ذمہ داری قاری اور باحث (یعنی محقق) پر ڈال دی کہ وہ اس کی تحقیق اور تفتیش کرے۔اگر وہ صحیح ہوتو اس سے ایک علمی فائدہ ہوجاتاہے بصورت دیگر ضعیف اور صحیح میں تمیز ہوجاتی ہے۔ متاخرین کی کتب کا مطالعہ کرنے سے ایک خاص ترتیب سامنے آتی ہے،مقدمات،اور مبادیات اور فہارس اور پھر ایک خاص ترتیب سے موضوع کا ذکر کیا جاتاہے تاکہ اس کا فہم آسان ہو۔ اس کی مثال کیلئے ابن جبان کی صحیح ہے ۔اس کی تبویب متاخرین علماء میں سے علامہ علی بن بلبان نے الاِحسان میں کی ہے ۔۷؂ اسی طرح خطیب بغدادی علیہ الرحمہ کی کتب اصول حدیث کے تمام مواد کو علامہ عثمان ابن صلاح نے علوم الحدیث المعروف مقدمہ ابن صلاح میں مرتب کیا۔ ۸؂
علماء کے ہاں اس سلسلہ میں کئی الفاظ معروف اور مشہور ہیں،مثلاً :شروط،مناھج اور منھج الکتاب۔شروط پر علامہ حازمی کی کتاب شروط الخمسہ،کتب خمسہ کے مناھج پر کتاب ہے ۔اسی طرح الامام ابن خزیمہ ومنھجہ فی کتابہ الصحیح وغیرہ۔ اس سے یہ معلوم ہواکہ شروط اور مناھج میں تقریباً مماثلت ہے۔
متقدمین کے نزدیک شروط کی اہمیت: 
شروط کی اہمیت متقدمین علماء حدیث وسیر کے ہاں بھی مسلمہ تھی جیسے کہ محمد بن عبد العزیز فرماتے ہیں کہ میں نے ابوداؤد علیہ الرحمہ کو کہتے ہوئے سنا:
’’وَسُءِلَ عَنْ رِسَالَتِہ الَّتِیْ کَتَبَھَا اِلیٰ أھل مکۃ وَغیْرِھا جَوَابًالَّھُمْ فَاْ مْلیٰ علینا۔اَمَّا بَعْدُ عَافانَا اللّٰہُ وَاِیَّاکُمْ۔فَاِنَّکُمْ سَاَلْتُمْ اَنْ اَذ کر لکم‘‘۔ ۹؂
جب ان سے اس رسالہ کے متعلق پوچھا گیا جو انھوں نے اہل مکہ کے جواب میں ان کی طرف لکھا تو انھوں نے یہ بات املاء کروائی۔میری طر ف سے تم کو سلام،حمد وثناء کے بعد جل شانہ تمھیں اور ہمیں اپنی عقوبات سے معاف رکھے،تم نے مجھ سے سنن کی احادیث میں اَصح شیْء فی الباب کے متعلق پوچھا تو عنقریب اس رسالہ میں اس کی تفصیل تمھارے سامنے رکھوں گا۔
اس عبارت سے یہ واضح ہوا کہ متقدمین کے ہاں بھی شروط اور منھج کی حیثیت مسلمہ تھی اگرچہ اس کا وجود متاخرین کی نسبت کم تھا۔ کچھ علماء نے اپنے مناھج کو ذکر کر دیا جیسے کہ اِمام ابو داؤدؒ ، اِمام ابن خزیمہؒ امام مسلمؒ وغیرہ اور بعض نے ذکر نہیں کیا۔ بعد کے علماء نے ان کی کتب سے استفادہ کرتے ہوئے ان کے منھج کو واضح کیا جیسا کہ صحیح البخاری کے منھج کو حافظ ابن حجر ؒ نے فتح الباری کے مقدمہ ھدی الساری میں بیان کیا۔۱۰؂
علامہ رفعت فوزی اپنی معرکۃ الآراء کتاب المدخل اِلی مناھج المحدثین میں لکھتے ہیں:
’’ومن ھَنٰا تَبْدُوْ اَھْمَِّۃ الْکشْفِ عن ھٰذِہِ المَنَاھِجِ،اِنَّہٗ لَتَیْسِرُ الْاِ ستفادَۃِ من الحَدِیْث والسُّنَّہ، وھُمَا لمعنیٰ وَاحِدٍ‘‘۔ ۱۱؂
یعنی اس کتاب کے مطالعہ سے قاری پر علماء کے مناھج کی اہمیت واضح اور مُنکشف ہوجائے گی۔کیونکہ مناھج کے ذریعے سے ہی احادیث اور سنت سے استفادہ ممکن ہے۔۱۲؂ 
صاحب المدخل الی المناھج ،کی اس عبارت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کتاب کے استفادہ کے لیے مناھج اور شروط کا معلوم ہونا ضروری ہے،کیونکہ بسا اوقات مؤلف کتاب کو تالیف کردیتاہے اور شارحین اس پر شروح لکھتے ہیں۔ اکثر اوقات شارحین میں سے بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو بعض اوقات مؤلف کی کتاب کی تشریح اس کے اسلوب سے ہٹ کر کرتے ہیں اور اس سے علمی نقصان اور مفسدت لازم آتاہے،جس کو علماء اپنی اصطلاح میں ،توجِیہُ القَوْلِ بِمَالَا یَرْضیٰ بِہِ الْقَاءِلُ ،سے تعبیرکرتے ہیں،یعنی کسی کلمہ یا عبارت کی وہ توضیح پیش کرنا جو مؤلف کے اسلوب اور انداز سے جدا ہو۔اس کے بارے میں علما ء کا اصول یہ ہے کہ جس علم کا تعلق بھی رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم یا دین کے ساتھ ہو اس علم میں صحتِ واقعہ اور روایت بہت زیادہ ضروری ہے گویاوہ دین ہے اور دین کے معاملے میں اللہ تعالی فرماتے ہیں۔(وَلَاتَقْفُ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌُ)۔۱۳؂ 
دین کے معاملے میں صحیح اور ضعیف کی تمیز بہت زیادہ ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر صدی میں محدثین نے اور اہل السیروالمغازی نے شروط اور منہج کا اہتمام کیا۔محدثین نے صحیح اور ضعیف کے مابین فرق کرنے کیلئے مستقل ایک علم کی بنیاد رکھی۔جس کو علوم الحدیث کہتے ہیں،جن شروط کی پاسداری محدثین نے کی اور اس کا لحاظ کسی حد تک اہل السیرو التاریخ نے بھی کیا۔تاریخ کی ضرورت کے بارے میں سفیان ثوری فرماتے ہیں:
’’لَمَّا اِسْتَعْمَلَ الرُّوَاۃُ الْکَذِبَ اِسْتَعْمَلْنَالَھُمْ التَّارِیْخ‘‘۔۱۴؂
جب لوگوں نے روایات میں جھوٹ کو استعمال کیا،چھوٹے قصے وضع کیے تو ہم نے ( یعنی ہم اہل الحدیث و السیرو التاریخ)نے ان کے جھوٹ اور کذب بِیانیوں کیلئے تاریخ کا استعمال کیا۔
