آیات عقائد کی تفسیر وتوضیح پر سائنسی علوم کے اثرات

Impacts of Scientific Knowledge on exegeses of Aayat related to Faith

  • Dr. M Latif Khan, Dr. Abdul Rehamn, Dr. Sajjad Ahmed Researcher
Keywords: Science, Exegeses, Tawheed, Risalat, Takween.

Abstract

Allah has created the whole Universe and declared human beings the best creature. Allah sent his messengers to guide human beings. In his guidance, the base is faith, which contains three basic grounds known as Tawheed, (توحید)Risalat (رسالت), and Aakhirat (آخرت). A large part of the Holy Quran contains Ayaat e Tawheed. In some Verses, Allah guides human beings by giving examples from the Universe. These verses are called Takweeni Verses. In explanation of these Verses the Mufass,ireen used the examples and termonologies of Everyday Science. In this article, we will discuss the impacts of Scientific Knowledge on exegeses of Verses related to Faith. Although Quran is not a book of science but some of His Verses contain the basic concepts of science as well, here a question arises, how far scientific knowledge impacts the exegeses of the Holy Verses? In this article, we will discuss in detail the verses related to Universe only. Though Verses in this regard are so many but we have selected only a few of them.

References

۔ تھانوی ، مولانا اشرف علی، بیان القرآن (ادارہ اسلامیات :لاہور،2002)، 72۔

Thānwy , Mūlānā Ašrf ʿlī , Bīān Al-ʾQurān, (Lāhore: Idara Islāmiate, 2002), 72

۔ حقانی ،مولانا عبدالحق ، فتح المنان ،دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک، ج۱، ص۵۴۔

Hqānī , Mūlānā ĀʿBdāl ḥaq, Fatḥ al-mnān, , Dārālʿlūm Hqānīh akūrẗ ẖtk(Dār āl āloom),1:54

۔ اعوان ، امیر محمد اکرم، تفسیر اسرار التنزیل ( دارالعرفان منارہ : ضلع چکوال،س۔ن)، ۱: ۲۔

Āwān, Tafsīr Asrār al-Tnzīl, (Dār-ul-Irfan Manara: District Chakwal, S.N.), 1:2.

