تکافل وقف ماڈل میں سرمایہ کاری کی شرعی حیثیت

Legal (Shraih) Status of Investment in Takaful Waqf Model

  • Dr. Saeed Ahmad, Faraz Ahmad Post Doctorate Fellow, International Islamic University, Islamabad, Pakistan.
Keywords: Economic Aspects, Business, Investment, Insurnace, Islamic Teachings, Takaful Models, Tabarru Model, Gift Model, Waqf Model

Abstract

The teachings of Islam are related to every aspect of human life. Economy has a fundamental position in human life. Even before the human existance on earth, the creator of the universe had created different patterns of livelihood for him. An important source of livelihood is trade and business. There are a large number of verses and Hadith in the Holy Quran & Sunnah of the Prophet (PBUH) regarding trade and business. Particuarly, the Transaction Chapter in the Hadith books has sufficient arugments regarding tradeand business. It elaborates that we have sufficnet teachings and proper guideline regarding trade and business. Also, mutual cooperation and assistance in human life is a natural phenomenon that has continued since ancient times in individual and collective forms. A slightly more modern and organized form of mutual support is known as insurance and takaful. In this article, a brief introduction to takaful and its investment methods will be discussed in the light of Islamic teachings.

References

البستانی، المعلم البطرس۔ محیط المحیط (بیروت، مکتبہ لبنان،1977ء) ، ص 356

Āl bstāni، āl mūʿalim āl baṭras۔ Mūḥyṭ āl Mūḥyṭ۔ (Berwt: Maktabah lūbnān,1977), 356

الصاغرجی، محمد سیداسعد ۔ الفقہ الحنفی وادلتہ ( پشاور: وحیدی کتب خانہ،س ن)، 37/2

Āl ṣāġrǧi، Muḥammad Sayyad Asʿsd ۔ āl fiqh āl Ḥanafi wā ādilatūḥū (Pišāwar: waḥydi Kūtūb H̱ānah, nd), 2/37

وھبۃ الزحیلی۔ الفقہ الاسلامی وادلتہ (بیروت: دار الکتب العلمیہ، س ن)، 132/5

Wabaẗ āl zūḥyli. āl fiqh āl āslāmi wā ādilatūh (Berwt: dār āl Kūtūb ālʿalamiyyah), 5/132

شہید، سید قطب۔ فی ظلال القران (بیروت: دارالفکر، 1979ء)،349/3

Sayyad Qūṭūb, Šaheed, fi ẓilāl āl Qūrān (Berwt: dār āl fikr, 1979), 3/349

عصمت اللہ، ڈاکٹر۔ تکافل کی شرعی حیثیت ( کراچی: ادارۃ المعارف،2014ء)، ص 73

ʿAṣmt ūllah, Dr. Takāfūl ki Šarʿi Ḥaiṯiyat (Karachi: ādāraẗ āl Maʿārf, 2014),p ۔ 73

الکہف 18: 10

Āl Kahf 18: 10

الرازی،محمد بن عمر ، التفسیر الکبیر ( بیروت: دار الکتب العلمیہ، س ن)، 83/21

āl Rāzi, Muḥammad bin ʿūmar, āl Tafsir āl Kabir (Berwt: dār āl Kūtūb ālʿalamiyah, nd), 21/83

النسآء 4: 71

Āl Nisāʾ 4: 71

المآئدہ5:2

Āl Māʾidaẗ 5: 2

عاقلہ عقل سے ہے بمعنی روکنا، عاقلہ کو عاقلہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس عمل سے قتل ناحق رک جائے۔

المرغینانی، علی بن ابی بکر۔ الہدایۃ ( بیروت : المکتبہ الاسلامیہ، س ن)، 645/5

Āl Marġināni, ʿali bin ābi bakr۔ āl Hidāyaẗ (Berwt : āl Maktabah āl āslāmiyah. Nd), 5/ 645