سفیان ثوری علیہ الرحمہ کے اس قول پر غور کرنے سے یہ بات معلوم ہوتا ہے کہ محدثین اور مؤرخین نے منھج اور شروط کے اہتمام کے لئے مستقل طور پر تاریخ کا فن ایجاد کیا،اس سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ تاریخ اور سیر حدیث کے ساتھ متعلق ہے۔ تاریخ کے فن پر جس نے اعتراض کیا محدثین نے اس کا مدلل جواب دیا حتی کہ تاریخ میں اور سیر میں ایک بہترین منھج پیش کیا۔ متقدمین میں علامہ ابن خلدونؒ نے مقدمہ ابن خلدون ایک مستقل کتاب لکھی اور اس میں یہ بات واضح کی کہ ایک مؤرخ کو تاریخ کی تالیف میں کس منھج و اسلوب کو اپنانا چاہیے۔ ۱۵؂
تاریخ وسیرت حدیث کے فنون ہیں:
ایک اہم نقطہ یہ بھی ہے کہ تاریخ اور سیر، حدیث کے فنون میں سے ہیں۔مستشرقین نے تاریخ میں موضوعات اور من گھڑت روایات کو دیکھ کر تاریخ اور سیر کو حدیث کے باب سے خارج کیا ہے،حالانکہ جب ہم متقدمین اور متاخرین علماء کی فہرست دیکھتے ہیں تو متقد مین میں مسلم بن شھاب الزھریؒ بیک وقت محدث اور سیر کے بھی مدون اول ہیں۔ انھوں نے حدیث کے ساتھ ساتھ سیرت اور تاریخ کو بھی مدون کیا،اسی طرح متاخرین میں حافظ ابن حجرؒ محدث بھی ہے اور مؤرخ بھی۔ اسی طرح شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے شاگردحافظ ابن کثیرؒ محدث ہونے کے ساتھ مؤرخ بھی تھے انھوں نے تاریخ پر بہترین کتاب البدایہ والنھایہ تالیف کی۔ اس کتاب کا بغور مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ اور سیرت حدیث کے فنون ہیں۔اور مؤرخین اور اہل سیرمیں سے بعض محدثین نہیں ہیں۔اس سلسلہ میں علامہ رضا احمد صمدی نے مستقل طور پر مستشرقین کے اس اعتراض پر کہ مؤرخین اور اہل سیر تو محض مورخین اور اہل سیر تھے ان کا کوئی منھج نہ تھا،اس لیے انھوں نے ضعیف اور موضوع کو نقل کیا ،نہایت عمدگی سے مناقشہ کیا ۔۱۶؂
جب تاریخ اور سیرت ،حدیث کے فنون میں سے ہیں تو حدیث دین ہے اور دین کی بنیاد دلیل پر ہے حتی کہ زندگی اور موت کا انحصار بھی دلیل پر ہے۔فرمان باری تعالیٰ ہے۔
(لِیَھْلِکَ مَنْ ھَلَکَ عَنْ بَیِّنَۃٍ وَیَحْیٰ مَن حَیَّ عَنْ بَیِّنَۃٍ)۔۱۷؂
لہٰذا ان فنون اور علوم میں مناھج اور شروط کی اہمیت محض اس عنصر سے اہمیت کی حامل ٹھہرتی ہے جب ان کا تعلق علم حدیث کے ساتھ ہو، قطع نظر اس سے کہ تاریخ اور سیر میں موضوع اور من گھڑت روایات کا بھی کافی مجموعہ ہے۔لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے اہل تاریخ کا منھج ناقص ہے۔اہل تاریخ اور سیر کے مناھج کی اہمیت ان کے سرخیل ابن خلدون نے بیان کردی،ضعیف اور موضوع روایات کا مجموعہ اس لئے جمع کیا تاکہ اس فن کی تمام جزئیات کا احاطہ ہو سکے۔ متقدمین جب کسی فن کی تالیف کا آغاز کرتے تو اس کی مکمل جزئیات کا احاطہ کرتے ہوئے ان پر ناقدانہ تبصرے کا بھی اہتمام کرتے اور عموماً مواد کے ضائع ہونے کے خوف سے جزئیات کے احاطے کی سعی کی جاتی۔ ان کو اسناد کے ساتھ بیان کر دیاجاتا تو متقدمین نے مواد کی فراہمی کردی اور علماء متاخرین نے اس میں تنقیح اور تمیز کی،اور اس فن کو مزید عمدہ کر کے پیش کیا، مثال کے طور پر متقدمین کے منھج کے مطابق مرسل اور منقطع ہم معنیٰ تھے مرسل کا اطلاق سند کے منقطع ہونے پر بھی ہو جاتاتھا لیکن متاخرین نے مرسل اور منقطع کی تعبیر میں امتیاز کیا اورمرسل کے بارے میں کہا کہ مرسل وہ ہے جس میں تابعی رسول صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلمسے بیان کرے یعنی قال رسول اللہ کہے جبکہ سند میں کسی جگہ بھی اتصال نہ ہوتو اس کو منقطع قرار دیتے ہیں،گو کہ ہر فن میں ترقی اور ارتقاء ہوتاہے،اور اسی مرسل کی بحث پر ہی غور کیجیے تو اِمام مالکؒ اور ابو حنیفہؒ مطلقا مرسل کے قائل تھے۔۱۸؂ جبکہ اِمام شافعی ؒ نے مرسل کے بارے میں چند شروط اور قیود کا اضافہ کیا،مزید تحقیق اور منھج کو اہم سمجھتے ہوئے اپنی کتاب ’’الرسالہ‘‘ میںیہ شرط لگائی کہ ایک مرسل کی تائید دوسری مرسل سے ہو۔لیکن دونوں کا مخرج علیحدہ علیحدہ ہو۔۱۹؂ امام شافعیؒ کی کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ مُرْسَل میں تین اور مُرْسِل میں پانچ شروط ہیں۔۲۰؂
فنون کے ارتقاء میں منہج وشروط کاارتقاء