۔ تخلیق، زندگی دینا، رزق دینا، موت دینا۔

۔ شفیع ، مفتی محمد، معارف القرآن (ادارۃ معارف: کراچی، س۔ن)،۱: ۶۵۔

Šhafī, Mufti Muhmmad, Mʿārf A l-Qrʾān (IDārā Mārif Karachi) 1:65

۔ تھانوی ، بیان القرآن ،۲۹۱۔

Thānwy , Bīān Al-ʾQurān , p:291

۔ تھانوی ، بیان القرآن ،۴۵۰۔

Thānwy , Bīān Al-ʾQurān , p:450

۔ تھانوی ، بیان القرآن ،۲۹۱، ۲۹۲۔

Thānwy , Bīān Al-ʾQurān , p:291,292

۔ تھانوی ، بیان القرآن ، ص۶۳۹۔

Thānwy , Bīān Al-ʾQurān , p:239

۔ اسے نیوٹن کا قانون تجاذب کہتے ہیں۔

۔ تھانوی ، بیان القرآن ،۶۴۰۔

Thānwy , Bīān Al-ʾQurān , p:640

۔ سورۃ البقرہ ۲:۱۶۴۔

Āl Baqaraẗ 2:162

۔ اعوان ، تفسیر اسرار التنزیل ، ۱: ۱۶۲۔

Āwān, Tafsīr Asrār al-Tnzīl, 1:162۔

۔ النباء ۷۸:۱۲۔

Al-Nabā 78:12

۔ تفسیر مفہوم القرآن ( دارالسلام: لاہور ، س،ن)،۱: ۶۲۔

Tafsīr Mfhūm Al-Qrʾan ( Dār āl Sālām )1:62

۔ مودوی ، مولانا، تفہیم القرآن (ادارہ خدام القرآن :لاہور،س۔ن)،۱:۳۶۔

Māudodi,Molana ,Tfhīm Al-Qrʾan (IDār Khudam Al-ʾQurān) 1:36

۔ تھانوی ، بیان القرآن ،۱۰۰۔

Thānwy , Bīān Al-ʾQurān , p:100

۔ تھانوی ، بیان القرآن ، ص۱۰۱۔

Thānwy , Bīān Al-ʾQurān , p:101

۔ تھانوی ، بیان القرآن ، ص۴۹۹۔

Thānwy , Bīān Al-ʾQurān , p:499

۔ آکسیجن گیس کے تین ایٹموں پر مشتمل مالیکیول کو اوزون کا نام دیا گیا ہے۔ یہ گیس سورج کی نقصان دہ زیریں سرخ شعاعوں کو زمین تک پہنچنے میں رکاوٹ بنتی ہیں۔زیریں سرخ شعاعیں اگر ننگی جلد پر پڑ جائیں تو جلد کے کینسر کا باعث بنتی ہیں۔

۔ میرٹھی، اسمٰعیل میرٹھی، کلیات اسمٰعیل (اکادمی ادبیات: اسلام آباد)، ۲۰۱۲ء، ۵۔

Mirāthi, Ismāil , Qulyāt Ismāil (Ādbiyat Islāmābād ),2012, 5

۔ آل عمران۳ :۱۹۰، ۱۹۱۔

aٓl ʿImrān, 3: 190-191

۔ تھانوی ، بیان القرآن ،۱۵۴۔

Thānwy , Mūlānā Ašrf ʿlī , Bīān Al-ʾQurān,p:152

۔ سورۃ البقرہ ۲:۲۹۔

Sūrẗ Āl Baqaraẗ 2:29

۔ ڈارون نے تین کتابیں تحریر کی ہیں جن کے نام درج ذیل ہیں:

Origin of Man, 2. Decent of Man, 3. Origin of Spicies

ان تینوں کتابوں میں سے کسی ایک میں بھی یہ بات نہیں لکھی ہوئی کہ انسان بندر کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ یہ بات ڈارون کے ماننے والوں میں سے کسی نے کہی تھی کہ انسان تِکنان بندر کی اولاد ہے کیونکہ بندر کی یہ قسم انسان سے ملتی جلتی ہے۔ ڈارون کے مخالفین نے یہ بات ڈارون سے منسوب کر دی اور مشہور ہو گئی۔

۔ دریابادی، مولانا عبدالماجد، تفسیر ماجدی(مکتبہ نشریات اسلام: کراچی ) ۸۴۔

Mājdi,Molānā Dāryā ābādi , Tafsīr Mājdi (Makātābā Nashriāt E islām Karachi) 86

۔ کاندھلوی ، محمد ادریس ، معارف القرآن (مکتبہ اشرفیہ: لاہور)۱: ۱۱۴۔

Kāndhlwy, Muḥāmād Idrīs , Mʿārf Al-qrʾan (Māktābā āshrāfiā Lahore) 1:112

۔ سورۃ الروم ۳۰:۴۸۔

Sūrẗ Al-rūm 28:30

۔ سورۃ فاطر ۳۵:۹۔

Sūrẗ fāṭr 35:9

۔ تھانوی ، بیان القرآن، ۱۰۰۔

Thānwy , Mūlānā Ašrf ʿlī , Bīān Al-ʾQurān,p:100

. The miracles of Quran, P 131.

. Common sense.

۔ علم طبیعیات کی شاخ میکانیات کی تقریباً ہر کتاب میں اس کا حوالہ موجود ہے اور ہر انسان خود بھی یہ تجربہ کر سکتا ہے کہ اوپر سے نیچے گرنے والی چیزوں کی رفتار ایک سیکنڈ میں ۸۱ء۹ میٹر ہوتی ہے۔ یہی چیز جب دو کلومیٹر اوپر سے گرائی جائے تو زمین پر پہنچتے ہوئے اس کی رفتار بڑھتے بڑھتے ۱۹۸ میٹر فی سیکنڈ ہو جاتی ہے۔ جو بات تجربہ سے معلوم کی جا سکے اس کا حوالہ مانگنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ ثابت کرو کہ سورج مشرق سے نکلتا ہے۔