قسامہ میں پچاس قسموں کی تعداد توقیقی ہے یعنی قدیم زمانہ سے یہی رواج چلا آرہا تھا اور آپ علیہ السلام نے بھی اس عدد میں کوئی تبدیلی نہیں فرمائی اور اسے جاری رکھا قسامہ میں حنفیہ اور آئمہ ثلاثہ کا اختلاف ہے عند الاحناف قسامہ اولیاء مقتول تعین قاتل میں قسمیں اٹھائیں گے اور متعین کردہ قاتل پر دیت آجائے گی اولیاء مقتول کی قسموں سے انکار پر یا عدم لوث کی صورت میں قسامہ اہل محلہ پر ہوگی اور قسامہ کے بعد دیت ان پر فی کس کے حساب سے تقسیم ہوگی۔ دیکھیں نذیر احمد، مولانا، اشرف التوضیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ج2 ص533

حصکفی، علا وء الدین بن علی ۔ الدرالمختار شرح تنویر الابصار فی فقہ مذھب الامام ابی حنیفہ (بیروت: دار الفکر، س ن )، 638/6

Ḥaskafi, ʿalā wʾ āl dyn bn ʿali. āl Dūr āl Mūẖtār šarḥ Tanwir āl ābṣār fi fiqh e Maḏhab āl āmām ābi Ḥanifah (Berwt: dār āl fikr, nd), 6/ 638

ابن حجر، احمد بن علی ،فتح الباری شرح صحیح البخاری ( بیروت: دارالمعرفہ، س ن)، 129/5

Ābn e Ḥaǧar, Āḥmad bin ʿĀli, Fatḥ āl bāri šarḥ ṣaḥiḥ āl Būẖāri (Berwt: dār āl Maʿarif, nd), 5/129

ابوداؤد، سلیمان بن اشعث،السنن ( ریاض: دارالسلام، 1999ء)، کتاب الفرائض، باب فی الرجل یسلم علیٰ یدی الرجل

Ābū Dāwٔūd, Sūlaimān bin Āšʿaṯ. āl Sūnan۔ (Riaḍ: Dār āl Salām, 1999), Kitāb āl Farāiḍ, Bāb fi āl raǧūl Yaslim ʿalā Yadi āl raǧū

میت کے ترکات میں سب سے پہلے ذوی الفروض جن کے ترکہ میں حصص ازروئے شرع مقرر ہیں پھر عصبات یعنی میت کے ددھیالی رشتہ دار پھر ذوی الارحام یعنی میت کے ننھالی رشتہ دار آتے ہیں۔

عثمانی، شبیر احمد۔ فتح الملہم (کراچی: ادارۃ المعارف، 2009ء)، 559/4

ʿūṯmāni, Šabir Āḥmad۔ Fatḥ āl Mūlhim (Karachi: ādārat āl Maʿārif, 2009), 4/559

المرغینانی، علی بن ابی بکر۔ الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی ( بیروت : المکتبہ الاسلامیہ، س ن)، 646/5

Āl Marġināni, ʿali bin ābi bakr۔ āl Hidāyaẗ (Berwt : āl Maktabah āl āslāmiyah. nd), 5/ 646

ابن خلدون، مقدمہ ابن خلدون (دمشق، دار الشعب، س ن)، ص355

Ābn e H̱ūldwūn, Mūqaddimah (Damišq: dār āl Šaʿb, nd), 355

مفتی محمد شفیع،بیمہ زندگی )کراچی، مکتبہ دارالعلوم،2001ء(، ص28

Mūfti Mūḥammad Šafiʿ. Bimaẗ Zinadagi (Karachi: Maktabaẗ Darūl ʿūwūm, 2001),p 28

شریعت کے دائرے میں انشورنس (تکافل) کی صورت، ص327

Šariʿat ky Dairy main Insurance (Takaful) ki Ṣūwrat, 327

ابن خلدون، عبدالرحمان بن محمد۔ المقدمہ ( بیروت: دارالکتب العلمیہ، س ن)، ص 355

Ābn e H̱ūldwūn, Mūqaddimah (Damišq: dār āl Šaʿb, nd), 355

ARIL. ASEAN RETAKAFUL INTERNATIONAL LTD.