ایک سوال یہ پیدا ہوتاہے کسی فن کے ارتقاء کا منھج اور شروط کی بحث کے ساتھ کیا تعلق ہے؟تو عرض ہے کہ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ متقدمین منھج اور شروط کی تشکیل میں کمزور تھے بلکہ ان میں سے ہر ایک کے نزدیک منھج اور شروط کا معیار اور مقام ہے،کسی کا منھج اور شرط یہ ہے کہ وہ اپنی کتاب میں مرسل مرویات کو ذکر کرتا ہے اور دوسرا سند کا بھی اہتمام کرتا ہے اس معیار کے فرق سے منھج اور شروط کی اہمیت کا انداز ہوگا، منھج اگر منھج صحیح اور متصل مرویات اور قصص پر مشتمل ہوتو اعلیٰ ،بصورت دیگر اگر منھج میں کمزوری ہوگی تو مرویات کی صورتحال بھی مناھج اور شروط کے اعتبار سے ہوگی،اس کی مزید توضیح کیلئے ایک بحث پر غور کیجیے علماء اصول حدیث اپنی کتب کے آغاز میں صحیح کی بحث میں صحیحین کا ایک دوسرے سے اور باقی کتب سے موازنہ پیش کرتے ہیں اور پھر اس میں دلائل اور قرائن سے فضیلت اور اصحصیت کا فیصلہ کرتے ہیں اسی میں سے ایک مؤطا امام مالک اور صحیح البخاری کے مابین بھی موازنہ اور مناقشہ ہے ،اس میں ائمہ کے دوموقف ہیں:
پہلا مؤقف ائمہ مالکیہ کا ہے کہ موطا امام مالکؒ تمام کتب میں سے صحیح ترین ہے ان کی دلیل اِمام شافعی علیہ الرحمہ کا یہ قول ہے :
’’ لااعلم کتابا فی العلمِ اکثرُ صواباً من کتاب مالک‘‘۔ ۲۱؂
دوسرا مؤقف، صحیح البخاری کے بارے میں ہے ان حضرات کی دلیل یہ ہے کہ اِمام بخاری ؒ کا منھج الکتاب اور اخذروایت کا طریقہ اور اتصال سند کا اہتمام ،اور ہر راوی کی روایات کو اپنی کتاب میں درج کرنے سے قبل اس سے لقا ء اور پھر تحقیق کرتے ہوئے اس سے روایت لینا۔۲۲؂
ان شروط اور منھج کی وجہ سے بخاری مؤطا ء پر ارجح ہے،اور شافعی علیہ الرحمہ کی بات کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اس وقت صحیح کتاب صرف مؤطا ہی تھی۔ ۲۳؂
جبکہ امام بخاری علیہ الرحمہ کا زمانہ بعد کا ہے نیز ان حضرات کی دوسری دلیل یہ ہے۔
مؤطا اِمام مالک میں مراسیل ،بلاغیات ،موقوف اور منقطع اور فقھی مواد بھی پایا جاتاہے اور یہ کافی مقدار میں موجود ہے،تو جب کتاب میں منقطع اور مراسیل اور موقوف مرویات کا وجود ہو اور ہو بھی متن میں تو ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ کہ اَصَحُّ کُتَبٍ بَعْدَ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالیٰ مُؤَطَّأُ مَالِکٍ۔ ۲۴؂
جبکہ امام بخاریؒ نے الصحیح میں متن میں صحیح اور متصل روایات کا اہتمام کیا اور مرسل اور منقطع مرویات کو متن میں ذکر کرنے سے گریز کیا کیونکہ ان کا منھج الکتاب ان کی کتاب کے نام سے ہی ظاہر اور واضح ہے۔
’’اَلْجَامِعُ الصَّحِیْح المُسْنَدُ المُخْتَصَرُ مِنْ اَمُوْرِ رسُوْلِ اللّٰہِ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم وَسُنَنِہ وأیَّامِہِ ‘‘۔ ۲۵ ؂
لہٰذا صحیح بخاری کی ارجحیت مؤطا پر بھی ثابت ہے،اس پر اعتراض یہ ہوتاہے کہ بخاری علیہ الرحمہ نے بھی اپنی کتاب میں تراجم میں مراسیل اور اقوال کو ذکر کیا، تو پھر بخاری کی ارجحیت کس طرح مسلمہ ہوگی تو اس کا جواب مختلف علماء نے دیا ہے جیسے کہ حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ مراسیل مؤطا،امام مالک کے نزدیک مسموع تھی اور ان کے ہاں اور ان کے متبعین کے نزدیک حجت ہیں جبکہ امام بخاری نے جو معلقات یا مرسل مرویات ذکر کی ہیں اول تو وہ متون میں نہیں ہیں ،دوسری بات یہ ہے کہ ان کے معلقات کے بھی چند مقاصد تھے۔ حافظ ابن حجرؒ نے النکت میں ان کی وضاحت کی ہے۔ اور اس پر مستقل کتاب بھی لکھی ہے جو کہ تغلیق التعلیق کے نام سے مشہور ہے۔ ۲۶؂
جس میں امام بخاری کایہ طریقہ کار بیان کیا گیا ہے کہ جب ایک متن میں کئی فقہی مسائل ثابت ہو رہے ہولیکن اس کی سند ایک ہوتو اِمام بخاری اس کو معلق بیان کر دیتے ہیں یا بعض اوقات اختصارکے پیش نظر بھی روایت کو معلق ذکر کر دیتے ہیں۔حافظ ابن حجرؒ کے مطابق انھوں نے اپنی کتاب خاص کرتراجم میں ان مرویات کو اس لیے ذکر کیا تاکہ وہ اپنی کتاب کو فقہی کتاب بنا سکیں اس لیے وہ اسناد کو حذف کردیتے تھے اس بحث کو حافظ ابن حجر نے النکت میں اس سیاق میں ذکر کیا ہے۔۲۷؂
کہ صحیح کتب میں سے پہلی کتاب کونسی ہے۔ اس پرحافظ ابن حجرؒ نے علامہ ابن صلاح ؒ کے حوالے سے لکھاہے ۔اَوَّلُ مَنْ صَنَّفَ فی الصَّحِیْحِ البَخَارِیُ رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالیٰ ۔۲۸؂ 
علامہ ابن حجر رحمہ اللہ اس پر تعلیق کرتے ہیں کہ ابن صلاح کی اس بات پر اِمام مغلطائی نے اعتراض کیا ہے کہ صحیح کتب میں پہلی کتاب تصنیف شدہ کتاب مؤطااِمام مالک ہے پھر ان کے بعد اِمام احمد کی مسند اور پھر اِمام دارمی کی کتاب، بخاری کا درجہ تو بعد کا ہے۔ اِمام عراقی نے مغلطائی کا ردیوں کیا کہ مالکؒ نے اپنی کتاب میں مرسل اور متقطع کو بھی اہتمام متون میں کیا ہے۔اس کے بعد ابن حجرؒ نے ایک عمدہ مناقشہ پیش کیا کہ مؤطا اِمام مالک میں مصنف کے ہاں مراسیل حجت تھیں جبکہ بعد کے علماء کے نزدیک ان کی حجت میں اختلاف پیدا ہوگیا امام مغلطائی ؒ کی بات کی توجیہ ممکن ہے کہ اس دور کی تصنیف شدہ کتب میں جس کتاب کا منھج اعلیٰ اور عمدہ تھاوہ مؤطا اِمام مالک ہی ہو۔اور ابن صلاح کی بات انھیں مفہوم میں بالکل واضح ہے کہ صحیح کتب میں متصل اسناد اور نہایت ہی عمدہ منھج پر جو پہلی کتاب ہے وہ صحیح البخاری ہے اور باقی رہا ہے کہ انھوں نے مراسل اور معلقات کو ذکر کیا جس کے چند مقاصد ہیں اور ان مرویات کو بھی دوسرے مقامات پر امام بخاریؒ نے موصول ذکر کیا ہے ۔
