مفاتیح الغیب میں امام رازی کے منھج کا تنقیدی مطالعہ

##plugins.themes.academic_pro.article.main##

M Mahmood ul Hassan Shah
Dr. Sajid Iqbal

Abstract

Imam Fakhr ul Din Muhammad Al Razi was one of the greatest 12th century persian Islamic scholar, polymath and theologian. He was a sunni, Ashari and Shafii as well as a philosopher and logjician. His greatest accomplishment is Mafatih al Ghayb ( Keys to the unknown); an exegesis of the Quran that is apprised by the scolars one of the best Quranic commentary that defends Islamic traditional thoughts and refutes theroies and arguments of old dissenting sects with logical rationality. Ergo, this book is vastly considered an exegesis that was mainly written on the basis of rationalism. However, irrespective of believing it, there are ample proofs to justify that this book not only deals rationally with theological challenges of that era but protect Islamic theology with traditional tools as well. its very methodology is non-traditional but, nonetheless, is perfectly essential to answer this critical present time as well as its author's crucial epoch.

##plugins.themes.academic_pro.article.details##

How to Cite
Shah, M. M. ul H., & Dr. Sajid Iqbal. (2022). مفاتیح الغیب میں امام رازی کے منھج کا تنقیدی مطالعہ. Al Qalam, 27(1), 43-64. https://doi.org/10.51506/al qalam.v27i1.1616