ملحم، ڈاکٹر احمد سالم،اعادۃ التامین وتطبیقاتہافی شرکات التامین الاسلامی ( اردن: دارالنفائس، 2004)، ص 50

Mūlḥim, Dr. Āḥmad Sālim. āʿādaẗ āl Tāmyn wa Taʿliqātihā fi Šarkat āl Tāmyn āl āslāmi. Jordan: Dār āl Nafāis, 2004. 50

روزنامہ،مینارہ نور، حیدرآباد، 26 مارچ، 2016

Rwznāmaẗ, Mināraẗ Nūwr, Ḥaidarabād, March 26, 2016

شریعت کے دائرے میں انشورنس (تکافل) کی صورت۔ ص230

Šariʿat ky Dairy main Insurance (Takaful) ki Ṣūwrat, 327

مثلاً پیڈ اپ کیپٹل کی مقدار، ٹیکسز کا طریقہ کار، کلیمز نہ ادا کرنے پر کلائنٹس کے تحفظات دور کرنے کا طریقہ وغیرہ۔

لجنۃ علماء برناسۃ نظام الدین بلخی۔ الفتاویٰ الھندیہ ( بیروت: دارالفکر، 1310)، 374/4

Lūǧnaẗ ʿūlmāʾ Barnāsaẗ, Niẓām āl Dyn Balẖi. āl Fatāwā āl Hindiyah (Berwt: Dār āl fikr,1310), 4/74

کمپنی عوام سے ان کی بچتیں مختلف پلانز آفر کر کے پریمیمPremium کی صورت میں اکٹھا کرتی ہیں۔

عصمت اللہ، ڈاکٹر، تکافل میں وقف کا کردار (کراچی: دارالاشاعت، س ن)، ص11

ʿA ṣmt ūllah, Dr. Takāfūl main Waqf kā Kirdār (Karachi: Dar āl Išaʿat, nd), p 11

سعید احمد، ڈاکٹر۔ ’’تکافل وقف ماڈل کی فقہی بنیادیں: تحقیقی و تنقیدی جائزہ ۔‘‘ )پی ایچ ڈی مقالہ ۔ جامعہ پنجاب ، لاہور۔ 2019ء)۔ ص 213۔

Saʿed Āḥmad, Dr. "Takāfūl Waqf Model ki Fiqhi Būnyādi: Taḥqiqi wo Tanqidi Jāizaẗ" (Dis. Phd, Univesity of the Punjab, Lahore. 2019),p 213

امام صاحب اور مالکیہ کے نزدیک شئی وقف پر واقف کی ملکیت برقرار رہتی ہے البتہ اس میں بیع وشراء وغیرہ کے تصرفات نہیں کرسکتی جبکہ جمہور کے نزدیک شئی وقف ملک للہ بن جاتی ہے اور واقف کی اس سے ملکیت زائل ہوجاتی ہے قال الشافعیؒ انہ لم یبق علی ملک الواقف ولا انتقل الی ملک غیرہ بل صار علی حکم ملک اللہ تعالیٰ لافیہ لاحد سواہ والا فالکل ملک اللہ والستحسن فی الفتح انہ حبس العین علی ملک الواقف فلایزول عنہ ملکہ لکن لایباع ولا یورث ولایوھب ابن عابدین، ردالمحتار،ج4 ص 338

PFT PARTICIPANT TAKAFUL FUND

عصمت اللہ، ڈاکٹر، تکافل میں وقف کا کردار )کراچی: دارالاشاعت، س ن(، ص18

ʿAṣmt ūllah, Dr. Takāfūl main Waqf kā Kirdār. Karachi: Dar āl Išaʿat, nd. 18

محمد ایوب۔ اسلامی مالیات (اسلام آباد: رفاہ سنٹر آف اسلامک فنانس، 2010)، ص 558

Mūḥammad Āyūwb۔ (Āslāmi Māliāt۔ Islāmāٓbād: Riphah International University, 2010), p 558