اور حافظ ابن حجرعلیہ الرحمہ نے بھی ان معلقات کو موصول بیان کیا ہے۔۲۹؂
اس مثال سے یہ بات نہایت عمدگی سے واضح ہوتی ہے کہ مرویات اور واقعات کے صحت کا معیار محض یہ نہیں ہے کہ وہ کس کتاب میں موجود ہیں بلکہ صحت کا معیار منھج اور شروط پر ہے۔جس قدر منھج اور شروط سخت اس قدر روایات اور واقعات کی صحت میں بھی سختی ،گو کہ شروط اور منھج کی اہمیت میں معیار صحت کا بھی فرق ہوتاہے۔دونوں کتب صحیح ہیں لیکن پہلی دوسری پر ارحج محض منھج اور شروط کے اہتمام کی وجہ سے ہے۔
مؤطا اِمام مالک کی مراسیل اور بلاغیات کی علماء کے نزدیک کیا حیثیت ہے؟
علامہ کتانی ’’الرسالہ المستطرفہ‘‘ میں رقمطراز ہیں:
مؤطَّا امام مالک بن انس: متبوعہ مذاہب کی کتب میں سے ایک کتاب مؤطا ہے جس کی تالیف نجم ا لھدی ،ائمہ کے امام مالک ؒ بن انس نے کی ہے۔ اس میں تین ہزار مسائل اور سات سو احادیث اور اس کے ساتھ ساتھ اقوال صحابہ بھی ہیں،اور اس کتاب کے شارح ابن عبدالبرالنمری نے مؤطا کی تمام مرفوع مرویات خواہ وہ متصل ہویا منقطع ان کو اپنی کتاب التَّقَصیْمیں ذکر کیاہے۔۳۰؂
نیز ابن عبدالبر کا مالکیہ پر بہت بڑا احسان ہے کہ انھوں نے مؤطا کی مراسیل اور بلاغیات ، تمام کو موصول اور متصل بیان کیا ہے۔علامہ کتانی لکھتے ہیں:
’’وَلَہٗ کِتَابٌ فِی وصل ما فیْھِا من المُرْسَلِ والمُنْقطع ‘‘۔ ۳۱؂
انہوں نے اپنی کتاب میں مؤطا کی تمام مرفوع مرویات جو مرسل یا معضل تھیں ان کو موصول اور متصل بیان کیا ہے سوائے چار کے۔ اور علامہ صالح فلانی کہتے ہیں کہ میں نے ابن صلاح ؒ کی کسی کتاب میں یہ چار مرویات جن کی متصل سند ،ابن عبدالبرؒ کونہ مل سکی،ان کو بااسناد متصل پایا۔اس کتاب کا نام التمھید لما فی المؤطا من المعانی والمسانید ہے،اس کے مقدمہ میں ابن عبد البرؒ نے اس بات کا تذکرہ کیا ہے ۔۳۲؂
ائمہ کے مندرجہ بالا کلام سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مؤطا میں اِمام مالکؒ وہ تمام مرویات جن میں مالکؒ قال رسول اللہ کہتے ہیں یا بلغنی انَّ رسول اللہ ،کذا،تو وہ سب مرویات بفضل اللہ تعالیٰ ائمہ کی تصریح کے مطابق مستند اور متصل ہیں‘‘۔
اعلیٰ شروط عمدہ تالیف کی عکاس ہیں:
اعلیٰ شروط کی اہمیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جس قدر کسی کتاب کی تالیف میں منھج اور شروط اعلیٰ معیار کی ہوں گی اس کی مرویات اور قصص کی صحت بھی اس قدر اعلیٰ ہوگی اور وہ کتاب اپنی تمام ہم موضوع کتب میں بے نظیر ہوگی ۔اگر کتاب کا مؤلف منھج میں اعلیٰ اور اصح شروط کا اہتمام کرے گاتو وہ اس منھج اور شروط کالحاظ رکھتے ہوئے کتاب میں روایات اور واقعات کو بیان کرے گا۔مؤطا اِمام مالک اور صحیح بخاری کے مابین موازنہ سے ترجیح ہر صورت میں صحیح بخاری ہی کو ہے جیسے کہ علماء اصول نے اس کی وضاحت اپنی کتب میں کی ہے اگرچہ مؤطا کی بلاغیات اور مراسیل کو متصل سند کے ساتھ علامہ ابن عبد البرؒ نے التمھید میں ذکر کیاہے لیکن ان مراسیل اور بلاغیات کے متصل اسانید کی کیا حیثیت ہے،کیا علماء نے ان کو صحیح قرار دیا ہے؟ اس پر بھی مزید تحقیق اور جستجو کی ضرورت ہے۔ 
یہ بات بھی مسلمہ ہے کہ کسی روایت یا قصہ کی صحت کا دارومدار اس بات پر نہیں ہے کہ وہ کس کتاب میں مذکور ہے بلکہ صحت کا انحصار منھج اور شروط پر ہے اس دعوی کی وضاحت اور اثبات میں دوسری دلیل پیش ہے۔علماء اصول حدیث،اصول حدیث کے اختتام میں کتب کا تعارف ذکر کرتے ہیں۔مثال کے طور پر کتب حدیث کی کئی اقسام ہیں جوامع،مستخرجات،السنن،وغیرہ، انہیں اقسام میں سے ایک قسم مستدرک ہے۔ مستدرک کا مفہوم یہ ہے کہ کسی کتاب کا مؤلف خاص منھج اور شروط کا لحاظ کرتے ہوئے کتاب میں احادیث ذکر کرے لیکن کچھ احادیث جو اس کی شرط پر ہوں اس سے رہ جائیں وہ انھیں نقل نہ کر سکے تو بعد کا کوئی محدث ان احادیث کو علیحدہ سے ایک کتاب میں درج کر دے جو اس مؤلف کی شرط پر تھیں لیکن وہ نقل نہ کر سکا۔استدراک پر مشہور کتاب امام حاکمؒ کی ہے۔
امام حاکمؒ کے استدراک پر علماء نے نقد کیا ہے علامہ ابن صلاحؒ علوم الحدیث میں حاکم کے استدراک پر لکھتے ہیں:
’’فِیْ ذِکْرِ الْمُسْتَدْرَکِ لِلْحَاکِمِ: وَھُوَ واسعُ الخَطْوِ فِی شَرْطِ الصَّحِیْحِ مُتَسَاھِلٌ فی القَضَاءِ بہ‘‘۔۳۳؂