References

1 (i) تفسیر الفخر الرازی المشتھرباالتفسیر الکبیر و مفاتیح الغیب ، علامہ فخرالدین محمدا لرازی رحمہ اللہ ، مطبوعہ
دارالفکر ، الطبعۃ الاولیٰ ۲۰۰۵، بیروت ، لبنان ، ج ٍ۱، ص ۵
(ii) الامام فخر الدین الرازی حیاتہ و آثارہ ، الدکتور علی محمد حسن العماری ، الکتاب الثالث :۱۳۸۸ ھ /۱۹۶۹ء
الاہتمام : الجمھوریۃ العربیۃ المتحدۃ ، المجلس الاعلیٰ للشؤن الاسلامیۃ اللجنۃ العامۃ للقرآن والسنۃ، ص۱۱۔۱۲
(iii) البدایۃ والنھایۃ ، الامام الحافظ المورخ ابو الفداء اسماعیل بن کثیر رحمہ اللہ ، مطبوعہ دارابن کثیر
الطبع الثانی۲۰۱۰ ، دمشق سوریا (شام ) ، ج ۱۵،ص۳۴
(i) تفسیر الفخر الرازی ، علامہ الرازی ، ج ۱ ص۱۲۔۱۳
(ii) حیاتہ وآثارہ ، العماری ، ص۲۰۹۔۲۱۳
حیاتہ وآثارہ ، العماری ، ص۲۰۲
البدایۃ والنہایۃ ، ابن کثیر ، ج ۱۵، ص ۳۵
البحر المحیط فی التفیسر ، ابو حیان محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان اثیر الدین الاندلسی (المتوفی ۷۴۵ھ)
الطبعۃ:۱۴۲۰ھ ، دارالفکر ، بیروت ، ج ۱، ص ۵۴۷
الاکسیر فی علم التفسیر ، سلیمان بن عبدالقوی بن عبدالکریم الصرمری البغدادی الطوفی (المتوفی ۷۱۶ھ/ ۱۳۱۶ء ) سنۃ الطبع :
۱۴۰۹ھ/۱۹۸۹ء ، مکتبہ دارالاوزاعی ، بیروت ، لبنان ، ص: ۵۵
ترجمان القرآن ، ابوالکلام آزاد ، اسلامی اکیڈمی، الفضل مارکیٹ ، اردو بازار ،لاہور ، ج ۱، ص ۴۷
مرأۃ الجنان ، امام الیافعی، ج۴، ص۷
کشف الظنون عن اسامی الکتب والفنون، مصطفیٰ بن عبداللہ القسطنطینی المشہور باسم حاجی خلیفہ او الحاج خلیفۃ (المتوفیٰ ۱۰۶۷ھ)
تاریخ النشر ۱۹۴۱ء ، الناشر: مکتبۃ المثنی بغداد ، ج۱، ص۴۲۷
تبیان القرآن ، علامہ غلام رسول سعیدی ، الطبع السادس ، ۲۰۱۱ء فرید بک سٹال اردو بازار لاہور ، ج ۱۲، ص ۵۹۵
مذاہب التفسیر الاسلامی ، اجنتس جولد تیسہر ، مترجم : دکتور عبدالحلیم النجار ، طبع ۱۹۵۵ء ،الناشر: مکتبہ الخانجی بمصر، ص ۱۴۶
علوم القرآن ،شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد تقی عثمانی ، طبع جدید مئی ۲۰۱۸ء ، مکتبہ دارالعلوم کراچی ، ص ۵۰۳
(i) حیاتہ و آثارہ ، العماری ، ص۱۶۱۔۱۸۷
(ii) تبیان القرآن ، علامہ سعیدی ، ج ۱۲، ص ۵۹۴۔۔۵۹۵
لسان العرب ، علامہ ابوالفضل جمال الدین محمد بن مکرم ابن منظور الافریقی المصری، مطبوعہ دارالفکر ۱۴۳۶۔۔۱۴۳۷ھ/ ۲۰۱۵ء
بیروت لبنان، ج۲ ، ص۲۰۱
غیاث الدین ، غیاث اللغات ، ایچ ایم سعد کمپنی ، ادب منزل پاکستان چوک ، کراچی ، ص ۵۰۰
کتاب التعریفات ، علامہ علی بن محمد بن سید الزین ابوالحسن الحسینی الجرجانی الحنفی المتوفی ۸۱۶ھ ، ص ۱۹ ، مکتبہ رحمانیہ ، اقراء سنٹر ، غزنی سٹریٹ ، اردو بازار ، لاہور
تفسیر الفخر الرازی ، علامہ الرازی ، ج ۱ص۱۸
تفسیر الفخر الرازی ، علامہ الرازی ، ج۱۱ ص۱۸۲/۶۷۸۲