عصمت اللہ، ڈاکٹر۔ تکافل کی شرعی حیثیت ( کراچی: ادارۃ المعارف، 2010)، ص92

ʿAṣmt ūllah, Dr. Takāfūl ki Šarʿi Ḥaiṯiyat (Karachi: ādāraẗ āl Maʿārf, 2014), p ۔ 73

عبدالواحد، ڈاکٹر، مفتی۔ جدید معاشی مسائل اور مفتی تقی عثمانی کے دلائل کا جائزہ (کراچی: مجلس نشریات اسلام، 2008ء)، ص116 ، 126

ʿAbūl Wāḥid, Dr. Mufti. Jadeed Maʿāši Masāil (Karachi: Majlis Našaryāt e Islām. 2008), 116, 126.

صمدانی، ڈاکٹر اعجاز احمد۔ تکافل انشورنس کا اسلامی طریقہ ( لاہور: ادارہ اسلامیات، 2010ء)، ص115

Ṣamdāni, Dr. Iʿjaz Āḥmad. Takāfūl Insurance kā Islāmi Ṭariqaẗ (Lahore: Idāraẗ Islāmiyāt, 2010), p 115

عصمت اللہ، ڈاکٹر۔ تکافل کی شرعی حیثیت )کراچی: ادارۃ المعارف، 2010)، ص148

ʿAṣmt ūllah, Dr. Takāfūl ki Šarʿi Ḥaiṯiyat (Karachi: ādāraẗ āl Maʿārf, 2014), p ۔ 73

ابن ہمام، محمد بن عبدالواحد۔ فتح القدیر )بیروت: دارالکتب العلمیہ، 2002ء(، 420/5

Ibn e Hamām, Mūhammad bin ʿAbūl Wāḥid. Fathūl Qadyr (Berwt: Dar āl Kūtūb āl ʿalamiyyah, 2002), 5/420

الکاسانی، ابو بکر بن مسعود ، بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع ( بیروت: دارالکتب العلمیہ، 1986)، 146/5

Āl Kāsni, Ābūw Bakr bin Masʿwūd, Badāiʿ āl Ṣanāiʿ fi Tarteeb āl Šarāʿ (Berwt: Dar āl Kūtūb āl ʿalamiyyah, 1986), 5/ 146

جصاص، احمد بن علی، محقق: عبدالسلام محمد علی شاہین ۔ احکام القران ( بیروت: دارالکتب العلمیہ، 1994 ء)، 563/1

Ǧaṣāṣ, Āḥmad bin ʿĀli, edit: ʿAbūl Salām Mūhammad ʿAli Šāhyn. Āḥkām āl Qūrān (Berwt: Dar āl Kūtūb āl ʿalamiyyah, 1994), 1/563

قمار ہر وہ معاملہ ہے جو نفع ونقصان کے درمیان ہو اور غیرواضح ہو۔ قمار میں چار عناصر ہوتے ہیں۔ 1۔ عقد معاوضہ۔ 2۔ طرفین کی ملکیت خطرے میں ہونا۔ 3۔ زائد مال کا حصول احتمالی معاملے پر موقوف ہونا۔ 4۔ مال کا خطرے پر معلق ہونا۔

غرر کا معنی دھوکہ دہی، غلط امید دلانا اور اصطلاح میں غرر کا مفہوم یہ ہے: وہ خطرہ جس کا وجود اور عدم وجود برابر ہو۔ غرر کی چار شرائط ہیں۔ 1۔ غرر کثیر جو ذریعہ نزاع ہو۔ 2۔ غرر اصل عقد میں ہو۔ 3۔ غرر عقد مالیہ میں ہو۔ 4۔ غرر ضروری نہ ہو بلکہ اختیاری ہو۔ لہٰذا غرر یسیر اور عقود تبرع کا غرر شرعاً قابل برداشت ہے۔

Published
2022-12-31
How to Cite
Dr. Saeed Ahmad, Faraz Ahmad. (2022). تکافل وقف ماڈل میں سرمایہ کاری کی شرعی حیثیت. Al Qalam, 27(2), 266-283. https://doi.org/10.51506/al qalam.v27i2.1772