۔ یہ common sense کی بات ہے اور ایسی باتوں کا حوالہ مانگنا ایسا ہی ہے جیسے یہ پوچھا جائے کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ دھوپ سورج سے آتی ہے۔

۔ سورۃ المؤمنون ۲۳:۱۸۔

Sūrẗ Al-muʾmnūn 23:18

۔ اعوان ، تفسیر اسرار التنزیل ، ۲: ۵۹۴۔

Ākrām Āmeer Mūḥammad , Tafsīr Asrār al-Tnzīl, 2:594

۔ سورۃ الذاریات ۵۱:۲۲۔

Sūrẗ Al-Zārīāt 51:22

۔ کاندھلوی ، معارف القرآن ،۱ :۹۲۔

Kāndhlwy, Muḥāmād Idrīs , Mʿārf Al-qrʾan 1:92

۔ سورۃ البقرہ ۲:۱۹۔

Sūrẗ Āl Baqaraẗ 2:19

۔ الازہری ، پیر کرم شاہ، ضیاء القرآن (ضیاء القرآن پبلیکیشنز: گنج بخش روڈ لاہور)،۱: ۳۸۔

Al-āzhri , Pīr krm šhāh, Dīāʾ Al-qrʾān (Dīāʾ Al-Qurān Publīkīšnz, Gnǧ bẖš rūd lāhūr (1:38)

۔ سورۃ البقرہ۲:۲۲۔

Sūrẗ Āl Baqaraẗ 2:22

۔ دریاآبادی، تفسیر ماجدی ، ۱: ۲۹۔

Dāryā ābādi , Tafsīr Mājdi (1:29)

۔ دریاآبادی، تفسیر ماجدی ، ص۳۰۔

Dāryā ābādi , Tafsīr Mājdi , 30

۔ دریاآبادی، تفسیر ماجدی ، ص۳۰۔

Dāryā ābādi , Tafsīr Mājdi , 30

۔ سورۃ البقرہ ۲:۲۱۔

Sūrẗ Āl Baqaraẗ 2:22

۔ پانی پتی، قاضی ثنا اللہ ، تفسیر مظہری( مکتبہ نشریات اسلام: کراچی س۔ن) ۱ :۳۵۔

Pāni Pāti ,Qāzi, Sānā ullāh,Tafsīr Mẓhrī (Māktābā Nāshriāt E Islām Karachi) 1:35

۔ حقانی، فتح المنان، ج۱، ص۳۳۴۔

Hāqāni, Fātḥ A l-Mnān,1:332

۔ تھانوی ، بیان القرآن ، ۴۹۸۔

Thānwy, Bīān Al-ʾQurān,p:100

۔ سورۃ آل عمران ۳:۲۷۔

Sūrẗ Al ʿImrān 3:28

۔ تھانوی ، بیان القرآن ،۱۰۷۔

Thānwy, Bīān Al-ʾQurān,p:107

۔ سورۃ الاسراء ۱۷:۱۲۔

Sūrẗ Al-āsrāʾ17:12

۔ تھانوی ، بیان القرآن ،۵۶۴۔

Thānwy, Bīān Al-ʾQurān,p:526

۔ سورۃ الفرقان ۲۵:۴۵۔

Sūrẗ Al-frqān 25:45

۔ تھانوی ، بیان القرآن ، ۷۱۸۔

Thānwy, Bīān Al-ʾQurān,p:718

۔ علت و معلول کے مطابق کائنات میں ہر ایک چیز کے ہر دوسری چیز پر اثرات پڑتے ہیں۔ جو چیز اثر ڈالتی ہے وہ آزاد متغیر جبکہ جس چیز پر اثر پڑتا ہے وہ تابع متغیر کہلاتی ہے۔

Published
2022-12-31
How to Cite
Dr. M Latif Khan, Dr. Abdul Rehamn, Dr. Sajjad Ahmed. (2022). آیات عقائد کی تفسیر وتوضیح پر سائنسی علوم کے اثرات. Al Qalam, 27(2), 1-24. https://doi.org/10.51506/al qalam.v27i2.1770