تفسیر الفخر الرازی ، علامہ الرازی ، ج۱ ص۱۲۲/۶۲۸
تفسیر الفخر الرازی ، علامہ الرازی، ج ۱۱ص۳۶/۶۶۳۶
تفسیر الفخر الرازی، علامہ الرازی ، ج ۱ص۴۳۸
تفسیر الفخر الرازی، علامہ الرازی ، ج۱ ص۴۳۹
تفسیر الفخر الرازی، علامہ الرازی ، ج ۱ص۴۴۰
تفسیر الفخر الرازی، علامہ رازی ، ج۱ ص۴۴۱۔۴۴۵
تفسیر الفخر الرازی، علامہ رازی، ج ۱ص۴۵۲۔۴۵۳
تفسیر الفخر الرازی، علامہ رازی ،ج ۱ص۴۴۶۔۴۴۷
تفسیر الفخر الرازی، علامہ الرازی ، ج ۱ص۴۴۸
تفسیر الفخر الرازی، علامہ الرازی ، ج ۱ص۴۴۹
تفسیر الفخر الرازی، علامہ الرازی، ج۱ ص۴۴۹۔۴۵۱
تفسیر الفخر الرازی، علامہ الرازی ، ج ۱ص۴۵۱۔۴۵۲
تفسیر الفخر الرازی، علامہ الرازی ،ج۱ ص۴۵۳۔۴۵۶
تفسیر الفخر الرازی، علامہ الرازی ،ج ۱ص۴۵۸۔۴۶۱
تفسیر الفخر الرازی، علامہ الرازی ، ج ۱ص۴۶۱۔۴۶۳
تفسیر الفخر الرازی، علامہ الرازی، ج۱ ص۴۶۳۔۴۶۸
تفسیر الفخر الرازی، علامہ الرازی ، ج ۱ص۴۰۸
تفسیر الفخر الرازی، علامہ الرازی، ج۱ ص۴۴۶
البحر المحیط ، ابو حیان الاندلسی، ج۱ ، ص ۵۴۷
کشف الظنون ،حاجی خلیفہ ، ج۱،ص۴۲۷
تفسیر الفخر الرازی ، علامہ الرازی، ج ۲ص۱۲۰/۱۵۰۲
تفسیر الفخر الرازی ، علامہ الرازی ،ج ۱۱ص۱۰۹/۶۹۴۹
(i) تفسیر الفخر الرازی ، علامہ الرازی ، ج ۱۱ص۶۶/۷۱۵۰
(ii) تفسیر الفخر الرازی ، علامہ الرازی ، ج۱۱ ص۱۰۹/۷۱۹۳
تفسیر الفخر الرازی ، علامہ الرازی ، ج ۱ص۱۲۱/۶۲۷
تفسیر الفخر الرازی، علامہ رازی، ج ۳ص۶۵/۱۶۵۷۔۶۷/۱۶۵۹
(i) تفسیر الفخر الرازی، علامہ الرازی، ج ۱ص۱۰
(ii) حیاتہ و آثارہ ، العماری ، ص۱۲۵۔۱۲۷
تفسیر الفخر الرازی ، علامہ الرازی ، ج ۱ص۲۱۲۔۲۱۵
تفسیر الفخر الرازی، علامہ الرازی ، ج ۱ص۱۰
حیاتہ و آثارہ ، العماری، ص۱۲۷
تفسیر الفخر الرازی، علامہ الرازی، ج ۱۱ص۱۸۱/۶۷۸۱
] ان جبریل جعل یدس فی فیی فرعون الطین خشیۃ ان یقول لا الہ الا اللہ فیرحمہ اللہ [ کہ جبریل فرعون کے منہ میں کیچڑ ڈال رہے تھے اس خوف سے کہ کہیں وہ لا الہ الا اللہ نہ کہہ دے اور نتیجۃ اللہ تعالیٰ اُسے معاف کردے ۔
تفسیر الفخر الرازی، علامہ الرازی، ج ۶ص۱۳۲/۳۶۰۲
(i) تفسیر الفخر الرازی ، علامہ الرازی، ج ۶ص۱۸۷/۳۶۵۷
(ii) تفسیر الفخر الرازی، علامہ الرازی ، ج ۶ص۹۰/۳۷۶۰
(iii) تفسیر الفخر الرازی، علامہ الرازی، ج ۱ص۱۲۲/۶۲۸
تفسیر الفخر الرازی، علامہ الرازی ، ج ۱ص۱۲۱/۶۲۷
تفسیر الفخر الرازی، علامہ الرازی ، ج ۱ص۱۰۔۱۱
تفسیر الفخر الرازی، علامہ الرازی، ج ۱۱ص۱۹۴/۷۰۶۲
حیاتہ و آثارہ ، العماری ، ص۱۳۰
تفسیر الفخر الرازی، علامہ الرازی ، ج ۱۱ص۶۶/۶۹۳۴
(i) تفسیر الفخر الرازی ، علامہ الرازی ، ج۱،ص۱۱
(ii) حیاتہ و آثار ، العماری ، ص۱۳۳۔۱۳۴
تفسیر الفخر الرازی ، علامہ رازی ، ج ۱۱ص۱۷۴/۷۲۵۸
تفسیرالفخرالرازی،علامہ الرازی، ج ۲ص۷۸۳ ۔ ۷۸۵ / ۲۳ ۔ ۲۴
تفسیر الفخرالرازی،علامہ الرازی، ج ۴ ص۲۳۸۲ ۔ ۲۳۸۴ / ۱۶۲ ۔ ۱۶۴