حاکم رحمہ اللہ اپنی مستدرک میں صحیح کی شرط کو نافذ کرنے میں غلطی کی ہے نیز کسی حدیث پر صحت کا حکم لگانے میں بھی متساھل تھے۔
حافظ ابن حجرؒ النکت میں رقمطراز ہیں:
ان کے نزدیک مستدرک کی تقسیم کچھ یوں ہونی چاہیے۔ جس کی ممکنہ صورتیں یہ ہیں۔
(۱) حاکمؒ مستدرک میں وہ احادیث ذکر کرتے جن کے راوی صحیحین یا ان میں سے کسی ایک کے ہاں قابل حجت ہوتے اور اجتماعی صورت میں روایت نقل کرتے،اور سند میں کوئی علت اور ضعف بھی نہ ہوتا،اجتماعی صورت سے انفرادی صورت خارج ہوگی جیسا کہ سفیان عن الزھریؒ ،بخاریؒ اور مسلمؒ نے ان دونوں کی حدیث انفرادی طور پر لی ہے۔کیونکہ سفیان بن حسینؒ کا سماع امام زھریؒ سے ثابت نہیں ہے لہذا اگر اس کی روایت زھری ؒ سے ہو تو وہ شرطِ شیخین نہیں ہوگی نیز وہ علت سے خالی ہوگی،یعنی کہ مدلس راوی نہ ہو،کیونکہ صحیحین کے مدلس کی تدلیس سماع پر محمول ہے لیکن صحیحین کے علاوہ مدلس کی عن والی روایت کے سماع کی تصریح ضروری ہے۔۳۴؂
مستدرک حاکم میں اس قسم کی بہت تھوڑی احادیث ہیں البتہ امام حاکمؒ سے یہ تساہل ہوا ہے کہ وہ حدیث صحیحین میں موجود ہوتی ہے اور وہ پھر بھی مستدرک میں ذکر کر رہے ہیں ۔
(۲) وہ اسانید جن کو شیخین نے مقرونا بغیرہ ذکر کیا ہے بطور حجت اور دلیل ذکر نہ کیا ہو بلکہ بطور متابعت اور شواھد ذکر کیا ہو مثال کے طور پر اِمام بخاریؒ متابعات میں مختلط راوی کی وہ روایت قابل قبول سمجھتے ہیں جو اختلاط سے پہلے ہو،اب بالفرض وہی راوی صحیحین کے علاوہ کسی دوسری کتاب میں آجائے تو وہ شرط شیخین پر نہیں ہوگا ۔یہی تساہل اِمام حاکمؒ سے مستدرک میں ہوا ۔
(۳) وہ جو شیخین کے نزدیک قابل حجت نہ ہو اور نہ ہی متابعات میں ذکر کی ہو حاکم انھیں اپنی مستدرک میں ذکر کر رہے ہیں اور یہ بہت بڑا تساہل ہے۔۳۵؂
جبکہ حافظ ابن کثیرؒ اختصار علوم الحدیث میں لکھتے ہیں:
’’اَلْحَاکِمُ یُلْزُ مُھْمَا باِخْرَاجِ اَحَادِیْثَ لَاتَلْزَمُھُمَالِضُعْفِ رُوَاتِھَاعِنْدَھُمَا،فَالْقَوْلُ بِاَنَّھَا عَلیٰ شَرْطِھِمَا اَوشَرطِ اَحَدِھِمَاغَیْرُصَحَیْحِ‘‘۔۳۶؂
’’حاکم ؒ شیخین پر ان احادیث کی تخریج لازم قرار دے رہے ہیں جو راویوں کے ضعف یا معلول ہونے کی وجہ سے ان پر لازم نہیں ہے۔لہٰذا حاکمؒ کا استدراک غیر معتبر اور غیر صحیح ہے‘‘۔
علامہ مالینیؒ کا کلام مستدرک پر انتہائی سخت ہے وہ لکھتے ہیں:
’’میں نے مکمل طور پر مستدرک حاکم کا مطالعہ کیا ہے اور مجھے ایک حدیث بھی شرط شیخین پر نہیں ملی‘‘۔۳۷؂
ابوشھبہ نے علامہ ذھبیؒ کے حوالہ سے لکھا ہے: وہ فرماتے ہیں ان کا قول غلو اور اسراف پر مبنی ہے۔۳۸؂
علامہ ابن کثیرؒ نے ابن صلاح کے حوالہ سے لکھا ہے : واِنْ کَانَ فِیْ بَعْضِھَا مقال۔۳۹؂
حاکم کے استدراک پر کچھ کلام ہے ۔البتہ حاکم کے اس استدراک پر نہایت ہی عمدگی اور انصاف سے جو فیصلہ امام ذھبیؒ نے کیا ہے وہ قابل التفات ہے۔یاد رہے کہ امام ذھبیؒ نے مستدرک حاکم کی تلخیص کی ہے،وہ اس تلخیص میں حاکم کے حکم کا اختصار کرتے ہیں اور بعض جگہوں پر امام حاکم ؒ پر سخت قسم کا رد بھی کرتے ہیں:امام ذھبیؒ لکھتے ہیں:
حاکم کی مستدرک کا نصف حصہ استدراک کے عین مطابق ہے نصف حصے میں استدراک کا حق ادا کیا ہے ،البتہ تیسرا حصہ ان مرویات کا ہے جو ان کے نزدیک صحیح ہے اور اس میں بھی بعض جگہوں پر کچھ اعتراضات ہیں جبکہ چوتھا حصہ موضوع اور مناکیر روایات پر مبنی ہے۔۴۰؂
من جملہ امام حاکم ؒ سے استدراک میں تساہل ہوا ہے اور اس وجہ سے ان کی کتاب کا اکثر حصہ موضوعات اور بعض حصہ استدراک سے ہٹ کر ہے جس کی وجہ سے علماء نے ان پر نقد کیا ہے۔ان کے علاوہ حافظ ضیاء المقدسی کی تحقیق قابل قدرہے انھوں نے الاحادیث المختارہ کے مقدمہ میں لکھا کہ میں اس کتاب میں ان احادیث کو درج کروں گا جو صحیحین کی شرط پر ہو ں لیکن بخاری ومسلمؒ نے ان کو نقل نہ کیاہو۔۴۱؂
اور پھر اس شرط اور منھج پر آخر تک قائم رہے اور اس وجہ سے علماء نے ان کے اور حاکم کے استدراک کے مابین موازنہ کرتے ہوئے ضیاء المقدسی کے کام کو خوب سراہااور تحسین کی۔ علامہ ابن تیمیہؒ کے حوالے سے حافظ کتانی لکھتے ہیں:
وذَکَرَ ابْنُ تَیْمِیَۃَ وَالَّزرکْشِیْ وَغَیْرُھُمَااَنَّ تَصْحِیْحَہٗ اَعْلٰی مَزِیَّۃً مِنْ تَصْحِیْحِ الحاکم فَاِنَّہٗ قَرِیْبٌ مِنْ تَصْحِیْحِ التِرْمِذِیْ وا بْنِ حَبَّانَ‘‘۔۴۲؂
ابن تیمیہؒ ،زرکشیؒ اور ان کے علاوہ کئی علماء نے ضیاء المقدسیؒ کی تصحیح( یعنی کہ ان کا کسی حدیث کو صحیح کہنا)اِمام حاکم کی تصحیح سے اَعْلٰی شمار کیا ہے اور نیز ان کے حکم صحت کو ترمذی اور ابن حبان کے حکم کے برابر قرار دیا ہے۔