تفسیر الفخر الرازی ، علامہ الرازی، ج ۳ص ۱۶۵۵ ۔ ۱۶۵۹ / ۶۳ ۔ ۶۷
تفسیر الفخر الرازی، علامہ الرازی، ج ۳ص۱۶۶۵ ۔ ۱۶۶۸ / ۷۳ ۔ ۷۶
تفسیر الفخر الرازی، علامہ الرازی، ج ۳ص۱۶۶۵ ۔ ۱۶۶۸ / ۷۳ ۔ ۷۶
تفسیر الفخر الرازی ، علامہ الرازی، ج ۴ص۲۳۱۶ ۔ ۲۳۱۷ / ۹۶ ۔ ۹۷
تفسیر الفخر الرازی ، علامہ الرازی، ج ۳ص ۱۶۵۵ ۔ ۱۶۵۹ / ۶۳ ۔ ۶۷
تفسیر الفخر الرازی ، علامہ الرازی، ج ۱۰ص۶۵۸۶ ۔ ۶۵۸۷ / ۲۸۸ ۔ ۲۸۹
تفسیر الفخرالرازی،علامہ الرازی، ج ۹ص۵۶۰۷ ۔ ۵۶۰۹ / ۱۴۱ ۔ ۱۴۳
تفسیر الفخرالرازی،علامہ الرازی، ج ۴ ص۲۳۸۲ ۔ ۲۳۸۴ / ۱۶۲ ۔ ۱۶۴
تفسیر الفخرالرازی،علامہ الرازی، ج ۹ص۵۶۰۷ ۔ ۵۶۰۹ / ۱۴۱ ۔ ۱۴۳
تفسیر الفخر الرازی ، علامہ الرازی، ج ۱۰ص۶۵۸۶ ۔ ۶۵۸۷ / ۲۸۸ ۔ ۲۸۹
الموافقات ، الشاطبی ،ج ۱ص۳۰۹
الموافقات ،الشاطبی ، ج۱ ص ۳۰۹
الموافقات ، الشاطبی ، ج۱ ص۳۱۵ ۔ ۳۱۷
الموافقات ،الشاطبی ، ج ۱ص ۳۲۲
الموافقات، الشاطبی ، ج ۱ص۳۱۷
الموافقات ، الشاطبی ، ج ۱ص۳۲۳
جیسے نظم القرآن ،محمدﷺکی نبوت ،فضیلت،اور سید المرسلین ہونے پر “استدلالات”وغیرہ وغیرہ
مفاتیح الغیب میں سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۱۱۶ میں امام رازی نے واجب الوجود دو ہونے اور پھر غیر متناہیت کے ممتنع ہونے کی وجہ سے غیر متناہی اور دوسے زائد الٰہ ہونے کے ابطال اور ایک ہی واجب ہونے کے اثبات و‘‘استدلال’’کو جو کہ حدیث مذکورہ کا ایک طرح سے عقلی جواب بھی ہے ذکر کیا ہے۔
مفاتیح الغیب میں جا بجا معتزلہ ، مشبہ وکرامیہ اور باطنیہ کے نظریات کے مردود ہونے پر ‘‘استدلال’’کیاگیاہے
الموافقات ،الشاطبی،مع تعلیق شیخ عبداللہ دراز، ج ۱ ص۳۰۹
الموافقات ،الشاطبی،مع تعلیق شیخ عبداللہ دراز، ج ۱ ص۳۱۰
الموافقات ،الشاطبی، مع تعلیق شیخ عبداللہ رداز، ج ۱ ص۳۱۱
صحیح البخاری ، الامام ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ بن بردزبہ ، البخاری الجعفی (المتوفی ۲۵۶ھ)،سنۃ الطباعۃ ۲۰۱۷/۱۴۳۸ ، دارالکتب العلمیۃ (DKI) بیروت ، لبنان ، ص۶۰۰ رقم الحدیث ۳۲۷۶
صحیح مسلم،الام ابوالحسین مسلم بن الحجاج القشیری النیسا بوری المتوفٰی ۲۶۱ھ ، سنۃالطباعۃ :۱۴۳۷/۲۰۱۶،دارالکتب العلمیۃ (DKI)،بیروت ،لبنان، ص ۶۷، رقم الحدیث :۱۳۴
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ، الامام العلامہ بدر الدین ابی محمد محمود بن احمد العینی (المتوفی ۸۵۵ھ) ، کتاب المساقات ، باب من رأی ان صاحب الحوض او القربۃ احق بمائہ، الطبعۃ الثانیہ ، ۲۰۰۹، دار الکتب العلمیہ(DKI) ، بیروت ، لبنان ، ج ۱۵ص۲۳۵
(i) عمدۃ القاری، العینی ، ج ۱۵ص۲۳۵ ۔ ۲۳۶
(ii) شرح صحیح مسلم،الامام محی الدین النووی المتوفٰی ۶۷۶ھ ،الطبعۃ الخامسۃ: ۱۴۲۹/۲۰۰۸،جسر المطار ،شارع البر
جاوی،دارالمعرفۃ ،بیروت ،لبنان،ج:1،ص ۳۳۳۔۳۳۴