علامہ کتانی مزید رقمطراز ہیں۔
’’ذَکَرَاِبْنُ عَبْدِ الھَادِیْ فِی الصَّارِم الْمُنْکِی نَحْوَہٗ وزَارَفَاِنَّ الغَلِطَ فیہ قَلِیْلٌ لَیْسَ ھُوَ مِثْلَ تَصْحِیْح الحَاکِمِ‘‘۔۴۳؂
علامہ عبدالحی لکھنوی نے ا لاجوبۃالفاضلہ میں ابن عبدالھادی کے حوالے سے لکھا ہے۔ ۴۴؂
’’حدیث یا کسی واقعہ کی اعلی صحت کا مدار صرف اس بات پر مبنی ہوتا کہ وہ فلاں کتاب میں ہے بلکہ اعلی صحت کا معیار اور دارومدار شروط صحت پر ہے جس قدر شروط صحت اور منھج اعلیٰ درجے کا ہوگا،روایات اور واقعات کی اسنادی حالت بھی ااسی قدر ہوگی۔۴۵؂
البتہ اس بات کا اضافہ کیا ہے کہ الاحادیث المحتارہ میں غلطیاں بہت تھوڑی ہیں اور ان کی تصحیح حاکم کی تصحیح کی مانند نہیں ہے کیونکہ حاکم کی مستدرک میں موضوع اور من گھڑت روایات بھی کافی مقدار میں ہیں اس وجہ سے حاکم کا استدراک اس مقام کو حاصل نہ کرسکا بلکہ وہ اس درجے سے بہت نیچے چلے گئے۔
علامہ عبد الحی لکھنویؒ نے الاجوبۃالفاضلہ میں حاکم کے استدراک پر علامہ عینیؒ کا کلام نقل کیا ہے۔
’’قَدْعُرِفَ تَسَاھَلُہٗ‘‘۔ ۴۶؂
حاکم کا تساھل معروف اور مشہور ہے۔ نیز ضیاء المقدسیؒ کے استدراک پر تعریفی کلمات کہے ہیں۔۴۷؂
اس ضمن میں علامہ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں:
’’وَھُوَاَجْوَدُ مِنْ مُسْتَدْرَکِ الْحَاکِمَ لَوْکَمُلَ وَفِیْہِ عُلُوْمُ حَدِیْث‘‘۔ ۴۸؂
ضیاء المقدسی کی کتاب علوم حدیث کا ذخیرہ ہے اور یہ حاکم کی مستدرک سے کئی گناہ زیادہ عمدہ اور اعلی ہے۔ ان تین مثالوں سے یہ خوب واضح ہواکہ روایات اور واقعات کی صحت کا دارومدار منھج اور شرائط کی صحت پر ہے،اگر منھج اور شروط اعلیٰ ہوں تو مرویات اور واقعات بھی صحت میں اس قدر اعلیٰ اور اثبت ہوں گے۔۴۹؂
اگر منھج میں نقص اور کمزوری ہویا منھج اعلیٰ ہو لیکن تطبیق اور روایات کو نقل کرتے ہوئے تساہل اور غفلت ہوجائے تو اس سے کتاب کا منھج اورمؤلف کی شروط فضول اور بے فائدہ ٹھہرتی ہیں۔ ان مثالوں سے اور پچھلے کلام سے یہ بات اظہر ہے کہ منھج اور شروط کی اہمیت علماء کے نزدیک بہت زیادہ ہے خواہ اس منھج کی تصریح مؤلف خود کردے یا بعد کے علماء کریں بصورت دیگر انسان کتاب کو سمجھنے میں اس کے اسلوب کی معرفت میں غلطی کا شکار ہوجاتاہے اور پھر توجیح القول بمالا یَرْضی بہ القائل کا مرتکب ہوتاہے جو کہ علمی دنیا میں بہت بڑی فحش غلطی اور خطاء ہے۔علماء کے نزدیک مناھج اور شروط کی بحث انتہائی افادیت کی حامل ہے۔مناھج اور شروط کے واضح ہونے سے قاری کیلئے آسانی ہوجاتی ہے،شروط اور مناھج کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ جب قاری یا باحث کسی کتاب کا مطالعہ کرے اور اس کا اسلوب اور منھج اس کے علم میں ہو تو اس کتاب سے استفادہ آسان اور نہایت ہی کار آمد ہوجاتاہے۔اور انسان بقدر ضرورت مقررہ کتاب سے استفادہ کرتے ہوئے اس پر نقداور اضافہ بھی کر سکتاہے جیسے کہ علماء اصول اور علماء اھل السیر نے محدثین کی کتب کے مناھج پر خوب استقراء کیا ہے،غورو فکر کرنے کے بعد ان کے روایات کو لینے کا طریقہ،اخذ روایت،کس قسم کی مرویات کو بطور دلیل اور حجت سمجھتے ہیں،اور کس قسم کی مرویات سے اعراض کرتے ہیں اورکونسی روایات ان کی شروط اور منھج کے مطابق ہیں اور کونسی ان کی شروط پر نہیں ہیں۔
اس تحقیق اور تفتیش کا علمی فائدہ یہ ہوا کہ ناقد علماء نے کچھ کتب کے مناھج کا استقراء کیا،اس کے بعد جب ان کی تحقیق مکمل ہوئی تو ان کو بعض ایسی مفید اور نہایت ہی قیمتی معلومات حاصل ہوئیں،جو اس سے قبل ان کے احاطہ علم میں نہ تھیں،اور جہاں انھوں نے ایسی مرویات کو پڑھا جو مؤلف کی شروط سے جدا تھیں وہاں انھوں نے نقد بھی کیا،اور یہ نقد بعض دفعہ عین اصول اور قواعد کے مطابق تھا اور بعض دفعہ نقد محض فنی تھا۔مثال کے طور پر صحیحین کی صحت پر پوری امت کا اجماع ہے، علامہ ابن صلاحؒ علوم الحدیث ۵۰؂ میں اور علامہ نووی نے مقدمہ صحیح مسلم۵۱؂میں اور حافظ ابن حجر ؒ نے ھدی الساری میں بیان کیا ہے ۔۵۲؂
وہ لکھتے ہیں کہ بخاری ومسلم کی تمام مرویات کی صحت پر پوری امت کا اجماع اور شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ میں رقمطراز ہیں کہ جو صحیحین کی عظمت اور صحت کا انکار کرے وہ اہل السنہ میں سے نہیں ہے کیونکہ پوری امت کا صحیحین کی احادیث کی صحت پر اجماع ہے۔۵۳؂
البتہ تیسری اور چوتھی صدی میں حافظ دار قطنیؒ ،علامہ ابو علی غالی،خطیب بغدادی نے صحیحین کی چند مرویات پر نقدکیا۔۵۴؂ اور امام دار قطنیؒ نے اس سلسلہ میں الالزامات والتتبع لکھی۔۵۵؂
اس بحث کا بہترین خلاصہ حافظ ابن حجرؒ نے ھدی الساری میں کیا ہے۔اور جن احادیث پر دار قطنی ؒ وغیرہ نے اعتراض کیا ان کا تسلی بخش جواب دیا ہے اگرچہ بعض جوابات میں نرمی کا مظاہرہ کیا ہے۔حافظ ابن حجرؒ ھدی الساری میں لکھتے ہیں :صحیحین کی جن مرویات میں اختلاف ہے ان کی کل تعداد110ہے، 32صحیح بخاری کی جبکہ 78صحیح مسلم کی مرویات ہیں ،اس کے بعد علامہ نوویؒ کا کلام نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ صحیحین کی تمام مرویات کی صحت پر امت کا اجماع ہے، سوائے ان روایات کے جن پر حافظ دارقطنی نے اعتراضات کیے ہیں اور دوسرے مقام پر فرماتے ہیں کہ حافظ دارقطنیؒ وغیرہ کے اعتراضات انتہائی ضعیف اور کمزور قواعد پر مبنی ہیں جو سراسر جمہور کے مخالف ہیں۔ ۵۶؂
حافظ ابن حجر ؒ ان اعتراضات کے بارے میں علی بن مدینی ؒ کا اثر پیش کرتے ہیں کہ امام بخاری ؒ فرماتے ہیں جب ان کو صحیح بخاری پہنچی تو انھوں نے اس کی تحسین کی حالانکہ وہ علل کے ماہر تھے انھوں نے یہ اعتراضات نہ کیے۔ اسی طرح صحیح مسلم بھی امام مسلمؒ نے ابو زرعہ ؒ پر پیش کی تو انھوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔۵۷؂
اور اگر ان اعتراضات پر غور کیا جائے تو علماء کے نزدیک یہ فنی اعتراضات ہیں کہ فلاں روایت جو شیخین نے ذکر کی ہے وہ ان کے منھج پر نہیں ہے۔صحت کے ضعف کا کوئی قائل نہیں ہے۔۵۸؂ جیسے کہ احمد شاکر ؒ نے الباعث میں لکھا ہے۔۵۹؂
اس بحث سے ہمارا مقصور صرف اتنا ہے کہ جن حضرات نے اعتراضات کیے،ان کا استقراء تام تھا،انھوں نے مکمل شیخین کے منھج کو پڑھا،اخذ کیا اور پھر اس پر نقد کیا ہے اگرچہ اس نقد کی بعض اہل علم کے ہاں قدر ہے اور بعض اہل علم اس کی قدر نہیں کرتے لیکن یہ ایک تحقیقی کام ہواہے۔اسی طرح حافظ ذھبیؒ نے مستدرک حاکم کی تلخیص کی ہے اور اس پر اچھا خلاصہ اور نقد بھی پیش کیا ہے،جو منھج کی افادیت پر منہ بولتا ثبوت ہے۔
علامہ یاسر الشمالی’’الواضح ‘‘میں رقمطراز ہیں:
مناھج اور شروط کا اہتمام اور علماء اصول اور سیر کی تبویب اور تصانیف کی معرفت ،یہ طلبہ اور محققین کے لیے انتہائی مفید ہے،اور ان کے سامنے ان مناھج کو پڑھ کر یہ فکر واضح ہوتی ہے کہ محد ثین اور اہل سیر کے نزدیک کتب کی تالیف محض بے مقصد نہ تھی بلکہ وہ اپنی کتب کو لکھتے وقت چند قواعد اور ضوابط کا اہتمام کرتے تھے،تاکہ بعد میں آنے والوں کے لیے پڑھنے میں دقت نہ ہو،اس ساری بحث سے طلبہ اور محققین کو یہ بھی فائدہ ہوگا کہ علماء کے نزدیک مناھج اور شروط کے اہتمام میں فرق پایاجاتا ہے۔ لہٰذا جب شروط اور منھج میں فرق ہوگا توصحت روایات میں بھی فرق ہوگا۔۶۰؂
خلاصہ کلام:
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ متقد مین اور متأخرین علماء خواہ ان کا تعلق فن حدیث سے ہو یا تاریخ اور سیر سے ہو تمام کے نزدیک شروط اورمناھج مسلمہ تھے۔ انھوں نے کتب کی تالیف اور تصانیف میں جن خاص امور کا اہتمام کیا،یا تو سردست کتاب کے مقدمہ میں اپنی شروط اور منھج کو درج کیا،یا علیحدہ سے کسی کتابچے میں اپنے اسلوب کی وضاحت کردی اور جن علماء نے اپنے اسلوب کی وضاحت نہیں کی متأخرین علماء نے ان کی کتب کا مکمل طور پر مطالعہ کیااور ان کے مناھج اور اسلوب کو واضح کیا،متقدمین میں امام ابو داؤد کا رسالہ ابی داؤد الی اہل مکہ اور ابن حبان کی صحیح ابن حبان اور علامہ ابن خلدون کا مقدمہ ابن خلدون ۔متقدمین اہل حدیث اور اہل سیراور مؤرخین کے نزدیک مناھج اور شروط کی اہمیت پر دلیل قاطع ہیں۔ان حضرات نے حدیث،سیر،تاریخ اور مغازی کے علوم میں مختلف قسم کے قواعد اور ضوابط کا اہتمام کیا نیز ان قواعد میں روایات اور واقعات کی اسانید اور متون کی جانچ پرکھ کرنے کے ساتھ ساتھ خارجی قرائن کابھی اعتبار کیا گیا تھا،اور ان کا اسلوب خالص ناقدانہ اور محققانہ اصولوں پر مبنی ہے۔
جبکہ متأخرین علماء میں سے علامہ حازمی کی شروط الائمہ الخمسہ جوکہ علامہ چلبی صاحب کشف الظنون کے نزدیک متأخرین علماء میں اس فن کی پہلی کتاب ہے۔۶۱؂ اسی طرح علامہ طاہر مقدسی کی شروط الائمہ الستہ جوکہ کتب ستہ کی شروط اور مناھج کی تفصیل پر مبنی ہے۔اس طرح حافظ ابن حجرؒ ،ھدی الساری، علامہ یاسر الثمالیؒ کی الواضح فی مناھج المحدثین ،دکتور رضا احمدی کی منھج المحدثین بین نظریۃ المنھج و تاریخ العلوم،دکتور رفعت فوزی کی المدخل الی مناھج المحدثین، اسی طرح علامہ سیوطی کی الحاوی للفتاوٰی ،علامہ سخاوی کی الاعلان باالتوبیخ، اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے نیز شروط اور مناھج ،روایات اور واقعات کی صحت پر مؤثر ہوتے ہیں اگر منھج اعلیٰ اور اثبت ہوتومرویات اور قصص کی صحت بھی اعلیٰ اور اثبت ہوگی،اور مناھج کی افادیت میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ جب تک کسی کتاب کا منھج واضح نہ ہو اس وقت تک قاری اور باحث اس سے کما حقہ استفادہ نہیں کرسکتاہے،بصورت دیگر شارحین کتب، شروط اور مناھج سے ناواقفیت کی بناء پر کتاب کی وہ توضیح اور تشریح کرتے ہیں جو مؤلف کے انداز سے بالکل مختلف اور جداگانہ ہوتی ہے۔
حوالہ جات وحواشی
۱۔ الجرجانی،علی بن محمد ،التصریفات،مکتبہ ،دارالکتاب العربی ،بیروت ،۱۴۰۵ ھ، جلد:۱ ص:۱۶۶
۲۔ ڈاکٹر وھبہ الزحیلی،اصول الفقہ الاسلامی،دارالفکر بیروت ،۱۴۰۹ھ،ج:۱،ص:۹۸
۳۔ رفعت فوزی،المدخل الی مناھج المحدثین،دارالسلام،۱۴۱۹ھ،ص:۸۔۹
۴۔ علامہ سلیم اللہ خان،کشف الباری ،مکتبہ فارقیہ، کراچی، ص:۱۶،ج؛۱
۵۔ ابو داؤد ،سلیمان بن الاشعث،رسالۃ الی اھل مکۃ، المکتب الاسلامی ،بیروت ،طبعہ ثالثہ،۱۴۰۵ھ
۶۔ ابو الحسنات،عبد الحیی لکھنوی،الاجوبۃ الفاضلہ للاسئلۃ العشرۃ الکاملۃ ،مطبوعات الاسلامیہ، بیروت،ص:۹۲
۷۔ الامیر علاء الدین علی بن بلبان،ا الاِحسان فی ترتیب صحیح ابن حبان،دار الکتب العلمیہ بیروت،الطبعۃ الاولی ۱۴۶۰ھ ،ص:۵۰
۸۔ مقدمہ ابن صلاح ْ لابن صلاح،المکتبۃ العلمیہ ،بیروت ،الطبعۃ الاولی۱۹۳۱ م،ص ۳۳۴
۹۔ ابو داؤد سلیمان بن الاشعث،رسالۃ ابی داؤد،المکتبۃ الاسلامی،ص۲۴
۱۰۔ حافظ ابن حجر نے ھدی الساری میں جو کہ مقدمہ فتح الباری اس میں یہ تمام مباحث کیے ہیں
۱۱۔ رفعت فوزی عبد المطلب،المدخل الی مناھج المحدثین،دارالسلام ریاض ،۱۴۲۹ھ ص:۱۱
۱۲۔ ایضاً
۱۳۔ بنی اسرائیل:۳۶
۱۴۔ ابن صلاح، علوم الحدیث المکتبۃ العلمیہ بیروت ،الطبعۃ الاولی، ص؛۳۳۴ 
۱۵۔ ابن خلدون ، عبدالرحمن بن خلدون ، مقدمہ ابن خلدون موقع الوراق،س ط ندارد،ص؛۱۸
۱۶۔ رضا احمد، منھج المحدثین بین نظریۃ المنھج و تاریخ العلوم، مکتبہ صید الفوائد (شاملہ) 
۱۷۔ سورۃ الانفال: ۴۲
۱۸۔ العسقلانی ابن حجر، النکت ؛ ج؛۱،ص؛۵۵۱
۱۹۔ الذہبی،محمد بن احمد،الموقظہ،دار ابن جوزی ،الطبعۃ الاولی،ص؛۷۵ 
۲۰۔ الشافعی محمد بن ادریس، الرسالہ، الحلبی ۱۴۸۳ھ، ص۴۶۵۔۴۶۷
۲۱۔ ابن کثیر ،محمد بن اسماعیل ، اختصار علوم الحدیث ، دارالکتب العلمیہ، بیروت، الطبقۃ الاولیٰ، ص:۲۸
۲۲۔ دکتور محمود طحان، تیسیر مصطلح الحدیث، مرکز الھدی الاسکندریہ ۱۴۱۵ھ ، الطبعۃ السابعہ، ص:۳۴
۲۳۔ العسقلانی ابن حجر، النکت۔ج1ص:۲۸۰
۲۴۔ ایضا ص؛۲۷۷
۲۵۔ نووی، یحیٰ بن شرف، تہذیب الاسماءء واللغات، الطباعۃ المیزہ ج:1،ص:۷۳
۲۶۔ العسقلانی ابن حجر، النکت ج1،ص:۲۷۶
۲۷۔ ایضاً ج1،ص:۳۲۵
۲۸۔ ابن صلاح، علوم الحدیث، ص:۱۷
۲۹۔ العسقلانی ، النکت ج1،ص:۲۸۱،۲۸۰
۳۰۔ الکتانی، محمد بن جعفر، الرسالۃ المستطرفہ، مکتبہ دار البشار الاسلامیہ بیروت ۱۹۸۶ء ، ص:۱۰، سن ندارد
۳۱۔ ایضاً
۳۲۔ ابن عبدالبر ، یوسف بن عبد اللہ، التمھید لما فی المؤطا من المعانی والاسانید، مؤسسۃ القرطبہ، بغداد، مقدمہ ص:۹
۳۳۔ ابن صلاح، علوم الحدیث،ص:۲۲
۳۴ ۔ العسقلانی، ابن حجر ،النکت علی ابن صلاح ،ج؛1،ص:۳۱۵
۳۵ ۔ العسقلانی، ابن حجر ،النکت علی ابن صلاح ج:۱،ص:۳۱۸
۳۶ ۔ ابن کثیر، اختصار علوم الحدیث، ص:۵۲
۳۷۔ ابن حجر، النکت ج:۱،ص:۳۱۲
۳۸۔ ابو شھبہ محمد بن محمد، الوسیط فی علوم ومصطلح الحدیث، عالم المعرفہ جدہ ، ص:۲۴۱
۳۹۔ ابن کثیر، اختصار علوم الحدیث،ص؛۲۴
۴۰۔ تدریب الراوی ج1،ص:۱۴۴
۴۱۔ المقدسی، ضیاء الدین، محمد بن عبدالواحد، الاحادیث المختارۃ ، مکتبۃ الاسوی، مقدمہ التحقیق ،عبداللہ دھیش ،ص:۲۳
۴۲۔ الکتانی، الرسالہ ص:۱۶
۴۳۔ الکتانی، الرسالہ ص:۱۶
۴۴۔ لکھنوی، محمد عبدالحیی، الاجوبۃ الفاضلۃ، مکتبہ الرشید ، الطبعۃ الثانیہ ، ص:۱۰۴
۴۵۔ عراقی،عبدالرحیم ،الحسین،شرح الفیہ العراقی، سن۔ندارد ص؛۱۶ 
۴۶۔ الاجوبۃالفاضلہ ،للعبدالحی،ص؛۸۷
۴۷۔ الوسیط لابی شعبہ،ص:۲۵۰
۴۸۔ اختصار علوم الحدیث،ابن کثیر،ص:۲۶
۴۹۔ کشف الباری مقدمہ ج؛۱ ص: ۱۸۹
۵۰۔ ابن صلاح، علوم الحدیث ص:۲۸
۵۱۔ النووی یحیٰ بن شرف، مقدمہ شرح النواوی علی صحیح مسلم ،شکاۃ الاسلامیہ، ص:۱۶، سن ندارد
۵۲۔ ھدی الساری لابن حجر ، ص:۳۴۴
۵۳۔ ولی اللہ، احمد بن عبدالرحیم، حجۃ اللہ البالغۃ، ادارۃ الطباعۃ المیسر۱۳۵۲۰،صؒ :۲۹۷
۵۴۔ ھدی الساری لابن حجر، ص:۳۴۴
۵۵۔ دار قطنی، ابوالحسن علی بن عمر، الالزامات والتتبع، دارالکتب العلیۃ، جسکی تحقیق مقبل بن ھاری نے کی۔
۵۶۔ ھدی الساری لابن حجر، ۳۴۵۔۷۵
۵۷۔ مقدمہ صحیح مسلم للنواوی، ص:۱۹،۱۶
۵۸۔ الوسیط لابی شعبہ،ص:۲۵۷
۵۹۔ احمد شاکر،الباعث الحثیث،شرح اختصار علوم الحدیث،مکتبۃ دارالسلام الریاض،الطبعۃ الثالثہ،۱۴۲۱ھ،۲۰۰۰ء،ص:۴۵
۶۰۔ علامہ یاسر الشمالی، الواضح فی مناھج الحدثین، الطبعہ الثالثہ دارالحاصل، ص:۹
۶۱۔ حاجی خلیفہ، مصطفی بن عبداللہ، کشف الظنون عن اسامی الکتب و الفنون، دار احیاء التراث العربی، ج:۲،ص:۵۴ 
*****